بریکنگ نیوز
Home / کالم / نا اہلی کا دفاع!

نا اہلی کا دفاع!


کیا سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی تاحیات نااہلی بیس کروڑ عوام کی توہین ہے؟میاں نوازشریف کا یہ تجسس اپنی جگہ درست ہے کہ یہاں عوام کا مینڈیٹ طالع آزماؤں کے ماورائے آئین اقدامات کے تحت تاراج کیا جاتا رہا ہے نتیجتاً وطن عزیز جو قائداعظم کی پرامن جمہوری جدوجہد کی بنیاد پر تشکیل پایا تھا اور جہاں آئین و قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کی عملداری ہی بانیانِ پاکستان اقبال و قائد کا وژن تھا‘ وقفے وقفے سے بتیس سال تک سرزمین بے آئین بن کر جرنیلی آمریتوں کی زد میں رہا جنہوں نے ملکی سلامتی اور قومی حمیت وآبرو سمیت سب کچھ محض اپنے مفادات کی خاطر داؤ پر لگا دیا اور ملک کے ازلی دشمن بھارت کیلئے اپنی اندرونی کمزوریاں ظاہر کرکے اسے ملک کی سلامتی کیخلاف سازشیں پروان چڑھانے اور ان سازشوں کو عملی جامہ پہنانے کا موقع فراہم کیا بدقسمتی سے جرنیلی آمروں کو ماورائے آئین اقدام کی سہولت ا سٹیبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرنیوالے مفاد پرست سیاستدانوں کی جانب سے ہی ملتی رہی ہے جو جرنیلی آمروں کے یکاوتنہاء اقتدار میں سے وزارتوں کے چند حقیر ٹکڑے وصول کرنے کی خاطر انہیں اپنے کندھے فراہم کرتے رہے اس معاملہ میں بلاشبہ ہماری عدالتی تاریخ بھی تابناک نہیں ہے اور نظریۂ ضرورت کے تحت جرنیلی آمروں کو آئینی تحفظ فراہم کرنا ہماری عدالتی تاریخ کے سیاہ اُوراق کا حصہ بن چکا ہے۔ میاں نوازشریف کی سیاسی زندگی کا آغاز بھی ایسے ہی حالات میں ہوا تھا تاہم انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ گٹھ جوڑ کے تحت ہونے والی محلاتی سازشوں کا بہت جلد ادراک‘ ملک اور سسٹم کو ان سازشوں کے چنگل سے نجات دلانے کا عزم کرلیا جسکی بنیاد پر وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کی علامت بن کر عوام کے مقبول رہنماؤں کی صف میں شامل ہو گئے۔

انہیں اپنی اس سیاست کی سزا صدر غلام اسحاق خان اور پھر جرنیلی آمر مشرف کے ہاتھوں گھر بھجوائے جانیکی صورت میں بھگتنا پڑی۔ غلام اسحاق خان نے انہیں آئین کی دفعہ اَٹھاون ٹو بی والے صوابدیدی اختیار کے تحت اور مشرف نے انہیں ماورائے آئین اقدام کے تحت اقتدار سے نکالا اور عمر قید کی سزا کے تحت جیل انکی باقی ماندہ زندگی کا ٹھکانہ بنادی۔ وہ اپنی جلاوطنی قبول نہ کرتے تو آج بھی مشرف آمریت کی دلائی گئی سزا کسی جیل میں بھگت رہے ہوتے‘نواز شریف پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر نااہل ہو کر تیسری بار اقتدار سے باہر آئے ہیں تو وہ اسے بھی عوامی مینڈیٹ کے تحت قائم ہونے والی سول حکمرانی کیخلاف اسٹیبلشمنٹ کے گٹھ جوڑ سے ہونیوالی محلاتی سازشوں سے تعبیر کررہے ہیں بلاشک و شبہ ہماری عدالتی تاریخ اتنی تابناک نہیں ہے مگر جرنیلی آمر کو چیلنج کرکے معطل ہونیوالے چیف جسٹس اور اسی جرنیلی آمر مشرف کے ہاتھوں گھر بھجوا کر پابند سلاسل کی جانے والی پوری عدلیہ کو سول سوسائٹی کی عوامی تحریک کے ذریعے بحال کرانے کا کریڈٹ بھی تو خود میاں نوازشریف نے لیا ہوا ہے جس کے بارے میں آج ان کا خیال ہے کہ ڈکٹیٹر کی طرح جج بھی ووٹ کی پرچی پھاڑ کر عوام کے ہاتھ میں تھما دیتے ہیں۔ نظریہ ضرورت کے باوصف اسی عدلیہ نے صوابدیدی آئینی صدارتی اختیار کے تحت گھر بھیجے گئے میاں نوازشریف کو بحال کرکے اقتدار کی مسند پر دوبارہ بٹھایا بھی تو ہوا ہے جبکہ اسی بنیاد پر عدلیہ میاں نوازشریف کے سیاسی مخالفین کے ان الزامات کی زد میں بھی آتی رہی ہے کہ میاں نوازشریف کیخلاف کبھی کوئی عدالتی فیصلہ صادر نہیں ہوا۔

اگر میاں نوازشریف آج بھی ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اور انصاف کی عملداری کی وکالت کررہے ہیں جسکا عملی مظاہرہ انہوں نے پانامہ کیس میں اپنے خاندان سمیت سپریم کورٹ اور اس کی بنائی گئی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر اور پھر اس کے فیصلہ کو تسلیم کرکے کیا ہوا ہے تو پھر انہیں اسٹیبلشمنٹ کیساتھ گٹھ جوڑ کے تحت منتخب سول حکمرانیوں کیخلاف ہونیوالی سازشوں میں عدلیہ کے بھی شامل ہونے کی بدگمانیوں کے اظہار کی کیا ضرورت ہے جبکہ ان کے اور ان کے خاندان کے لئے انصاف کی عملداری بھی عدلیہ کے ذریعے ہی ہونی ہے ابھی پانامہ کیس کے فیصلہ کیخلاف نظرثانی کی درخواست پر انکی نااہلی کی مدت کا فیصلہ بھی اسی عدلیہ نے کرنا ہے اور نیب مقدمات کا فیصلہ بھی اسی عدلیہ میں ہونا ہے مگر وہ لاہور آنیوالے اپنے کارواں کے دوران تقاریر کرتے ہوئے پانامہ کیس کا فیصلہ صادر کرنے والے پانچ فاضل ججوں کے بارے میں جو لب و لہجہ اختیار کررہے ہیں اس سے یہی محسوس ہو رہا ہے کہ وہ فوج کے ساتھ عدلیہ کے آئینی ادارے سے ٹکراؤ مول لینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ انہیں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہئے کہ اس ٹکراؤ کے نتیجہ میں اگر کسی کو خسارہ ہوگا تو وہ ان کی اپنی پارٹی کی منتخب حکومت ہوگی۔ (بشکریہ: ڈان۔ تحریر: ڈاکٹر شہیر ظہیر۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)