بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فاٹا جیل کے قیام کی تجویز دم توڑ گئی

فاٹا جیل کے قیام کی تجویز دم توڑ گئی


پشاور۔وفاقی حکومت کی طرف سے عدم دلچسپی اور فاٹا اصلاحات و انضمام کامعاملہ گرم ہونے کے بعدصوبہ میں افغان اورقبائلی قیدیوں کے لیے الگ جیل کامنصوبہ بھی دم تو ڑ گیاہے تاہم مذکورہ قیدیوں پر اٹھنے والے اخراجات طلب کیے جانے کی تجویز پر غور جاری ہے اس سلسلے میں ابتدائی طورپر صوبائی اسمبلی سے قرارداد منظورکرائے جانے کاامکان ہے۔

ذرائع کے مطابق گذشتہ سال کے ماہ مارچ کے دوران جب صوبہ کی مختلف جیلو ں میں قیدافغان اور قبائلی باشندوں کی تعداد ایک ہزار کے قریب پہنچ گئی تو صوبائی حکومت کی طرف سے فاٹاجیل کے قیام کی تجویز پر غور شروع کردیاگیا صوبائی حکومت کے ذرائع کے مطابق ان قیدیوں پر صوبہ کے اضافی لاکھوں روپے خرچ ہورہے ہیں جبکہ اس مدمیں وفاقی حکومت کی طرف سے کسی قسم کی ادائیگی نہیں ہورہی۔

صوبائی حکومت کامؤقف رہاہے کہ جب فاٹااور افغان مہاجرین کے تمام معاملات وفاق کے پاس ہیں تو پھر ان قیدیوں کی ذمہ داری بھی اسی کو اٹھانی چاہئے تاہم الگ جیل کی تجویز پر کسی قسم کی پیشرفت نہ ہوسکی اور اب صوبائی حکومت نے ان قیدیوں کے اخراجات کے حصول کے لیے وفاق سے صوبائی اسمبلی کی قرارد اد کے ذریعے مطالبہ کاعندیہ دیاہے واضح رہے کہ گذشتہ سال صوبہ کی جیلو ں بند قبائلی باشندوں کی تعداد 612جبکہ افغان قیدیوں کی تعداد 317تک پہنچ چکی تھی