بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / اندر کی بات

اندر کی بات

چودہ اگست کی سہ پہر زوال پذیر تھی کہ شاہی مسجد (لاہور) سے متصل علامہ محمد اقبال کے مزار پر حاضری دینے والوں کی فہرست میں میاں نوازشریف کا نام بھی درج ہوا۔ حاضری اور فاتحہ خوانی کے بعد اُنہوں نے مہمانوں کی کتاب میں ’سبز روشنائی‘ سے اپنے تاثرات لکھے (سبز روشنائی کا استعمال حب الوطنی کا استعارہ اور بطور فیشن رائج ہے‘ جو سیاسی حکمران سرکاری دستاویزات (احکامات) پر دستخط یا تاثرات لکھنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔) نواز شریف نے مزار اقبال پر حاضری سے متعلق اپنے تاثرات انگریزی زبان میں اپنا نام لکھتے ہوئے ختم کئے۔ ’’اہم شخصیات (قومی مہمانوں) کے تاثرات‘‘ پر مبنی یہ کتاب صرف اور صرف غیرملکیوں کے لئے رکھی جاتی ہے تاکہ وہ پاکستان کے بارے میں اپنی دانست‘ مطالعے اور مشاہدے کے مطابق عقیدت کا اظہار کر سکیں۔ بھلا ایسا کونسا پاکستانی حکمران ہوگا جو ’اقبال لاہوریؒ ‘ کو نہ جانتا ہو۔ ہمارے حکمران علامہ اقبالؒ کے علمی ادبی اور سیاسی مقام و خدمات کے بارے میں جو رائے بھی رکھتے ہیں‘ اِس سے زیادہ ضروری (اہم) بات یہ ہے‘ کہ وہ ’علامہ اقبالؒ ‘ کے فرمودات کو عملی جامہ پہنا کر دکھائیں افسوس کہ علامہ اقبالؒ کی یاد ہمیں صرف اس صورت ہی آتی ہے۔ جب ہم علمی‘ فکری اور سماجی طور پر کچھ بھی کرنے کے اہل نہیں رہتے تب اِقبال کے اشعار میں معانی تلاش کرتے ہیں! قوم اب اتنی بھی سوئی ہوئی نہیں کہ اُسے یاد نہ ہو کہ چار سالہ وزارت عظمیٰ کے دور میں ’نوازشریف‘ کو ایک مرتبہ بھی علامہ اقبالؒ کے مزار پر حاضری نصیب نہیں ہوئی یا انہوں نے اِسے ضروری نہیں سمجھا جبکہ اِس عرصے کے دوران اُن کی سیاسی جماعت ’’تختِ لاہور‘‘ پر قدم جمائے صوبہ پنجاب پر حکمرانی کے قریب تیس سال مکمل کر چکی ہے! پاکستان کے ’70ویں یوم آزادی‘ کے موقع پر نوازشریف ’’بلند اقبال‘‘ مزار پر حاضر ہوئے اور بعدازاں منتظر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ’پاکستان کے ستر سال‘ مکمل ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے بیان کے پہلے حصے میں کہا کہ ۔۔۔ ’’خوشی تو ہماری تب (جائز) ہوتی جب مشرقی پاکستان بھی (آج) ہمارے ساتھ ہوتا۔ ترقی میں پیش پیش ہوتا۔

مغربی پاکستان بھی ترقی میں پیش پیش ہوتا۔ وہ بازو کٹ کر چلا گیا بنگلہ دیش بن گیا اور یہ جو باقی بچا کچا حصہ (پاکستان) تھا اس میں پچھلے ستر برسوں کے دوران‘ ہم نے ’اِنتشار ہی اِنتشار‘ دیکھا ہے۔‘‘ دوسرے حصے کا بیان ’عدل و انصاف‘ سے متعلق تھا جس میں اُنہوں نے کہا کہ ۔۔۔ ’’(پاکستان میں) عدالتی انصاف کے لئے جو میری خواہش ہے وہ یہ ہے کہ جن غریب لوگوں کے پاس اپنے (آئینی) مقدمات کی پیروی کے لئے مالی وسائل نہیں ہوتے‘ ریاست ان کی مدد کرے اور (انصاف تک رسائی کے عمل میں) اُن کا بوجھ اٹھائے اور اُن کے مقدموں کے (فوری) فیصلے دِنوں میں ہوں‘ ہفتوں میں ہوں۔ یہ میری دیرینہ خواہش ہے جس کے ہمیں آئینی ترمیم کی ضرورت ہے۔‘‘ نوازشریف قریب 35سال سے سیاست اور پچیس برس سے براہ راست حکومت میں رہنے کے بعد اُنہیں اب معلوم ہوا ہے کہ عوام کو ’فوری انصاف‘ نہیں مل رہا۔ چودہ اگست کے روز ’مزار اقبالؒ ‘ پر وہ دل کی بات بھی کہہ دی‘ جو خطبات کے ’متن وجود‘ سے عیاں تھی! نواز شریف چاہتے ہیں کہ آئین میں ترمیم ہوکر عدلیہ سے یہ اختیار چھین لیا جائے کہ وہ سیاست دانوں کو کبھی بھی ’نااہل‘ قرار نہ دے سکے! پاکستان تقسیم در تقسیم ہے کیونکہ سیاست میں کبھی بھی اس قدر نفرت اور اختلافات کی شدت نہیں رہی۔

ستر سال کے بعد حکمرانوں پر نظر ڈالیں تو ’’منزل انہیں ملی ہے‘ جو شریک سفر نہیں تھے!‘‘ عوام کو دیکھیں تو حکمرانوں کی گاڑیوں تلے کچلے جا رہے ہیں! سیاسی نفرتوں کی غلامی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے چودہ اگست کو صدر ممنون حسین کی تقریر سے رہنمائی لی جاسکتی ہے جنہوں نے کہا کہ ’’ہمیں جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینا چاہئے۔‘‘ پاکستان میں جمہوریت کی بنیاد اور اِس کی حفاظت (ارتقاء) کا انحصار ’’1973ء کے آئین‘‘ کی موجودگی تک ہے‘ جس کی طاقت یہ ہے کہ اِسے بارہا معطل تو کیا گیا لیکن ختم نہیں کیا جاسکا۔ مزار اقبالؒ پر نوازشریف کا یہ کھل کر کہنا کہ ’’آئین تبدیل ہونا چاہئے‘‘ اور چیئرمین سینیٹ رضا ربانی پہلے ہی جمہوریت کی دہائی دیتے ہوئے ملتے جلتے خدشات کا اظہار فرما چکے ہیں تو ذاتی مفادات کے اِن اسیر ’دانشوروں‘ کو اُس ’نئے پاکستان‘ کا وجود (روز روشن جیسی حقیقت) کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہئے جس میں ’تحریک انصاف‘ موجود ہے۔ ماضی میں نواز لیگ بمقابلہ پیپلزپارٹی اور اِن کے ہمنوأ ہوا کرتے تھے’ آج صورتحال تبدیل ہے۔ تحریک انصاف عدلیہ کا دفاع کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔ کیا پھر وہی سنگین غلطی دہرائی جائے گی‘ جو پانامہ کیس کی پیروی کے دوران کم وبیش ڈیڑھ برس تک ’نوازلیگ‘ دہراتی رہی ۔