بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سانحہ ماڈل ٹاؤن ٗ آخری حد تک جائینگے ٗ طاہر القادری

سانحہ ماڈل ٹاؤن ٗ آخری حد تک جائینگے ٗ طاہر القادری


لاہور۔پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے یہ کہتے ہیں کہ ووٹ کا تقدس بحال کریں گے ، پہلے بتائیں کہ ووٹ کا تقدس پامال کس نے کیا ، سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کا قصور کیا تھا کیا انہوں نے تخت رائے ونڈ پر حملہ کیا تھا ، یہ لوگ بریف کیس لے کر جا کر ووٹ خریدتے تھے ، وزارتیں ضمیر فروشی پر بیچتے تھے ، آپ نے 90کے عشرے میں بے نظیر کی حکومت ختم کرائی ، کون دس سال ضیاء الحق کی گود میں بیٹھا رہا ، جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کیوں منظر عام پر نہیں لائی جاتی ، عید کے بعد فیصل آباد ، ملتان اور راولپنڈی میں ریلیاں نکالیں گے ، سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق مقدمے پر آخری حد تک جاؤں گا ، معزز عدلیہ سے غیر جانبدار بینچ کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہیں۔

نوازشریف نے ملک میں چھانگا مانگا کی سیاست متعارف کروائی ، میاں صاحب ابھی تو انصاف کی کھڑکی کھلی ہے دروازہ کھلنا باقی ہے ، آج نوازشریف پوچھتا ہے کیوں نکالا کل شہباز شریف پوچھے گا کہ مجھے کیوں نکالا ، پیشن گوئی کرتا ہوں کہ شہباز شریف کو ماڈل میں پھانسی دی جائے گی ۔ وہ بدھ کو لاہور میں عوامی تحریک کی خواتین رہنماؤں اور کارکنوں کی طرف سے دیے گئے دھرنے کے شرکاء سے خطاب کر رہے تھے ۔ طاہر القادری نے کہا کہ نوازشریف کہتے ہیں 70سال سے ملک میں تماشہ لگا ہوا ہے جبکہ 35سال سے توآپ نے تماشہ لگایا ہوا ہے ، چھانگا مانگا سیاست نوازشریف نے متعارف کروائی ، آج آپ کس منہ سے جمہوریت اور ووٹ کے تقدس کی بات کرتے ہیں ، کیا آپ چھانگا مانگا میں اراکین اسمبلی کو ووٹ کے تقدس کا سبق پڑھا رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ دس سال ضیاء الحق کی گود میں کون بیٹھا رہا ؟ کون ضیاء دور میں صوبائی وزیر خزانہ اور پھر وزیراعلیٰ پنجاب بنا تھا؟ شہباز شریف کہتے ہیں اشرافیہ نے ملک کو لوٹ لیا ہے ،انہیں انقلاب 28جولائی کے فیصلے کے بعد یاد آیا ابھی تو صرف چور پکڑا گیا ہے جبکہ ماڈل ٹاؤن کا قاتل ابھی باقی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ یہ لوگ بریف کیس لے جا کر ووٹ خریدتے تھے اور وزارتیں ضمیر فروش پر بیچتے تھے ، آپ نے 90کے عشرے میں بے نظیر کی حکومت ختم کروائی ،پہلے نوازشریف اور اس کے ساتھی ذوالفقار علی بھٹو کو ملک دولخت کرانے کا ذمہ دار قرار دیتے تھے اور آج کہتے ہیں کہ وہ شہید ہیں اور انہیں ہم جنت میں دیکھتے ہیں جبکہ نوازشریف ہی وہ شخص ہیں جنہوں نے صدر کیساتھ مل کر دو بار بے نظیر کی حکومت ختم کروائی ، یہ لوگ وہ وقت بھی بھول گئے جب آپ ایم پی اے کو خریدنے کیلئے رقم دیتے تھے ، مسلمان ایم پی اے کی قیمت دگنی اور غیر مسلم ایم پی اے کی قیمت آدھی لگاتے تھے۔

، ایسے لوگ کہتے ہیں ووٹ کا تقدس بحال کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ آپ نے اتنی گندی سیاست کو پاکستان میں متعارف کرایا ، آپ نے کہا کہ 5ایم پی اے لانے والا وزیر بنے گا ، سب سے طویل اقتدار میں اپنے والد اشرافیہ آپ ہیں ، نوازشریف بتائیں جب بے نظیر کی حکومت ختم ہوئی تو پارلیمنٹ کا ساتھ کیوں نہ دیا ، شہباز شریف صاحب کہتے ہیں کہ اشرافیہ نے ملک کو لوٹا ، میں بتانا چاہتا ہوں کہ آپ ہی اشرافیہ کا خاندان ہیں جس نے ملک کو لوٹا ہے ، آپ کا انقلاب نوازشہباز بچاؤ انقلاب ہے ۔ طاہر القادری نے کہا کہ نوازشریف آمر ضیاء الحق کی گود میں پلے ہیں وہ کس منہ سے آمریت کے خلاف بات کرتے ہیں اور 35سالہ دور اقتدار گزارنے کے بعد کس منہ سے غربت اور انسانیت کی بات کرتے ہیں ، مجھے سب پتہ ہے کہ آپ کا انقلاب کیا ہے ، شریف برادران کے حواری حواس باختہ ہوچکے ہیں ، میاں صاحب ابھی تو انصاف کی ایک کھڑکی کھلی ابھی تو انصاف کا دروازہ کھلنا باقی ہے ۔انہوں نے کہا کہ غریب کا بچہ پارلیمنٹ کے دروازے تک کبھی نہیں پہنچ سکتا، میں 20کروڑ عوام سے پوچھتا ہوں کہ شہداء کا قصور کیا تھا۔

، یہ حکمران غریبوں کا خون چوس کر اپنے گالوں پر لالی لاتے ہیں ۔ سربراہ پاکستان عوامی تحریک نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب کو پاکستان آنے سے روکو ورنہ برا حشر کریں گے ، میرے بیڈ روم پر گولیاں ماری گئیں وہاں کون سے بیرسٹر تھے ، شہداء کا قصور کیا تھا،انہوں نے تخت رائے ونڈ پر حملہ کای تھا ۔انہوں نے کہا کہ جسٹس باقی نجفی پر مشتمل کمیشن بنایا گیا اور کمیشن نے شہباز شریف کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ شہباز شریف صاحب جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ کو پبلک کردو،رپورٹ کو پبلک نہ کیا گیا تو اگلی اجتماعی ریلی عید کے بعد فیصل آباد میں اس کے بعد ملتان اور راولپنڈی میں ہوں گی ، ہم پاکستان کے قریہ قریہ نگر نگر میں اجتماع کریں گے ، اگر آپ نے قتل نہیں کرایا تو رپورٹ کیوں دبا رکھی ہے ، سانحہ کے ذمہ دار کو کیوں چھپایا جا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اتنا ہی بتا دو کہ رپورٹ میں لکھا کیا ہے ، ہم معزز عدلیہ سے غیر جانبدار بینچ کی تشکیل کا مطالبہ کرتے ہیں ، ہم نہیں چاہتے کہ بینچ ہماری یا ان کی مرضی کی کا ہو بلکہ ایک غیر جانبدار بینچ ہو، نظام بدلنے کی بات کرنے والوں نے لوگوں کو گولیاں ماریں ، نوازشریف آج پوچھ رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا گیا جبکہ شہباز شریف پوچھیں گے کہ مجھے کیوں نکالا گیا ۔