بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / ٹرمپ کا پاکستان متعلق بیان مایوس کن ہے ٗ نفیس ذکریا

ٹرمپ کا پاکستان متعلق بیان مایوس کن ہے ٗ نفیس ذکریا


اسلام آباد۔ پاکستان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ جیتنا ہے توڈو مور نہیں ہمارا ساتھ دینا ہو گا، دہشت گردی کے خلاف قربانیوں کو نظر انداز کرنا افسوس ناک ہے، پاکستان سے بڑھ کر کسی ملک نے دہشت گردی سے نقصان نہیں اٹھایا،افغانستان میں 17 سالہ فوجی ایکشن بھی ملک کو پرامن نہیں بنا پائے، مستقبل میں بھی فوجی ایکشن امن نہیں لاسکے گا ،صرف افغانیوں کی قیادت میں سیاسی مذاکرات ہی افغانستان میں دیرپا امن قائم کرسکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا سے متعلق امریکی پالیسی سے متعلق ابتدائی ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا کہ دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان سے بڑھ کر قربانیاں دی ہیں۔ امریکی صدر کے پالیسی بیان میں پاکستانی قوم کی قربانیوں کو نظر انداز کرنا مایوس کن ہے۔ پاکستان اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی پالیسی پر کاربند ہے، اور امریکا دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے غلط دعوے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا ساتھ دے کیونکہ دہشت گردی کا خطرہ ہم سب کو یکساں ہے، امریکہ دہشت گردی خلاف جنگ جیتنے کیلئے ہمیں ڈو مورنہیں بلکہ پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنا ہو گا۔ ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر خطہ میں امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ دہشت گردی کی قوتوں کو شکست دینے اور جنوبی ایشیا کے خطے میں امن واستحکام کے فروغ کے لیے عالمی برادری کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا، پاکستان عالمی برادری کے ساتھ مل کر جنوبی ایشیا میں قیام امن اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے تاہم جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوجاتا خطے کے امن و استحکام کو خطرہ لاحق رہے گا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا حل فوجی نہیں ہے۔

افغانستان میں 17 سالہ فوجی ایکشن بھی ملک کو پرامن نہیں بنا پائے، مستقبل میں بھی فوجی ایکشن افغانستان میں امن نہیں لا پائے گا اور صرف افغانیوں کی قیادت میں سیاسی مذاکرات ہی افغانستان میں دیرپا امن لاسکتے ہیں۔ دفتر خارجہ کے جاری ہونے والے عبوری بیان میں کہا گیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی پر وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تفصیلی غور کیا گیا، 24 اگست کو قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس کے بعد حکومت پاکستان کا تفصیلی ردعمل جاری کیا جائے گا۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بحیثیت کمانڈر اِن چیف امریکی قوم سے اپنے پہلے رسمی خطاب میں افغانستان، پاکستان اور جنوبی ایشیاء کے حوالے سے نئی امریکی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔اپنے خطاب میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہوں پر خاموش نہیں رہیں گے۔امداد میں کمی کی دھمکی دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’ہم پاکستان کو اربوں ڈالر ادا کرتے ہیں مگر پھر بھی پاکستان نے اْن ہی دہشت گردوں کو پناہ دے رکھی ہے جن کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے۔انہوں نے افغانستان میں امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے وعدے سے مکرتے ہوئے وہاں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی راہ بھی ہموار کردی۔