بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان ٗفرقہ وارانہ دہشت گردی میں واضح کمی

پاکستان ٗفرقہ وارانہ دہشت گردی میں واضح کمی


اسلام آباد۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں نیکٹا کے سربراہ احسان غنی نے رپورٹ پیش کردی۔منگل کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس رانا شمیم احمد کی زیرصدارت ہوا جس میں وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی جبکہ اجلاس میں نیکٹا کے سربراہ احسان غنی نے رپورٹ پیش کی۔نیشنل ایکشن پلان کے سربراہ احسان غنی نے بتایا پاکستان دہشت گردی میں چوتھے نمبر پر چلا گیا ہے۔

رواں سال دہشت گردی کے 426 واقعات ہوئے جن میں سے بعض میں ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔نیکٹا رپورٹ کے مطابق 2012،13،14 میں فرقہ وارانہ دہشت گردی عروج پر رہی تاہم اب ملک میں فرقہ وارانہ دہشت گردی میں واضح کمی آئی ہے، سال 2016 میں فرقہ وارانہ دہشت گردی میں واضح کمی آئی اور صرف 37واقعات رونما ہوئے۔ نیکٹا رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے کمیونیکیشن نظام کو تباہ کردیا گی ہے۔

پنجاب میں عسکریت پسندی میں کافی کمی آئی ہے جب کہ پنجاب میں کچے کا علاقہ اور تین صوبوں کی سرحد پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے صوبوں میں خصوصی یونٹ قائم کردیئے گئے، ملک بھر میں 5 ہزار 23 افراد کے اکانٹس اور 300 ملین رقم بھی منجمد کی گئی جب کہ فورتھ شیڈول پر کل 8 ہزار 333 افراد رکھے گئے ہیں، مشتبہ افراد کے پاسپورٹس پربھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کے تحت 98.3 ملین موبائل سمزبلاک کی گئیں اور بائیو میٹرک تصدیقی نظام قائم کردیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہیکہ کراچی آپریشن بھی نیشنل ایکشن پلان کا حصہ ہے، شہر میں آپریشن کے باعث ٹارگٹ کلنگ میں 97 فیصد کمی آئی، کراچی میں ڈکیتی کی وارداتوں میں 52 فیصد، قتل میں 87 اور دہشت گردی میں 98 فیصد کمی آئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پھانسیوں سے پابندی ہٹائی گئی اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت پھانسیاں دی گئیں، فوجی عدالتوں میں کیسز بھجوائے گئے اور سرچ آپریشن انٹیلی جنس شیرنگ کے ذریعے کیے گئے جب کہ آرمڈ ملیشیا کو ختم کرنے کے لیے سرچ آپریشنز صوبوں سے مل کر کیے گئے اور اس وجہ سے ہی نیشنل ایکشن پلان کامیاب رہا۔نیکٹا رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز تقاریر پرایک ہزار 353 مقدمات درج ہوئے اور لاڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر17 ہزار مقدمات درج کیے گئے۔

نیکٹا کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں سے دہشت گردی کے مقدمات کی تفصیلات مانگی ہیں، دہشت گردی کے مقدمات کی پراسیکیوشن کے لیے نیکٹا میں جائزہ لے رہے ہیں، کیس اسٹڈی کرکے ان سے بات کریں گے کہ اگر پراسیکیوشن بہتر نہیں تو اسے کیسے بہتر بنایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں کل 66 تنظیمیں کالعدم ہیں، اقوام متحدہ نے 164 کو کالعدم قرار دے رکھا ہے۔ نیکٹا سربراہ کا کہنا تھا کہ ہم جیلوں میں زائد تعداد کے حوالے سے اسٹڈی کر رہے ہیں۔

نیشنل ریفیوجی قانون تیار کرکے متعلقہ افراد سے شئیر کر لیا گیا ہے۔ نیکٹا سربراہ کے مطابق نیکٹا 2008 میں بنا تھا جس کے اب تک 31 اجلاس ہوچکے ہیں، نیکٹا میں 811 سیٹوں پر 114 لوگ کام کررہے ہیں۔