بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عراقی فوج اور داعش میں گھمسان کی جنگ

عراقی فوج اور داعش میں گھمسان کی جنگ

بغداد۔عراق کی سرکاری فوج اور اس کی معاون الحشد الشعبی ملیشیا کے جنگجو تلعفر شہر میں ’داعش‘ کے آخری ٹھکانے ’العیاضیہ‘ میں داخل ہوچکے ہیں جہاں فریقین میں گھمسان کی لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ داعشی دہشت گردوں کی طرف سے اپنے دفاع کے لیے بھرپور طاقت استعمال کی جا رہی ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق عراقی فوج کے اندازوں اور منصوبے کے برعکس تلعفر میں ڈرامائی انداز میں بہت کم وقت میں یہ آپریشن تقریبا مکمل کرلیا گیا ہے۔

عراقی فوج کو موصل میں شکست کے بعد تلعفر میں داعش کی جانب سے شدید مزاحمت کا اندیشہ تھا۔ داعش کے پاس بارود سے بھری گاڑیوں اور خود کش بمباروں کی بڑی تعداد کی موجودگی کی اطلاعات تھیں تاہم اب تک داعش کی طرف سے زیادہ مزاحمت نہیں دیکھی گئی۔ اس وقت عراقی فوج العیاضیہ میں داخل ہوچکی ہے تاہم ابھی تک قصبے پر مکمل کنٹرول نہیں کیا جاسکا ہے۔اطلاعات کے مطابق داعش نے گھروں کی چھتوں پر اپنے نشانہ باز تعینات کردیے ہیں۔

سرکاری فوج کی تیزی سے پیش قدمی کی راہ میں شہری آبادی بھی رکاوٹ ہے جسے داعش نے انسانی ڈھال بنا رکھا ہے۔ تاہم عراقی فوج کی طرف سے شہریوں کے محفوظ انخلاء کے لیے راہ داریاں قائم کردی ہیں۔عراقی فوج کے جوائنٹ آپریشن کنٹرول روم کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ العیاضیہ کو چند گھنٹوں کے اندر اندر داعش سے چھڑالیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فورسز نے تل عفر میں داعش کی آخری پناہ گاہ ’العیاضیہ‘ کا مکمل محاصرہ کرلیا ہے۔

داعشی جنگجوؤں کے پاس اب فرار کا بھی کوئی راستہ باقی نہیں بچا ہے۔قبل ازیں مقامی ذرائع ابلاغ کی جانب سے یہ اطلاعات بھی فراہم کی گئی تھیں کہ داعش کے جنگجو جن میں اہم کمانڈر بھی شامل ہیں اسمگلروں کی معاونت سے بھاری رقوم دے کر شام فرار ہو رہے ہیں۔عراقی فوج نے اتوار کے روز جاری کردہ اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے تلعفر کی کل 29 کالونیوں پر اپنا کنٹرول قائم کرلیا ہے۔