بریکنگ نیوز
Home / کالم / ڈاکٹر عبید / اپنی عزت اپنے ہاتھ

اپنی عزت اپنے ہاتھ


بچوں کی پیدائشی جنسی نقائص نہ صرف ماں باپ کیلئے بلائے جان بن جاتی ہیں بلکہ بچے بھی ان سے شدید ذہنی پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کے احساسات کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔ آپ کو معلوم ہے کہ پشاور میں اس قسم کا ایک بین الاقوامی ادارہ موجود ہے جہاں میں کام کررہا ہوں۔ بدقسمتی سے نہ تو میڈیا میں اس بارے میں کوئی صحیح صورت حال کے بارے میں لکھنے کی آزادی ہے اور نہ ہی کسی چینل کو اتنی جراٗت ہے کہ وہ عوام کی رہنمائی کرے۔ یہ صورت حال عالمی ہے اور اسی لئے ان بچوں کے علاج کیلئے سرگرم رہنے والی عالمی تنظیم ’ایشیڈ‘ (ISHID) کے ممبران بھی دوسو سے کم ہیں اور بمشکل ہر دو سال بعد اپنی بڑی کانفرنس کرسکتے ہیں۔ اس سال اسے ایران میں منعقد ہونا تھا لیکن زیادہ تر اراکین کو ڈر تھا کہ ایک دفعہ ان کے پاسپورٹ پر ایران کا ویزہ لگ گیا تو انہیں امریکہ کا ویزہ لینا مشکل ہوجائے گا۔ بعد از خرابی بسیار، فیصلہ ماسکو کے حق میں ہوا اور میں نے کانفرنس کے انتظامیہ کو اپنے نام دعوت نامہ ارسال کرنے کو کہا۔ وہاں سے کافی دیر کے بعد دعوت نامہ موصول ہوا تو میں نے ٹریول ایجنٹ کو تمام انتظامات کرنے کو کہا۔ سارے کاغذات جمع کرنے کے بعد بھی مجھے ذاتی طور پر سفارت خانے جانا پڑا۔ وہاں معلوم ہوا کہ پاکستانیوں کیلئے روس کا ویزہ حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ شرائط کی اتنی لمبی فہرست دیکھ کر میرے تو کئی ساتھیوں نے ارادہ ہی ملتوی کر دیا۔

مجھے اچانک فارن آفس میں ایک دوست کی یاد آئی تو اسے فون کردیا۔ پتہ نہیں کیا ہوا کہ میرے ادھورے کا غذات بھی لے کر مجھے ویزا اجرا کرنے کی خوش خبری سنادی گئی۔ یاد رہے کہ میں اس تنظیم کے ایگزیکٹو کونسل کاممبر بھی ہوں۔ اس وقت پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے ویزا کے حصول میں کافی دشواری پیش آتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ پاکستانی جو امریکی یا دوسرے مغربی ممالک کے پاسپورٹ بھی رکھتے ہیں، ان کو بھی کافی لے دے کے بعد ہی ویزا ملتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان بھی اس وقت غیر ملکیوں کو ویزہ دینے میں کافی سختی سے کام لیتا ہے ۔ اور جب بھی کوئی غیر ملکی قانونی ویزہ لے کر پاکستان آتا ہے تو کئی ایک ایجنسیاں ان کے تعاقب میں ہوتی ہیں۔حال ہی میں مجھے ایک ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا جب ایک غیر ملکی پلاسٹک سرجن جو باقاعدہ ویزہ لے کر میرے پاس سے تربیت لینے کیلئے آئی تھی۔ پشاور میں تو حالات ٹھیک رہے لیکن ہمیں چند دنوں کیلئے پنجاب کے ایک شہر میں ورکشاپ کیلئے جانا پڑا۔ مہمان پلاسٹک سرجن نے اپنے لئے آن لائن ایک ہوٹل میں رہائش کا بندوبست کردیا تھا۔ تاہم جب وہ رات گئے ہوٹل پہنچی تو وہاں معلوم ہوا کہ ان پر پولیس کی طرف سے غیر ملکیوں کو کمرہ دینے پر پابندی ہے۔ بے چاری کو ایک دوسرے گیسٹ ہاؤس میں منتقل ہونا پڑا جہاں ایک اور شرط ان کا انتظار کررہی تھی۔ پولیس کی ہدایات کے مطابق ان کو کسی نہ کسی پاکستانی ہی کے ساتھ باہر نکلنے کی اجازت تھی۔ ایک زمانہ تھا جب بے شمار ممالک میں پاکستانیوں کو ویزا کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ اور جہاں پڑتی بھی تھی، وہ ائرپورٹ پر لگ جاتی تھی۔ پھر ہماری قسمت نے بُرا پلٹاکھایا۔

دو تین وجوہات کی وجہ سے اب ہر ملک ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ حتیٰ کہ چین جیسے دوست اور ہمسایہ ملک نے بھی ویزا کی پالیسی پاکستان کیلئے نہایت سخت کردی ہے‘ سب سے بڑی وجہ ہمارے میڈیا کا شور و غوغا کا رویہ ہے۔ کوئی بھی شخص پاکستانی نیوز چینل کو دیکھ کر بذات خود پاگل ہوسکتا ہے۔ کہیں گیس سلنڈر پھٹ جائے تو بریکنگ نیوز۔ رکشے کے سائلنسر کی آواز بھی دہماکے میں شمار کی جاتی ہے۔ کسی دن آپ صرف نیوز چینل دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان میں ہر طرف آہ و بکاجاری ہے‘ پورے ملک میں کوئی شخص ہاتھ پاؤں سے سلامت نہیں رہا‘ہر جگہ دھماکے ہورہے ہیں۔ کسی کی جان سلامت نہیں۔ عراق تو ہم سے کہیں زیادہ پر امن ہے۔ تاہم اگر حقائق کی نگاہ سے دیکھا جائے توپچھلے سال بھارت میں پاکستان سے کہیں زیادہ دھماکے ہوئے۔ ہر سال قریباً تیس ہزار لوگ تو صرف بھارتی ریلوے لائنوں پر مرتے ہیں۔ ہر سال ڈیڑھ لاکھ لوگ بھارت میں غربت کے ہاتھوں خود کشی کرتے ہیں جو پوری دنیا کی خودکشی کا پانچوں حصہ بنتا ہے۔ اسی ملک میں ستر فیصد گھروں میں بیت الخلاء نہیں ہے۔ لیکن آپ ذرا بھارتی چینل تو کھول کر دیکھیں، ہر طرف ایک گویا فلم کا سین چل رہا ہے۔لوگ راہ چلتے چلتے گانے گارہے ہیں۔

خوشحالی کا زمانہ ہے اور آج ہوا کہ کل بس وہ سپر پاور بننے والا ہے۔ کچھ تو وہ چینل حب الوطنی میں ایسا کرتے ہیں اور کچھ ان کو حکومت کی طرف سے مدر پدر آزادی نہیں ملی ہوئی۔ دنیا کے تمام آزاد ممالک میں بھی میڈیا پر ایسی خبریں دینے پر کچھ نہ کچھ قدغن ضرور ہے جس سے عوام میں وحشت پھیلے۔ہمارے سرکاری اور نیم سرکاری ادارے بھی ملک کا کوئی اچھا تصوّر نہیں چھوڑ رہے۔ جیسے کہ پی آئی اے کی بیرونِ ملک فلائٹ سے آئے دنوں نشہ آور ادویات کا برآمد ہونا کوئی اچھا شگون نہیں‘پاکستان سے جعلی پاسپورٹوں پر بیرونِ ملک جانا، وہاں غیر قانونی طور پر ٹھہرنا اور اس پر مزید وہاں غیر قانونی مشاغل میں مصروف رہنا کوئی پاکستان کیلئے عزت کمانے کے مترادف تو نہیں۔ اگر ہمیں دنیا سے اپنی عزت کروانی ہے تو پہلے اپنے ہی گھر اور ملک میں بیٹھ کر اپنی عزت بڑھائیں ۔ جب ہمارے اخلاق ہماراکلچر مشہور ہوجائے اُس دن پاکستانیوں کو ہر جگہ خوش آمدید کہا جائے گا۔