بریکنگ نیوز
Home / کالم / پاک امریکہ فاصلے!

پاک امریکہ فاصلے!


واشنگٹن کی فضاء پہلے سے مختلف ہے۔ ہمیشہ سے پاکستان کی امداد بند کرنے کی حمایت کرنے والے ایوان نمائندگان کے پاس ایک ایسا وائٹ ہاؤس آ گیا ہے جو اس کے خلاف دفاعی دیوار تو کیا ہوتا بلکہ ایک مضبوط حمایت کا مرکز ہے۔ جبکہ سینیٹ‘ جہاں معقول پالیسی سوچ عموماً برتری پا جاتی ہے‘ وہ بھی اب ہمدرد نہیں رہی ہے۔ سینیٹر کارل لیون نے دوہزار پندرہ میں کامیابی کے ساتھ قانون میں ترمیم کر کے اس حوالے سے پہلا قدم اٹھایا‘ اس قانون کے مطابق اگر پاکستان ’’حقانی نیٹ ورک کے خلاف خاطر خواہ کاروائی کرنے میں ناکام‘‘ ہوتا ہے تو امریکہ اپنی فوجی امداد روک دے گا۔ عام طور پر ایسی ترامیم امریکہ کے قانون ساز ایوان میں پیش ہوتی ہیں اور پھر کسی کونے میں پڑی رہتی ہیں۔ اگر وہ قانون میں تبدیل ہو جائیں تو انہیں غیر فعال کر دیا جاتا ہے‘ صدر اسے پابندی میں بدلنے کے بجائے چھوٹ دلوا سکتے ہیں۔ پریسلر ترامیم بھی اسی زمرے میں آتی ہیں۔ سال در سال ان میں چھوٹ دی جاتی رہی۔ اِس وقت کی سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین کارل لیون کا سخت رویہ اپنانے اور اس میں کامیاب ہونے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ واشنگٹن میں موجود معقول ذہن بھی اب پیار نہیں‘ مار کی راہ اپنا رہے ہیں۔ فوجی طاقت سے ڈرانا کانگریس کی عادت رہی ہے اور کانگریس ہی امداد اور پابندیوں پر حتمی فیصلے کا اختیار رکھتی ہے‘ ایسے میں صدر ایک ’اچھے پولیس اہلکار‘ جیسا کردار ادا کرتا ہے۔ ٹرمپ اس کے بالکل ہی برعکس کردار ادا کرنے پر بضد ہیں۔

اس نے پاکستان کو ایک کٹھن صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ پاکستان کے کانگریس کے ساتھ کبھی بھی مضبوط تعلقات نہیں رہے۔ پاک امریکہ تعلقات انتظامی شاخوں‘ بشمول فوجوں کے درمیان استوار رہے ہیں۔ اب پاکستان کے امریکی اتحادیوں میں صرف محکمہ خارجہ کے چند حلقے‘ بشمول اسلام آباد میں موجود سفارتکار‘ چند تھنک ٹینکس اور پاکستان کی بات سننے والے چند سینیٹرز ہی رہ جائیں گے۔ وہ لوگ جنہوں نے پوچھا ہے کہ امریکی فوج کیا سوچ رہی ہے؟ تو جناب ٹرمپ نے آپ کو بتا دیا ہے کہ وہ کیا سوچ رہی ہے۔ امریکہ میں صدر ہی فوج کا سربراہ (کمانڈر ان چیف) ہوتا ہے۔ جی ہاں یہ سچ ہے۔

مقبول دلیل یہ بھی ہے کہ امریکہ پاکستان سے راہیں جدا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس دلیل کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت قدیم ہے اور کافی گھسٹی پٹی بھی۔ ایک دوسری دلیل یہ بھی ہے کہ کافی عرصے سے تعاون کارآمد ثابت ہو رہا ہے۔ چند مثبت جذبات بھی دیکھنے کو ملے ہیں اور سینئر امریکی افسران نے پاکستان کے کاموں کی تعریف بھی کی ہے لیکن ان باتوں کو وہاں اجاگر نہیں کیا جاتا جہاں ان کی ضرورت ہوتی ہے۔ محکمہ دفاع نے لیون کی سفارشات پر ان کے قانون بن جانے کے بعد سے پاکستان کو ہری جھنڈی دکھائی ہے۔ گزشتہ برس‘ اوباما کے دفاعی سیکرٹری نے کولیشن سپورٹ فنڈز کی مد میں ایک ارب ڈالر میں سے تیس کروڑ ڈالر کی امداد روک دی تھی۔ رواں سال ٹرمپ کے سیکرٹری دفاع نے نوے کروڑ ڈالر میں سے بھی پینتیس کروڑ ڈالر کم کر دیئے۔ امریکہ کیلئے مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان راستے جدا کرنے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ کچھ کروڑ ڈالر سے اب پاکستان کو ڈرایا دھمکایا نہیں جا سکتا۔ پاک چین تعلقات کی قدر و قیمت اب ایک سو دس ارب ڈالر بن چکی ہے اور رواں سال قریب چار ارب ڈالرز ملنے کی توقع ہے اور وہ اربوں ڈالرز بڑی آسانی کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ نوے کروڑ ڈالرز کی خاطر پاکستان امریکہ کے ساتھ ناپائیدار اور بے مہر تعلقات کا بوجھ اٹھاتا ہے جبکہ دوسری طرف چین بغیر کسی ڈرامے کے اربوں ڈالر دے دیتا ہے‘ صرف اس وعدے پر کہ مستقبل میں پاکستان کی حکومت ان پیسوں کو لوٹا دے گی۔ ٹرمپ کیلئے عقلمندی اسی میں ہوگی کہ وہ چین کے ساتھ سازگار تعلقات بنائیں اور پھر اسکے ذریعے پاکستان کیساتھ تعلقات سنبھالیں۔

چین پاکستان میں اب وہ طاقت اور اثر و رسوخ رکھتا ہے جو امریکہ کو کبھی یہاں حاصل نہیں رہا‘ حالانکہ دونوں ملک پاکستان کو شدت پسندی سے نمٹنے کے لائق بنانے میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں لیکن ان کے درمیان سفارت کاری میں ہو کا عالم ہے۔ پاکستان نے بہت عرصے پہلے ہی امریکہ اور حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے اپنا ذہن بنا لیا تھا۔ امریکہ میں دہائیوں سے ایک ہی شکایت سنائی دے رہی ہے کہ پاکستان حقانی کے خلاف کاروائی نہیں کر رہا۔ ٹرمپ کی قومی سلامتی ٹیم اب بھی اس خیال پر کام کر رہی ہے کہ امریکی پیسے کے عوض اسٹرٹیجک سمت کو بدلا جا سکتا ہے لیکن وہ تاریخ کو فراموش کر رہے ہیں۔ پاکستان نے سوات اور قبائلی علاقہ جات (فاٹا) میں فوجی آپریشنز امریکہ کے کہنے پر نہیں کئے تھے بلکہ اس وقت کئے جب یہ فوجی کاروائی ناگزیر محسوس ہوئی۔ ٹرمپ کی اس حکمت عملی میں بہت ہی بڑا رسک ہے۔ خطے سے باہر نکلنا اور پاکستان سے سخت رویہ اپنانا ایک چیز ہے اور افغانستان کی جنگ میں پیر مزید گہرائی تک دھنسانے کے بعد نہ صرف پاکستان سے سخت رویہ رکھنا بلکہ بھارت کے ساتھ بھی صفر جمع صفر کی نوعیت کے تعلقات رکھنا اور بات ہے۔ ایک ہی تقریر میں ٹرمپ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کی منسوخی کا تذکرہ کیا اور بھارت کے ساتھ مزید قربت کی بات کہی۔

ٹرمپ نے پاکستان کو یہ مشورہ دے کر تضاد پیدا کیا کہ وہ ان اقدار میں اپنا حصہ ڈالے جن کی نمائندگی بھارت کرتا ہے۔ تہذیب‘ اصول اور امن۔ اس قسم کی سفارتکاری گیارہ ستمبر کے بعد بش کے دنوں کی‘ ہمارے دوست یا ہمارے دشمن والی سیاہ اور سفید سفارتکاری سے کچھ زیادہ مختلف نظر نہیں آتی۔ اگر امریکہ دوبارہ افغانستان پر اپنی توجہ مرکوز کر رہا ہے تو وہ اس کے پڑوسی ملک پاکستان کو تنہا چھوڑنے اور اسی اثناء میں بھارت اور افغانستان سے ہاتھ ملانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ پاکستان پہلے ہی اس وقت ہر چیز کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ پاکستان قلیل مدت میں امریکہ کو ٹھنڈا کر سکتا ہے‘ وہ اس چیز میں بہت ہی اچھا ہے لیکن طویل مدت میں شاید ہی کوئی تبدیلی رونما ہو۔ اسے ٹرمپ کی چال اس لئے نہیں کہا جاسکتا کیونکہ یہ کوئی چال نہیں ہے‘ اب کی بار امریکہ واقعی پاکستان سے دستبردار ہونے کے موڈ میں نظر آتا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: نادیہ ناوی والا۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)