بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا ایجوکیشن سروسز ایکٹ کو حتمی شکل دینے کی ہدایت

خیبر پختونخوا ایجوکیشن سروسز ایکٹ کو حتمی شکل دینے کی ہدایت


پشاور ۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے خیبر پختونخوا ایجوکیشن سروسز ایکٹ 2017 کو تیز رفتار ی سے حتمی شکل دینے اور اس قانون کے نفاذ کے لئے حکمت عملی بھی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے ٹیوٹا اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تحت چلنے والے تعلیمی اداروں کی مانیٹرنگ محکمہ تعلیم کے آزاد مانیٹرنگ یونٹ کے حوالے کرنے جب کہ سوشل ویلفیئر سکولوں کو محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم کے حوالے کرنے کیلئے پروپوزل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ صوبائی حکومت کے جامع، موثر اور یکساں معیاری تعلیمی پلان پر اسکی روح کے مطابق عمل درآمد یقینی ہو سکے۔یہ واحد صوبہ ہے جس نے نہ صرف تعلیمی سکولوں کا ایک قابل عمل سٹینڈرڈ متعارف کرایا ہے بلکہ صوبہ بھر میں اس پر عمل درآمد کر کے دکھایا ہے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ سکولوں میں missing facilities کی فراہمی کے عمل کا ماہانہ بنیادوں پر جائزہ لیا جائے اور جو کمی رہ گئی ہے اسے بر وقت مکمل کیا جائے ۔وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں شعبہ ثانوی و ابتدائی تعلیم کے پانچویں سٹاک ٹیک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔صوبائی وزیربرائے ابتدائی وثانوی تعلیم محمد عاطف خان، محکمہ تعلیم اور خزانہ کے انتظامی سیکرٹریوں ، سٹریٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزدہ سعید اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس کو شعبہ تعلیم میں صوبائی حکومت کی ترجیحات، اصلاحاتی اقدامات کی پیش رفت اور سکولوں کی سٹینڈرڈ ائزیشن کے مجموعی عمل پر بریفنگ دی گئی۔

سکولوں کی سٹینڈرڈائزیشن کے حوالے سے بتایا گیا کہ صوبے کے نو اضلاع میں آئی ایم سی کے ذریعے 202ہائر سیکنڈری سکولز کی سٹینڈرڈائزیشن کی جار رہی ہے ۔ 23سکولوں پر کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ باقی پر کام جاری ہے۔ اسکے علاوہ 199ہائر سیکنڈری سکولوں کی تیز رفتار سٹینڈرڈائزیشن محکمہ مواصلات و تعمیرات اور نیسپاک کے ذریعے جبکہ 199ہائر سیکنڈری سکولوں کی سٹینڈرڈائزیشن C&WDاور نیسپاک کے ذریعے کی جا رہی ہے جن میں سے76مکمل اور 127پر کام جاری ہے ۔ وزیر اعلیٰ نے جاری سکیموں کو ٹائم لائن کے اندر مکمل کرنے کی ہدایت کی۔ سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بتایا گیا کہ مالی سال 2014-15کے دوران 15136سکولوں میں 25245سہولیات کی فراہمی کا ہدف رکھا گیا تھا جو 96فیصد مکمل ہے۔مالی سال 2015-16میں 12983سکولوں کو 21593سہولیات کی فراہمی کا ہدف رکھا گیا تھا جس میں سے 61.99فیصد یعنی 13386سہولیات فراہم کی جا چکی ہیں۔مالی سال 2016-17 کے لئے 11072سکولوں میں 17905سہولیات کی فراہمی کا عمل جاری ہے۔وزیر اعلیٰ نے محکمہ صحت اور تعلیم کے تحت ترقیاتی اور اصلاحاتی سکیموں کی تیز رفتار تکمیل پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ اضلاع کو وسائل کی فراہمی کے ساتھ انکے اخراجات کا مقصد بھی واضح ہونا چاہئے۔جس مقصد کے لئے فنڈز مہیا کئے جائیں اسی پر خرچ ہونے چاہییں۔

اس سلسلے میں اگر متعلقہ ایکٹ میں ترمیم کرنا پڑے تو کر لی جائے تاکہ ہدف کا حصول ممکن ہو سکے۔وزیر اعلیٰ نے اضلاع کو فنڈز کی فراہمی کے تناظر میں ریلیز پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت کی اور کہا کہ جو وسائل صوبائی حکومت سے ضلع کو جاتے ہیں انکا الگ اکاؤنٹ ہونا چاہئے۔اجلاس کو صوبے کے ہر بچے کو تعلیم کا حق دینے کے حوالے سے صوبائی حکومت کی قانون سازی کے حوالے سے بھی آگاہ کیا گیا جس کے تحت صوبائی حکومت بچوں کو مفت اور لازمی ابتدائی و ثانوی تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے گی۔ آرٹیکل 25Aکے تحت مذکورہ قانون صوبائی اسمبلی سے منظور ہو چکا ہے۔ صوبہ بھر میں سکولوں سے باہر بچوں کا سروے مکمل ہو چکا ہے جسکی سفارشات اکتوبر تک پبلک کر دی جائیں گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خیبر پختونخوا ایجوکیشن سروسز ایکٹ کا بل بھی محکمہ قانون کے پاس ہے۔

وزیر اعلیٰ نے اس ایکٹ کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے تیز رفتاری سے حتمی شکل دینے کی ہدایت کی۔مجوزہ قانون کے تحت اساتذہ برادری کے دیرینہ مطالبہ ٹائم سکیل پروموشن کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا تاہم پروموشن ٹا ئم سکیل کے ساتھ اساتذہ کی کارکردگی کی بنیاد پر ہو گی۔اساتذہ کے 22 کیڈرزمحدود کرکے پانچ کیٹگریز بنائی جا رہی ہیں۔مینجمنٹ کیڈر علیحدہ ہو گا جس کے لئے رولز میں ترمیم کر رہے ہیں جس کا اعلامیہ جلد جاری ہو جائے گا۔

ضلع کی سطح پر ایک ڈی ای او( مردانہ) ہو گا اور زنانہ ڈی ای او کی جگہ اسسٹنٹ کی آسامی ہو گی۔ ایکٹ کے تحت دیگر اہم فیچرز میں اساتذہ کی سکول بیسڈ تقرری، این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کئے گئے اساتذہ کی ریگولرائزیشن، اساتذہ کے تبادلوں کا خاتمہ اور اساتذہ کی کارکردگی میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔اجلاس کو بتایا گیا کہ مالی سال 2016-17 کے دوران 3170سکولوں کو فرنیچر کی فراہمی کا عمل 74فیصد مکمل کیا جا چکا ہے۔اقراء فروغ تعلیم ووچر سکیم کے تحت دو مرحلوں میں مجموعی طور پر 41000بچے سکولوں میں داخل کرائے جا چکے ہیں۔