بریکنگ نیوز
Home / کالم / بات سمجھ نہیں آئی

بات سمجھ نہیں آئی


میرے ذمہ ایک گھر اور اُس کے مسائل ہیں۔میں جانتا ہوں کہ مجھ پر کتنے افراد کی ذمہ داری ہے۔میں جانتا ہوں کہ مجھے پانچ یا دس آدمیوں کے لئے کھانے، پہننے ، پڑھانے اور دیگر ضروری اخراجات کو اٹھانا ہے۔ اس لئے جو بھی مجھے تنخوا ملتی ہے اُس میں ان سب اخراجا ت کو پورا کرنا ہے۔ میں ایک حکمت عملی کے تحت ان اخراجات کا بندوبست کرتا ہوں ۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ آنے والے وقتوں میں مجھے مجھ پر انحصار کرنے والوں کے لئے کچھ اور بھی خرچ کرنا ہے اس لئے مجھے اُن کے لئے سب اخراجات میں سے مناسب بچت کر کے اُن کے کل کے لئے بھی کچھ نہ کچھ جمع رکھنا ہے۔ چونکہ مجھے معلوم ہے کہ مجھ پر انحصار کرنے والوں کی تعداد کتنی ہے اس لئے میں یہ سب کچھ احسن طریقے سے کر سکتا ہوں۔ مجھے اپنے گھر والی سے ایک سبق یہ بھی ملا ہے کہ ہمیں کسی بھی صورت دکاندار سے ادھار سودا نہیں لینا۔چنانچہ میں نے آج تک کبھی کسی دکاندار سے گھر کے لئے کوئی بھی سودا ادھار نہیں لیا۔اس سے ایک فائدیہ جو مجھے ملا ہے کہ میں گھر میں زائد از ضرورت کوئی چیز بھی نہیں لایا۔ جو لوگ یا جو ملازم چاہے وہ سرکاری ہو یا کسی نجی ملا زمت میں ہو اگر وہ ادھار چیزیں خریدتا ہے تو اُسے اس بات کا اندازہ ہو گا کہ وہ بیشتر ایسی چیزیں گھر لے آتا ہے جن کی گھر میں سرے سے ضرورت ہی نہیں ہوتی۔اس کامطلب یہ ہے کہ وہ اپنے بجٹ کوٹھیک سے استعمال میں نہیں لاتا۔ اگر وہ دکان سے ادھار نہ لے تو اُسے صرف وہ چیزیں گھر لانا ہوں گی جو اُس کی انتہائی ضرورت میں آتی ہیں۔

اس لئے اُس کا بجٹ غلط یا بے جا استعمال نہیں ہو گا ۔ اسی بات کو آپ ملک پر لے جائیں۔ ملک بھی ایک طرح کا گھر ہی ہے۔اگر گھر کے افراد کا تعین ہی نہیں ہو گاتواُن کے اخراجات کا اندازہ کیسے کریں گے۔ جب آپ کو یہ ہی معلوم نہیں کہ آپ کی آمدن کو خرچ کرنے کے لئے کتنے افراد ہیں تو آپ کیسے اپنی آمدنی اور خرچ میں توازن قائم رکھ سکیں گے۔ہم جس چیز کو کرپشن کہتے ہیں در اصل وہ مس منیجمنٹ کے زمرے میں آتی ہے۔ وزارتِ خزانہ کو یہ معلوم ہی نہیں ہے کہ وہ جس حلقے کے لئے ترقیاتی رقم دے رہی ہے اُس میں کتنے افراد ہیں اور اُن کی کیا کیا ضروریات ہیں تو رقم لینے والا بھی بے ایمانی کرے گا اور دینے والے کے لئے بھی اس میں سے کچھ حاصل کرنا ہو گا ۔اور چونکہ یہ معلوم ہی نہیں کہ کتنے افراد کے لئے سہولیات مہیا کرنی ہیں اس لئے سب کچھ فرضی ہو گا۔ اس کی مثال ابھی کچھ دن قبل سپریم کورٹ کی طرف سے ایک شہر پر کئے گئے اخراجات کی جانچ سے سامنے آئی ہے۔ ایک شہر میں نوے ارب روپیہ خرچ کیا گیا ہے۔ اور شہر کی حالت یہ ہے کہ وہاں نہ سڑکیں کام کی ہیں ، نہ وہاں پانی کی سہولیات میسر ہیں ، نہ صفائی ستھرائی کا انتظام ہے، اور نہ شہریوں کو اور کوئی سہولت میسر ہے۔

ایسا کیوں ہوا ہے۔ اس لئے کہ جس نے پیسہ دیا ہے اُسے یہ پتہ ہی نہیں تھا کہ جس شہر کے لئے رقم لی جارہی ہے اُس کی آبادی کتنی ہے، اتنی آبادی کے لئے کن سہولیات کی ضرورت ہے اور ان سہولیات کے لئے کتنی رقم درکا رہو گی۔ اس لئے ایک شہر پر نوے ارب روپے خرچ ہو گئے اور وہاں ایک سڑک بھی نہ بنائی گئی اور نہ کسی کی مرمت کی گئی۔ کوئی ہسپتال نہیں بنا او رایک سکول بھی وجود میں نہیں آیا ۔مگر نوے ارب روپیہ خرچ ہو گیا۔ بنیادی وجہ شہر کی آبادی نامعلوم تھی اور اس کی ضروریات بھی نامعلوم تھیں اسی طرح جو بھی بجٹ سیاسی نمائندوں کو ترقیاتی اخراجات کے نام پر مہیا کیا جاتا ہے اُس کا کسی کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ کہاں خرچ کرنا ہے اور کیوں خرچ کرنا ہے۔ نتیجہ یہ کہ ملکی اخراجات آمدن سے کئی ہزار گنا زیادہ ہو جاتے ہیں اور پھر مجبوراً ( اور کبھی عادتاً ) سود پر پیسے دینے والی ایجنسیوں جیسے ورلڈ بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، آئی ایم ایف ، اور کچھ ملکی بینکوں سے سود پر رقم ادھار لی جاتی ہے۔ ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے اور صاحبان اقتدار او ر اُن پر نظر رکھنے والوں کے بیرون ملک بینکوں میں سرمائے کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ ان تمام خرابیوں کی بڑی وجہ ملک میں مردم شماری کا نہ ہونا ہے۔حکومت نے بہانہ بنا رکھا ہے کہ جب تک فوج ساتھ نہ دے گی وہ مردم شماری نہیں کر سکتے۔ہم حیران ہیں کہ مردم شماری کے لئے فوج کیوں ضروری ہے۔ جیسے محکمہ شماریات مردم شماری کے لئے نہیں، ہندوستان پر حملہ کرنے جا رہا ہے۔