بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / تعلیم اور ہماری ترجیحات

تعلیم اور ہماری ترجیحات


پاکستان میں تعلیم کی صورتحال کا جو بھانڈا اقوام متحدہ کی حالیہ گلوبل ایجوکیشن رپورٹ میں پھوڑا گیا ہے اس رپورٹ میں یہ چشم کشا انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان کا پرائمری تعلیمی نظام دنیا کے بیشتر ممالک سے پچاس سال جبکہ سیکنڈری لیول کا تعلیمی نظام پورے ساٹھ سال پیچھے ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں56فیصد بچے اسکول نہیں جاتے یعنی پاکستان کی بچوں پر مشتمل آدھی سے زیادہ آبادی نہ صرف زیور تعلیم سے محروم ہے بلکہ یہ آبادی جب اگلے دس پندرہ سالوں میں بڑی ہو جائے گی تو یہ اسی شرح سے پاکستان کی مجموعی ناخواندگی میں بھی اضافے کا باعث ہوگی۔ اسے پاکستان کی بدقسمتی سمجھئے کہ یہاں آزادی کے بعد بعض دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جو کہ دی جانی چاہئے تھی۔اس حقیقت کو جھٹلانا شاید کسی کے لئے بھی ممکن نہیں ہوگا کہ تعلیم ہی وہ بنیادی شعبہ ہے جس نے قوموں کے عروج وزوال میں ہمیشہ ایک کلیدی اور نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ایک آزاد قوم کی حیثیت سے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم اول روز سے اپنی تمام تر توجہ اور وسائل کا زیادہ تر حصہ نو آزاد شدہ ریاست کی نئی نسل کو ایک ایسے تعلیمی نظام کی شکل میں دیتے جس میں ملک کے تمام بچوں کے لئے ایک آسان اور قابل فہم وقابل عمل نظام تعلیم کی داغ بیل ڈالی جاتی لیکن بدقسمتی سے ہم نے بحیثیت قوم تعلیم کو اولاً تو کوئی اہمیت نہیں دی اور جو تھوڑی بہت اہمیت دی بھی گئی تواسے بھی مختلف خانوں میں بانٹ دیا گیا۔

آج اگرجاپان،سنگاپور،تائیوان اور ملائشیا جیسے ممالک ترقی کی دوڑ میں ہم سے بہت آگے ہیں تو اس کی وجہ ان ممالک کا تعلیم کے میدان میں ہم سے بہت آگے ہونا ہے۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم اپنی آزادی کے ستر سال بعد بھی کوئی ایسا نظام تعلیم وضع نہیں کر سکے ہیں جس پر پوری قوم کا اتفاق ہو اور جو حقیقی معنوں میں ہماری قومی ضروریات اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ سوال یہ نہیں ہے کہ ہم میں بحیثیت قوم اس مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے یا پھر شاید ہم اتنے گئے گزرے ہیں کہ ہمیں اس مسئلے کی سرے سے سمجھ ہی نہیں ہے یا پھر ہمارے پاس اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے درکار وسائل کی کمی ہے ۔شواہد سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ ہمارے حکمرانوں اور صاحب اختیار قوتوں کی ترجیحات کا ہے۔جب بھارت کی چیرہ دستیوں اور پاکستان مخالف عزائم بھانپنے کے بعد ہم من الحیث القوم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایک مضبوط اور بڑی فوج کو منظم کئے بغیر اپنے سے چار گنا بڑے ملک اور بڑی فوج کا مقابلہ اور وطن کی سرحدوں کا تحفظ ممکن نہیں ہے تو ہم نے دنیا کی چھٹی یا پھر شاید ساتویں بڑی فوج بنانے میں ذرہ برابر تامل سے کام نہیں لیا۔

اسی طرح جب ایک موقعے پر ہم نے محسوس کیا کہ یہ بڑی فوج بھی ہمیں اپنے سے کئی گنا بڑے ملک کی بالادستی اور ہمارے خلاف اس کے مذموم عزائم سے نہیں بچا سکی تو ہم نے ساری دنیا کی مخالفت اور اعتراضات کے باوجودایک انتہائی مشکل قدم اٹھاتے ہوئے ایٹم بم بنانے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ سب کچھ ممکن ہوسکا ہے تو پاکستان تعلیم جیسے اہم ترین شعبے میں آج بھی باقی دنیا سے ساٹھ سال کیوں پیچھے ہے۔اور اس سے بھی ایک اہم سوال یہ ہے کہ اگر تعلیم کے میدان میں ترقی یافتہ ممالک سے ساٹھ سال پیچھے ہونے کے باوجود جب ہم اتنے کارنامے سرانجام دے سکتے ہیں تو اگر ہم تعلیم میں سو فیصد شرح اور ایک متوازن تعلیمی نظام کی داغ بیل ڈالنے میں کامیاب ہو جائیں تب ہم ترقی اور خوشحالی کے لحاظ سے کہاں کھڑے ہوں گے۔اور کیا ایسی صورتحال میں ہماری چالیس فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبورکی جا سکے گی ۔ یقیناً ایسانہیں ہوگا بلکہ جب ہم تعلیم کے شعبے میں مثالی ترقی کریں گے تو اس کا براہ راست اثر ملک کی قومی اجتماعی پیدا وار پر پڑے گا اور اس طرح ہمارا شمار بھی دنیا کے ترقی یافتہ اور خوشحال اقوام میں ہونے لگے گا۔حرف آخر یہ کہ اگر ہم دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنانا چاہتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کا شمار بھی دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہو تو ہمیں انتہائی سنجیدگی سے اپنی ترجیحات اور وسائل کا زیادہ تر حصہ تعلیم کے فروغ اور ترقی کے لئے وقف کرنا ہوگا۔