بریکنگ نیوز
Home / کالم / یہ اسراف نہیں تو اور کیا ہے؟

یہ اسراف نہیں تو اور کیا ہے؟


اگلے روز ایک ٹیلی ویژن چینل نے ایک فوٹج دکھائی جس میں عالی شان قسم کے شامیانے لگے ہوئے تھے، قنات کے اندر ہزارہا میزیں تھیں جن پر مختلف انواع واقسام کے کھانے چنے ہوئے تھے، قمقمے روشنیاں بکھیر رہے تھے اور خبریں پڑھنے والا سامعین کو بتا رہا تھا کہ یہ منظر لاہور کی تاریخ میں سب سے بڑے ولیمہ کا ہے، ایک ایم پی اے صاحب کے فرزند کی شادی کی یہ تقریب ہے کہ جس میں چالیس ہزار مہمانوں کو کھانا کھلایا جارہا ہے، ولیمہ نہ تھا گویا ایک میلہ تھا، یہ تقریب اس ملک میں منعقد ہورہی تھی کہ جہاں بھوک، غربت، ورافلاس سے لوگ خودکشیاں کررہے ہیں، تقریباً آدھی کے قریب آبادی غربت کی لکیر سے نیچے اپنی زندگی گزار رہی ہے، جہاں لوگوں کو آج بھی اس اکیسویں صدی میں بھی پینے کا شفاف پانی میسر نہیں اور آدھی کے قریب آبادی اسی تالاب سے پانی پیتی ہے کہ جس سے جانور بھی اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور جس میں عورتیں اپنے کپڑے بھی دھوتی ہیں، کیا حق پہنچتا تھا اس شخص کو کہ جس نے صرف ولیمے کے کھانے پر کروڑوں روپے لگادیئے کیونکہ اگر آپ فی نفر 300 روپے بھی لگائیں تو جس ہوٹل والے نے چالیس ہزار لوگوں کے کھانے کا بندوبست کیا ہوگا اس نے کئی کروڑ روپے کا بل بھی بنایاہوگا، یہ اسراف ہے، سراسر اسراف۔ عبا۔ ہم نے بزرگوں سے سنا بھی اور پڑھا بھی ہے بلکہ حضرت علیؓ کا فرمان ہے کہ ہر دولت کے انبار کے پیچھے خواہ مخواہ کوئی جرم چھپا ہوتا ہے۔

چوری، ڈاکہ زنی اور عوامی استحصال کے بغیر دولت کے انبار لگائے ہی نہیں جاسکتے، اگر یہ ملک واقعی ایک جمہوری ملک ہوتا تو موصوف کا تعلق جس کسی سیاسی جماعت سے ہے اس کا قائد اس کی ضرور سرزنش کرتا کہ اس نے یہ اسراف کرکے اس ملک کے غریبوں کے زخموں پر نمک کیوں چھڑکا ہے؟ اگر اس ملک کے متعلقہ سرکاری ادارے جیسا کہ ایف بی آر، نیب وغیرہ واقعی آزاد اور مضبوط ہوتے تو وہ اس سے ضرور اب تک پوچھ چکے ہوتے کہ ذرا اپنی آمدنی کے ذرائع تو دکھاؤ، ذرا یہ تو بتاؤ کہ تم حکومت کو انکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس کی مد میں ہر سال کتنے پیسے ادا کرتے آئے ہو؟ الیکشن کمیشن بھی اس کے ان کاغذات نامزدگی کی چھان بین کرتا کہ جو اس نے گزشتہ الیکشن سے قبل جمع کرائے تھے، یہ معلوم کرنے کیلئے کہ ان میں اس نے اپنی آمدنی کے ذرائع اور پراپرٹی کے بارے میں کیا کوائف جمع کرائے تھے؟

جس دن سے ہماری سیاست ایک منافع بخش تجارت بنی ہے اس دن سے ہمارے اراکین اسمبلی کے وارے نیارے ہوگئے ہیں، ہر سال ان کو کروڑوں روپے صرف اسلئے ملتے ہیں کہ وہ اپنے اپنے انتخابی حلقوں میں انہیں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کریں، ہم نے تو آج تک نہیں دیکھا کہ کسی آزاد آڈٹ کے ادارے نے گہرائی میں جاکر یہ دیکھنے کی کوشش کی ہو کہ اس رقم میں سے جوہر سال انہیں باقاعدگی سے ملتی ہے، درحقیقت خرچ کتنی ہو رہی ہے ترقیاتی منصوبوں پر؟ یہ بات اور دلیل غلط ہے کہ ہمارے خلاف کوئی تحقیق نہ ہو کہ ہمارا احتساب تو عوام الیکشن میں کردیتے ہیں، برطانیہ اپنے آپ کو جمہوریت کی ماں کہتا ہے پر وہاں بھی جگہ جگہ تحقیقاتی کمیٹیاں قائم ہیں کہ جو اراکین اسمبلی کے کنڈکٹ (Conduct)پر گہری نظر رکھتی ہیں، اس بات کی تسلی کرنے کیلئے کہ کیا کہیں وہ اپنے عہدے اور پوزیشن سے ناجائز فائدہ تو نہیں اٹھا رہے؟