بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / اقتصادی دہشت گردی

اقتصادی دہشت گردی

دہشت گردی کیخلاف جاری عالمی جنگ کے کئی محاذ ہیں اور یہ صرف عسکریت پسندوں ہی کا احاطہ نہیں کرتی بلکہ مغربی دنیا بالخصوص اقتصادی دہشت گردوں کیخلاف گھیرا تنگ کر رہی ہے اور اسی سلسلے کی کڑی تھی جب امریکہ کے ایک بینک ریگولیٹری ادارے نے پاکستان کے ایک بینک پر متعدد مرتبہ دہشت گردوں کی مالی امداد اور منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کر کے بائیس کروڑ پچاس لاکھ ڈالر جرمانہ عائد کیا اور حکم دیا کہ مذکورہ پاکستانی بینک کی نیویارک شاخ بند کر دی جائے! امریکی حکام کے بقول بینک رقم کی کھاتہ داروں کو منتقلی سے جڑے مسائل‘ شکایات اور سکیورٹی خطرات کو مسلسل نظرانداز کرتا رہا ہے‘ اور جو رقم بینک کے ذریعے ادا اور منتقل ہو رہی ہے وہ دہشت گردی کی تشہیر‘ منی لانڈرنگ یا دیگر غیر قانونی کاموں میں استعمال ہوئی ہوگی۔ امریکہ کی حکومت اپنے ہاں دہشت گردی کی سرگرمیوں کے لئے ہر دروازہ اور وسیلہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر ختم کر رہی ہے تاکہ قومی سلامتی کو عملاً ممکن بنایا جا سکے اور بناء مالی نظم و ضبط یہ ہدف حاصل کرنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ کیا پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی بیس نکاتی قومی حکمت عملی پر عمل درآمد بھی اسی اخلاص و جذبے سے ہوتاہے؟امریکہ کے ایک ریگولیٹری ادارے کی کارکردگی کا موازنہ اگر پاکستان کے جملہ منتظم اداروں بالخصوص مالیاتی نظم و ضبط یقینی بنانے اور سرمائے کی قانونی و غیرقانونی ترسیلی خدمات فراہم کرنے والوں سے کیا جائے‘۔

تو زمین آسمان کا فرق دکھائی دیتا ہے۔ خیبرپختونخوا سے کراچی تک ہر بڑے شہر میں بذریعہ ہُنڈی سرمایہ کسی بھی ملک منتقل کرنے یا حاصل کرنیکی سہولیات کے مراکز موجود اور کھلم کھلا فعال ہیں۔ داخلی مالیاتی نظم و ضبط قائم کرنے والے ادارے اپنی جگہ بے حس ہیں تو قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی بے بسی بھی دیکھی نہیں جاتی! ۔عجیب صورتحال یہ ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کی کوئی واردات رونما ہوتی ہے اُس میں ملوث حملہ آور یا اُن کے سہولت کاروں کا کوئی نہ کوئی تعلق پاکستان سے ضرور نکل آتا ہے۔ ہمارے دفاعی اور اقتصادی تجزیہ کاروں سمیت ہر مسئلے کو اچھالنے والے ذرائع ابلاغ اس معاملے پر خاموش ہیں‘ جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اِس پورے معاملے میں حکمراں اشرافیہ کہیں نہ کہیں ملوث یا مستفید رہی ہے۔ قومی سطح پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ پاکستان میں احتساب کے ادارے ملک سے زیادہ اپنے محسنوں کے حقوق اَدا کر رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان کبھی بھی نہیں جیت سکتا کیونکہ ہم اقتصادی دہشت گردوں میں تمیز ہی نہیں کر پا رہے!

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو بری کرنے سے متعلق چھبیس اگست کے فیصلہ کو لاہورہائی کورٹ کے راولپنڈی بنچ میں چیلنج کرتے ہوئے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ راولپنڈی کی احتساب عدالت نے مقدمے کے اہم گواہوں کو نظرانداز کیا جبکہ عدالت نے اہم ریکارڈ بھی پیش نہیں کرنے دیا اور ’جلد بازی‘ میں فیصلہ سنا دیا اور احتساب عدالت نے ’سرسری سماعت‘ کے نتیجے میں بری کرکے ’غلط مثال‘ قائم کی ہے۔‘‘ آصف علی زرداری کے اثاثہ جات اپنی جگہ یہاں تو نیب جیسے معززادارے نے احتساب عدالت جیسے معزز ادارے پر چار سنگین الزامات عائد کر دیئے ہیں۔اہم گواہ نظرانداز کئے گئے۔ اہم ریکارڈ پیش کرنے سے روکا گیا۔ سرسری سماعت اور عدالتی فیصلے کی صورت ’غلط مثال‘ پیش کی گئی! آصف علی زرداری کی طرح نواز شریف بمعہ اہل خانہ و سمدھی چار عبوری مقدمات میں احتساب عدالت کو مطلوب ہیں‘ اگر آصف علی زرداری اَثاثہ جات کیس کی طرح اِحتساب عدالت یہی چار اقدامات دہراتی ہے تو حیرت نہیں ہوگی کہ ان تمام مقدمات کی قسمت بھی زیادہ مختلف نہ ہو اور شریف خاندان کو بھی عنقریب باعزت بری کر دیا جائے تو کیا پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے ہی مالی بدعنوانیوں‘ گھپلوں‘ ٹیکس چوری‘ منی لانڈرنگ‘ آمدن سے زائد اندرون و بیرون ملک اثاثہ جات کے مالک اور دہشت گردی کیلئے ذمہ دار ہیں؟