بریکنگ نیوز
Home / کالم / تجدیدعہدکادن

تجدیدعہدکادن

آج گیارہ ستمبر ہے آج ہی کے دن 1948ء میں بابائے قوم محمد علی جناح ہم سے جدا ہوگئے وہ ایسا وقت تھا کہ پاکستان ابھی پوری طرح اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہوا تھا بانی پاکستان کو موقعہ ہی نہ ملا کہ وہ اپنی زندگی میں وہ ایجنڈا مکمل کرلیتے کہ جو انہوں نے اس ملک کی بہتری اور اس کے عوام کی خوشحالی کے لئے سوچ رکھا تھا شو مئی قسمت دیکھئے کہ ان کے جانشین اس معیار کے نہ نکلے کہ وہ قائداعظم کی اس تخلیق میں وہ رنگ بھر دیتے جو بانی پاکستان کے ذہن میں تھے بھارت نے چار سال کے اندر اندر اپنے لئے آئین بنالیا ملک سے فیڈرل ازم اور جاگیردارانہ نظام چلتا کیا اور اسے ایک قابل عمل سیاسی ڈھانچہ فراہم کردیا جبکہ ہمارے حکمران محلاتی سازشوں میں گرفتار ہوگئے 1956ء میں انہوں نے ایک ایسا آئین بنایا کہ جس میں بنگالیوں کو نظر انداز کرکے پاکستان کو تقسیم کرنے کے جراثیم اس میں چھوڑ دیئے بنگالیوں کا روپے میں دس آنے حصہ بنتا تھا انہیں آٹھ آنے دیئے گئے اس غیر منصفانہ تقسیم نے آخر ایک دن اپنا رنگ تو دکھانا تھا سو وہ پھر سیخ مجیب الرحمان کے چھ نکاتی پروگرام میں ظاہر ہوا مکتی باہنی بنی دشمنوں نے بنگالیوں کی مرکزی حکومت کیخلاف نفرت سے فائدہ اٹھایا اور انجام کار یہ ملک 1971ء میں دوٹکڑے ہوا قائداعظم کی روح یقیناًتڑپتی ہوگی خانہ پری کے لئے 11ستمبر کے دن کے حوالے سے ہمارے حکمران رسمی طور پر تو بیان بھی داغ دیتے ہیں۔

قائداعظم کے فرمودات کا ذکر بھی کردیتے ہیں اور قوم کو ان پر چلنے کی ہدایت بھی کردیتے ہیں پر خود کبھی بھی انہوں نے اس پر عمل نہ کیا نہ ماضی میں اور نہ اب ہمارے حکمرانوں نے ہر وہ کام کیا کہ جو قائداعظم کے فرمودات کے سراسر خلاف تھا کس کا ذکر کریں اورکس کو چھوڑ یں اولاً بانی پاکستان نے صاف صاف کہا تھا کہ سرکاری ملازمین صرف اور صرف ریاست اور ملکی قوانین کے تابع ہوں گے آنے والے حکمرانوں نے انہیں صرف حکومت وقت کے تابع کردیا باقی دو باتیں یعنی ریاست سے وفاداری اور قوانین کی پاسداری ان سے بھلا دی قائداعظم نے یہ کہا تھا کہ پاکستان میں بسنے والا ہر شخص برابر کا شہری ہوگا اس فرمان کی ہم نے کسی مٹی پلید کی وہ سب جانتے ہیں، خواص کیلئے الگ جبکہ عوام کیلئے الگ قانون ہے ۔اس پر طرہ یہ کہ ہمارے حکمرانوں نے اس ملک کو ’حلوائی کی دکان دادا جی کا فاتحہ‘ کے مصداق دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہمارے حکمران دنیا میں کرپشن کے حوالے سے بدنام ہوئے۔ آج کے دن جماعت اسلامی کرپشن کے خلاف ایک لانگ مارچ بھی کررہی ہے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق صاحب کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ابھی تو کرپشن کی عمارت کا صرف ایک ستون گرا ہے باقی عمارت تو ابھی کھڑی ہے ابھی تو ایجنڈا نامکمل ہے اس لوٹی ہوئی دولت کا کیا ہوگا جو یار لوگ یہاں سے ناجائز طور پر کما کر باہر لے گئے ہیں۔

جہاں انہوں نے پراپرٹی خرید رکھی اور بنکوں میں اسے جمع کرارکھا ہے وہ دولت اگر واپس آجائے تو پاکستان پر چڑھے ہوئے تمام بین الاقوامی قرضے یکمشت ختم کراکے جاسکتے ہیں جب تک اس حرام دولت کی قرقی نہ ہوگی اسے بحق سرکار ضبط کرکے اسے نیلام عام نہیں کیا جائے انصا ف کے تقاضے پورے نہ ہوں گے۔ قائداعظم نے پاکستان اس لئے نہیں بنایا تھاکہ چند خاندان اس کے وسائل پر قابض ہوجائیں اور ملک کی اکثریت بھیڑ بکریوں اور چوپایوں جیسی زندگی گزاریں کرپشن کے خلاف اس وقت ملک بھی جو عوامی لہر اٹھی ہوئی ہے اسے اپنے منطقی انجام تک پہنچنے کی ضرورت ہے کرپشن کی مثال کینسر کی بیماری جیسی ہے کینسر کا علاج اگر آدھ راستے میں چھوڑ دیا جائے تو وہ کچھ عرصے بعد دوبارہ جسم کے کسی دوسرے حصے سے اپنے سراٹھاتی ہے لہٰذا اس کو جڑ سے نکالنا ضروری ہوتا ہے اس طرح کرپشن کا قلع قمع کرنا ہوگا ورنہ یہ دوبارہ جڑ پکڑ سکتی ہے۔