بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / خیبر پختونخوا کے جڑواں بچیوں کا سعودیہ میں کامیاب آپریشن

خیبر پختونخوا کے جڑواں بچیوں کا سعودیہ میں کامیاب آپریشن

اسلام آباد۔ سعودی عرب میں دو جڑواں پاکستانی بچیوں کا کامیاب آپریشن کر کے علیحدہ کر دیا گیا، اب تک 40 سے زائد آپریشن کر کے جڑواں بچوں کو علیحدہ کیا گیا ہے، اس طرح کے دنیا میں سب سے زیادہ آپریشن سعودی عرب میں کئے گئے، بچیوں کا تعلق خیبرپختونخوا سے ہے، علاج پر 85 لاکھ روپے سے زیادہ خرچ آیاتمام اخراجات سعودی حکومت نے برداشت کئے۔ تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز سعودی سفارت خانہ میں پاکستانی جڑواں بچیوں فاطمہ اور مشاعل کی علیحدگی کے لئے کئے جانے والے کامیاب آپریشن کی خوشی میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی اور بچیوں کے والد نثار خان اور والدہ بھی موجود تھیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سعودی سفیر نواف بن سعید المالکینے کہا کہ ان بچیوں کو ان کے والدین کے ہمراہ خادم حرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے مہمان خصوصی کے طور پر ریاض لایا گیا اور وہاں ان بچیوں کو شاہ عبدالعزیز شہر میں موجود بچیوں کے ہسپتال میں داخل کیا گیا جہاں پر ڈاکٹروں نے پانچ گھنٹے مسلسل جاری آپریشن کے بعد دونوں کو علیحدہ کیا۔ سعودی عرب مستحق افراد کی مدد اور قدرتی آفات میں لوگوں کی مدد کرنے میں دنیا میں سب سے آگے ہے اور یہ آپریشن اس کی ایک کڑی ہے۔ اب تک سعودی عرب میں جڑواں بچوں کو علیحدہ کرنے کے 40 سے زائد آپریشن ہو چکے ہیں اور یہ تعداد دنیا میں کسی بھی ملک میں ہونے والے اس قسم کے آپریشن سے زیادہ ہے۔

اس طرح کے کیس دو لاکھ افراد میں ایک بچہ ہوتا ہے اور اس لئے اس کا آپریشن کرنے کی سہولیات بہت کم ممالک میں ہیں۔ اس طرح کے ایک آپریشن پر خرچ تقریباً 3 لاکھ سعودی ریال جو کہ پاکستانی 85 لاکھ روپے بنتے ہیں اور یہ تمام اخراجات سعودی عرب کی حکومت برداشت کرتی ہے اوراس قسم کے تمام آپریشن شاہ سلمان کی ہدایت پر کئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح آپریشن کرنے والی ٹیم میں 70 ڈاکٹرز اور تکنیکی افراد شامل ہیں اور ان کی قیادت سابق وزیر صحت ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ کرتے ہیں اور یہ آپریشن پاکستان سعودی عرب دوستی کی واضح مثال ہے اور اس سے پاک سعودی دوستی مزید مضبوط ہو گی۔

تقریب سے بچیوں کے والد نثار خان نے سعودی حکومت، عوام اور ڈاکٹروں کا شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے بچیاں زندہ ہیں اور کہا کہ سعودی حکومت کی مدد کے بغیر میں یہ آپریشن بالکل نہیں کر سکتا تھا۔ اس آپریشن کے اخراجات برداشت کرنا عام آدمی کے بس کی بات نہیں ہے۔