بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / فاٹا اصلاحات کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ ختم

فاٹا اصلاحات کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹ ختم


پشاور ۔ قائمہ کی طرف سے مستردکیے جانے کے بعدوفاقی حکومت کی طرف سے قبائلی رواج بل 2017 کی جگہ نیا بل منظور کرانے کے فیصلے کے بعدفاٹا اصلاحات پر عملدرآمدکی راہ میں بڑی رکاوٹ ختم ہوگئی ہے جس کے بعداب التواء میں پڑے معاملات جلد حل ہوسکیں گے جبکہ فاٹا کے لیے سالانہ 110ارب روپے مختص کرنے کی راہ بھی ہموار ہوسکے گی ذرائع کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس میں اس حوالہ سے طویل مشاور ت کی گئی جس کے بعدنیا بل لانے کافیصلہ کیاگیاتاکہ فاٹااصلاحات پرفوری عملدرآمدکو ممکن بنایاجاسکے۔

اجلا س میں شرکت کرنے والے ایک وفاقی وزیر کے مطابق اس بل کے ذریعے فوری طور پر سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کا دائرہ اختیار فاٹا تک بڑھایا جائے گا اور بل کو فوری پارلیمنٹ میں بھی پیش کیا جائے گا۔نئے بل کے تحت پاکستان کے معمول کے قوانین کا قبائلی علاقہ جات میں بھی اطلاق ہوگا جب کہ وفاقی حکومت فاٹا اصلاحات پر مرحلہ وار عمل درآمد کرے گی اجلا س میں فاٹا کے لیے چیف آپریٹنگ آفسر کی تقرری کی منظور ی بھی دی گئی جو سویلین افسر ہوگا اور فاٹا اصلاحات کے عبوری دور میں معاملات کی نگرانی کرے گا ۔

اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ فاٹامیں ترجیحی بنیادوں پرترقیاتی کاموں کاسلسلہ شروع کیاجائے گا اور سالانہ 110ارب روپے کے ذریعے فاٹا کو دیگر ترقی یافتہ علاقوں کے برابرلایاجائیگااس مقصد کے لیے نئے این ایف سی ایوارڈ کے لیے فور ی طورپر سی سی آئی کا اجلاس بلانے کا عندیہ بھی دیاگیاہے ذرائع کے مطابق اجلا س میں اس ا مر پر بھی اتفاق کیاگیاکہ فاٹا کے لیے کوئی الگ قانون لانے کے بجائے خیبرپختونخوامیں نافذقوانین ہی لاگو کیے جائیں گے تاہم 2018کے انتخابات میں فاٹا کے لیے صوبائی اسمبلی میں نشستوں کے معاملہ پرکوئی پیشرفت نہ ہوسکی جس کے بعداب قبائلی عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی کے لیے 2023کے الیکشن کاانتظار کرنا پڑے گا