بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / عالمی ضمیر کب بیدار ہوگا؟

عالمی ضمیر کب بیدار ہوگا؟

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نیو یارک میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت اور عالمی رہنماؤں کیساتھ ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال اور بدلتے عالمی منظر نامے میں پاکستان کے اصولی اور دوٹوک موقف کی کھل کر وضاحت کردی ہے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ خطے میں بھارتی بالادستی کسی صورت قبول نہیں‘ جبکہ افغانستان میں قیام امن کیلئے ہر طرح کی بات چیت کرنے کو تیار ہیں وزیراعظم یہ بھی کلیئر کرتے ہیں کہ پاکستان کو مالی امداد کی ضرورت نہیں ہمیں صرف عالمی منڈیوں تک رسائی چاہئے سی این این کو اپنے انٹرویو میں وزیراعظم کہتے ہیں کہ بھارت پاکستان کیلئے خطرہ ہے اور اسی خطرے کے پیش نظر ایٹمی قوت حاصل کی امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو ایک انٹرویو میں وزیراعظم کا کہنا ہیکہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی کمانڈ اور کنٹرول محفوظ ہاتھوں میں ہے وزیراعظم نے نیو یارک میں امریکی نائب صدرمائیک پنس کے ساتھ45منٹ ملاقات کی جبکہ امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ مختصر ملاقات سے متعلق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ انہوں نے امریکی صدر کو بتایا ہے کہ پاکستان ہر قسم دہشت گردی کے خلاف پرعزم ہے عین اسی روز اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے رابطہ گروپ نے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے قرارداد پر جلد سے جلد عمل درآمد کرائے پاکستان کا اہم معاملات پر موقف صرف بیان کی حد تک محدود نہیں اس کی سپورٹ میں پاکستان کے اقدامات اورقربانیاں خود ریکارڈ کا حصہ ہیں اس سب کے جواب میں نئی دہلی اور کابل سے بے بنیاد الزام تراشیوں پر مبنی بیانات آتے رہے اسکے ساتھ برکس اعلامیہ سامنے آیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی میں پاکستان کے حوالے سے بے بنیاد باتیں کہی گئیں وزیراعظم نے نیو یارک میں پاکستان کا موقف پیش کیا ہے ضرورت خارجہ محاذ پر مزید موثر رابطوں کی ہے تاکہ عالمی ضمیر بیدار ہو سب سے اہم بات امدادکی ضرورت نہیں منڈیوں تک رسائی کے عزم کو عملی شکل دینے کیلئے جدوجہد کی ہے۔

صرف کمیٹی بنانا کافی نہیں

پشاور کی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے جنرل بس سٹینڈ شہر سے باہر منتقل کرنے اور اس جگہ آئی ٹی ٹاور بنانے کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے کمیٹی کو10روز میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کا کہا گیا ہے جنرل بس سٹینڈ کی منتقلی اور جگہ جگہ بنے غیرقانونی ٹرانسپورٹ اڈوں کے خاتمے کا عندیہ طویل عرصے سے دیا جارہاہے تاہم تازہ اطلاع کے مطابق اب ضلع ناظم نے صرف جنرل بس سٹینڈ کے حوالے سے کمیٹی قائم کی ہے اس کمیٹی کی رپورٹ آنے پھر بس سٹینڈ کا منصوبہ بننے اور مکمل ہونے میں جتنا وقت لگے گا اس تک پشاور میں ٹریفک کے بے تحاشہ و بے ہنگم دباؤ کو نظم و ضبط میں لانے کیلئے اقدامات سوالیہ نشان ہی رہیں گے بس سٹینڈ کی منتقلی کے طویل اور صبرآزما انتظار میں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنے کی بجائے ضرورت فوری ریلیف کیلئے موثر اور عملی صورت اختیار کرنے کے قابل منصوبہ بندی کی ہے اس مقصد کیلئے ٹرانسپورٹرز عوامی نمائندوں اور تاجروں کے ساتھ مشاورت سے مختصر المدتی پلاننگ کی جاسکتی ہے ہمارے ہاں مریضوں کو ہسپتالوں کے برآمدوں ایڑیاں رگڑتے دیکھے جانے پر یہ کہہ دیا جاتا ہے کہ جلد نئے ہسپتال تعمیر ہونگے یہی حال دیگر شعبوں میں بھی ہے ہمیں پہلے مرحلہ پر موجود انفراسٹرکچر کو بہتر اور خدمات کے قابل بنانا چاہئے۔