بریکنگ نیوز
Home / کالم / مثبت تبدیلی

مثبت تبدیلی

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو بیس کے ضمنی انتخابات کا نتیجہ بہت سی ان کہی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ سترہ ستمبر کو ہوئی پولنگ میں کلثوم نواز کی فتح یقینی تھی مگر اس قدر کم ووٹوں سے؟ اس بات کا بالکل‘ کسی کو بھی یقین نہیں تھا‘ بہرحال ’ایک سو بیس‘ لاہور کا وہ حلقہ ہے جو قریب تین دہائیوں سے پارٹی اور شریف خاندان کا مضبوط گڑھ رہا ہے۔ یہ ناقابل تصور تھا کہ انہیں وہاں سے ہرایا جا سکتا ہے مگر مقابلہ کانٹے کا تھا اور اپنی سیاسی قسمت چمکانے کے لئے شریف خاندان کو جس نتیجے کی توقع تھی‘ یہ وہ نتیجہ نہیں تھا۔ نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے نااہلی کے بعد خالی ہونیوالی نشست بھلے ہی شریف خاندان نے واپس حاصل کر لی ہو مگر پاکستان مسلم لیگ نواز اور ملک کے سب سے طاقتور سیاسی خاندان کیلئے یہ سخت مقابلہ باعث تشویش ہونا چاہئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پارٹی کو اتنا سخت مقابلہ مرکز اور صوبائی حکومت میں ہونے کے باوجود پیش آیا۔سال دوہزار تیرہ کے عام انتخابات میں انتالیس ہزار سے زائد ووٹوں کے مارجن سے فتح دوہزارسترہ میں سکڑ کر صرف چودہ ہزار رہ جانا پارٹی کی اپنے ہی گڑھ میں حمایت میں کمی کی علامت ہے۔

یقینی طور پر این اے ایک سو بیس کے ضمنی انتخابات ملکی سیاست کو تو تبدیل نہیں کریں گے مگر انکا مستقبل کی سیاست پر گہرا اثر ضرور ہوگا۔ ضمنی انتخابات کسی بھی جماعت کی عوامی مقبولیت پرکھنے کا کوئی قابل بھروسہ معیار نہیں ہوتے مگر این اے ایک سو بیس کو سیاسی اہمیت اس لئے حاصل تھی کیونکہ یہ نشست ایک وزیرِ اعظم کے صادق و امین نہ ہونے کی بناء پر نااہل ہونے کے بعد خالی ہوئی تھی۔ تحریک انصاف اور نواز لیگ دونوں ہی کی انتخابی مہم نواز شریف کی نااہلی کے عدالتی فیصلے کے گرد گھومتی رہی۔جہاں مسلم لیگ نواز نے ووٹ کو وزیرِ اعظم کی نااہلی کے متنازع عدالتی فیصلے کی عوام کی جانب سے نامنظوری قرار دیا‘ تو وہیں ’پی ٹی آئی‘ کے لئے یہ انتخابی شکست درحقیقت اخلاقی فتح ہے لیکن ان دونوں ہی مدمقابل سیاسی جماعتوں کا مؤقف درست نہیں ہے۔ ہاں پاناما پیپرز سکینڈل کا سایہ ضمنی انتخابات پر ضرور تھا مگر یہ کوئی فیصلہ کن معیار نہیں تھا۔ نااہل ہوچکے وزیر اعظم کی اہلیہ کے امیدوار ہونے اور حکمران جماعت کی جانب سے مریم نواز کی زبردست انتخابی مہم کے باوجود ووٹرز کا کم8 ٹرن آؤٹ ایسی اہم حقیقت ہے جسے ضرور مدنظر رکھنا چاہئے۔ شاید یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ نکالے گئے رہنما اپنے گڑھ میں ایسی ہردلعزیز شخصیت بھی نہیں ہیں جیسا کہ انہیں پیش کیا جا رہا تھا یہ واضح ہے کہ ہمدردی کا ووٹ حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ بلاشک و شبہ کلثوم نواز مسلم لیگ نواز کی سب سے مضبوط امیدوار تھیں مگر پھر بھی تاریخی فتح حاصل نہیں کی جا سکی‘ یہ اس لئے بھی حیران کن ہے کیونکہ تحریک انصاف کی اپنی مہم بھی بھرپور نہیں تھی۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کو تقریباً اکیلا چھوڑ دیا گیا تھا اور مہم کے آخری دنوں میں ایک دو جلسوں کے علاوہ کوئی بھی سینئر پارٹی رہنما ان کا ساتھ دینے نہیں آیا۔ فتح کے اس باریک سے مارجن میں کئی دیگر عوامل بھی کارفرما رہے ہیں‘ مثلاً خاندانی جھگڑے اور پارٹی کے اندر پڑتی دراڑیں۔

نادیدہ ہاتھ کے الزامات اور یہ سازشی مفروضے کہ ایجنسیوں نے کئی امیدوار کھڑے کئے تھے‘ بے بنیاد ہیں ۔ این اے ایک سو بیس اور اس سے قبل انتخابی مہم میں مریم نواز کے کردار کے بارے میں کافی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ کئی مبصرین مریم نواز کی شرکت کو پارٹی قیادت کی دوڑ میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان قرار دیتے ہیں‘ بھلے ہی وہ کافی عرصے سے پس منظر میں پارٹی سیاست کا حصہ رہی ہیں‘ نواز شریف نے واقعتا اپنی ’قابل‘ بیٹی کو اپنے جانشین کے طور پر بڑا کیا ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ وہ مرکزی سیاسی منظرنامے پر سامنے آئی ہیں۔ وہ کافی متاثر کن اور اپنی باتوں میں واضح نظر آئیں‘ قدامت پسند سماجی اقدار اور کابینہ و پارٹی کے سینئر عہدوں میں کم ترین خواتین والی پارٹی کے اندر مریم نواز کا معاملات اپنے ہاتھ میں لینا ایک مثبت تبدیلی ہے مگر موروثی سیاست میں اعلیٰ ترین رہنما کی بیٹی ہونے سے بھی بہت فرق پڑتا ہے‘ جیسا کہ متوقع تھا‘ ان کے عروج پر پارٹی کے اندر سے‘ شریف خاندان اور باہر سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

جہاں انہوں نے پارٹی کے اندر اپنے لئے خاصی حمایت پیدا کرلی ہے تو وہیں کئی سینئر پارٹی رہنماؤں کو ان کی قبل از وقت ترقی پر تحفظات ہیں۔ چوہدری نثار علی خان جیسے پرانے رہنما تو کھل کر بولے ہیں مگر کچھ دیگر نے اپنی تنقید کو اب تک زباں نہیں دی ہے۔ مریم کواپنے خاندان کے اندر سے بھی کافی مزاحمت کا سامنا ہے‘ بظاہر مریم نواز کی بڑھتی ہوئی دھاک نے پارٹی کے اندر طاقت کی رسہ کشی کو بڑھا دیا ہے۔شریف برادران اور انکے بچوں کے درمیان خلیج اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ کے انتخابی مہم کے دوران بیرون ملک ہونے نے اختلافات کو مزید آشکار کر دیا ہے‘ ایک اور چیز جو مریم کے خلاف جا سکتی ہے، وہ احتساب عدالتوں میں دائر مقدمات ہیں جن کی ابھی سماعت تو شروع نہیں ہوئی لیکن خطرہ بہرحال موجود ہے‘کیا نوازلیگ اسٹیبلشمنٹ سے پس پردہ مفاہمت کی کوششیں کریگی تاکہ اپنا سیاسی مستقبل بچا سکے؟ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: مظہر فاروقی۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)