بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / صرف فصیل شہر نہیں ٹوٹی

صرف فصیل شہر نہیں ٹوٹی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72 ویں اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ریکارڈ پر موجود شواہد اور برسرزمین حالات کی روشنی میں پاکستان کی پالیسی کے خدوخال اجاگر کئے وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان سمیت کسی بھی ملک کیلئے قربانی کا بکرا نہیں بنے گا بین الاقوامی طاقتیں افغانستان میں اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر مت ڈالیں بھارت اگر ایل او سی کے پار مہم جوئی یا پاکستان کیخلاف محدود جنگ کے نظریئے پر عمل کرتا ہے تو اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ دریں اثناء وزیر خارجہ خواجہ آصف اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں وزیراعظم نے بتایا کہ ہماری 27 میٹنگز ہوئیں جن میں ہم نے پاکستان کا موقف ہر جگہ بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ہم افغانستان میں امن کے ساتھ یہ بھی چاہتے ہیں کہ افغان اپنے معاملات خود طے کریں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ساتھ بات چیت میں انہوں نے بتایا کہ بھارت نے پاکستان کیساتھ مذاکرات کے دروازے بند کر رکھے ہیں وزیراعظم نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ڈوزئیر بھی دیا۔

دوسری جانب بھارتی سکیورٹی فورسز کی ورکنگ باؤنڈری کے چارواہ اور ہرپال سیکٹر میں فائرنگ میں 4 خواتین سمیت 6 بے گناہ شہری شہید اور 26 زخمی ہوگئے ہیں بھارت کی جانب سے صرف رواں سال سیز فائر کی 600 مرتبہ خلاف ورزی کی گئی ہے جبکہ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھی بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ بدستور جاری ہے پاکستان تمام حقائق دستاویزی ثبوتوں کیساتھ پیش کرچکا ہے اقوام متحدہ سے کشمیر سے متعلق خصوصی نمائندہ مقرر کئے جانے کا بھی کہہ دیا گیا ہے ضروری یہ ہے کہ عالمی ادارہ جموں وکشمیر سے متعلق اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کے سلسلے میں ذمہ داریاں پوری کرے اور اس عمل کی نگرانی اسی نمائندے ہی کو دی جائے جس کی تقرری کا مطالبہ پاکستان کررہا ہے وزیراعظم پاکستان یہ بات بھی کہہ چکے ہیں کہ کنٹرول لائن پر کسی بھی مہم جوئی یا پاکستان کے خلاف محدود جنگ کے ڈاکٹرائن پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں بھارت کو برابر کا جواب دیا جائیگا اب عالمی ادارے کی اپنی غیر جانبداری اور ساکھ کا تقاضا بھی ہے کہ وہ صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اپنا موثر کردار ادا کرے۔

صرف فصیل شہر نہیں ٹوٹی

پشاور کے ضلع ناظم نے صوبائی دارالحکومت کے گرد تعمیر تاریخی دیوار کی توڑ پھوڑ کا نوٹس لیا ہے۔ ضلعی حکومت کی جانب سے یہ نوٹس قابل اطمینان سہی تاہم ناکافی بھی ضرور ہے ناقص منصوبہ سازی اور محدود انفراسٹرکچر پر لامحدود دباؤ نے پورے پشاور کو توڑ پھوڑکر رکھ دیا ہے۔ اس بڑے پیمانے پر ہونے والی توڑ پھوڑ کے بعد اگر بحالی کا کام کرنا ہی ہے تو اس کے لئے پہلے ترجیحات کا تعین ضروری ہے ہمیں سب سے پہلے پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانا ہوگی شہر میں صفائی اور بلاک سیوریج نظام کو کلیئر کرنا ہوگا ٹریفک کو ایک نظم میں لانا ہوگا گرانی اور ملاوٹ کنٹرول کرنا ہوگی خدمات کے موجودہ اداروں کو منظم و فعال بنانا ہوگا پبلک ٹرانسپورٹ کا ہر روٹ پر انتظام کرنا ہوگا تاکہ لوگوں کو براہ راست ریلیف ملے اور وہ تبدیلی کا خوشگوار احساس پائیں یہ سب اس وقت ممکن ہوگا جب حقائق کا درست احساس تکنیکی مہارت کے ساتھ کیا جائے اور فول پروف حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھا جائے۔