بریکنگ نیوز
Home / کالم / وزیرستان میں کرکٹ

وزیرستان میں کرکٹ

کل تک کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ میران شاہ جیسی جگہ پر جو گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردوں کا ایک گڑھ تھا وہاں ٹوینٹی ٹوینٹی کرکٹ میچ کھیلا جائے گا جس میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے نامور کھلاڑی غیر ملکیوں کے ساتھ کرکٹ کھیلیں گے انضمام الحق نے صحیح کہا یہ ان کے کبھی وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وزیرستان جیسی جگہ پر زندگی میں وہ کرکٹ کھیل سکیں گے عساکر پاکستان نے یہ کارنامہ سرانجام دیکر ایک بہت بڑا کام کیا ہے یہ ایک ایسا کام تھا جو ایک طر ف اور فارن آفس کا دنیا میں پاکستان کا سافٹ امیج پروموٹ کرنا دوسری طرف‘ دنیا کو یقیناًیہ پیغام چلا گیا ہے کہ افواج پاکستان نے وزیرستان کا امن اپنی بے پناہ قربانیوں سے بحال کر دیا ڈیورنڈ لائن کے اس طرف افغان نیشنل آرمی اور امریکن افواج مل کر وہ کام نہ کر سکیں جو پاکستان کی افواج نے تن تنہا قبائلی علاقے میں کر ڈالا پاکستان سے ڈو موڑ کا تقاضا کرنیوالے ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر ضرور دیکھیں آرمی چیف نے بجا کہا اب ہم سے ڈو مور کا مطالبہ نہ کیا جائے ہم اپنے وسائل اور اپنی بساط سے بہت زیادہ کر چکے ‘ میران شاہ شمالی وزیرستان کا ہیڈ کوارٹر ہے تاریخ کی کتابوں کے مطالعے اور بزرگوں کی باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ ایک ایسا زمانہ ماضی میں بھی ضرور تھا اور یہ غالبا1934-35کی بات ہے کہ شمالی وزیرستان میں مثالی امن ہو ا کرتا تھاکھجوری کا فوجی قلعہ شمالی وزیرستان اور بنوں ایف آر (بکا خیل)کی سرحد پر واقع ہے بنوں کھجوری سے تقریباً 17 میل پر واقع ہے وہاں کی کنٹونمنٹ میں ایک سنیما گھر واقع ہے کہ جس میں انگریزی فلمیں لگا کرتی تھیں کھجوری کے قلعہ میں جو گورے فوجی تعینات تھے۔

وہ موٹر سائیکلوں پر فلم کا آخری شو دیکھنے کھجوری سے بنوں جاتے اور پھر آدھی رات کو فلم دیکھنے کے بعد واپس آتے اتنا زبردست امن ہوا کرتا ‘کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ امن اس وقت تاراج ہوا جب فقیر آف ایپی نے فرنگیوں کے خلاف اپنی مسلح تحریک1936 میں اسوقت شروع کی جب بنوں میں اسلام بی بی والا مشہور زمانہ واقعہ پیش آیا جب ایک ہندو لڑکی رام چکوری نے اسلام قبول کرکے ایک مسلمان سے شادی کر لی کہ جسے بعد میں دوبارہ ہندو دھرم میں شامل کیا گیا1936 سے لیکر1947ء تک شمالی وزیرستان ہی نہیں بلکہ اس سے ملحقہ جنوبی وزیرستان کے حالات بھی کشیدہ رہے پاکستان بننے کے بعد سے لیکر اس وقت تک کہ جب تک 1980کی دہائی میں سوویت یونین نے افغانستان میں فوجی مداخلت نہیں کی تھی وزیرستان کا امن عامہ مثالی رہا نائن الیون کے بعد تو اس علاقے کا امن عامہ اتنا خراب ہو گیا کہ وہاں کوئی سرکاری اہلکار بغیر مضبوط قسم کے مسلح باڈی گارڈز کے بغیر سفر ہی نہیں کر سکتا تھا۔

دہشت گردوں نے میران شاہ کے سکاؤٹس کے قلعے کے نزدیک واقع بازار اور مارکیٹ میں اپنے اڈے بنا لئے تھے اور مقامی آبادی ان کے ہاتھوں یرغمال بن چکی تھی یہ افواج پاکستان کی از حد کامیابی ہے کہ انہوں نے نہ صرف شمالی وزیرستان کا کھویا ہوا امن عامہ بحال کیا وہاں حالات اتنے زیادہ بہتر کئے کہ آج وہاں غیر ملکی آ کر کرکٹ میچ کھیلتے ہیں یہ سب کچھ افواج پاکستان کی بے مثال قربانیوں کے بعد ہوا ہمیں اس امن کو مزید مستحکم بنانے کیلئے ہمہ وقت بیدار رہنا ہو گا ورنہ دشمن کم بیک کر سکتا ہے۔