بریکنگ نیوز
Home / کالم / بچت اور بینکوں کا رویہ

بچت اور بینکوں کا رویہ


بینکنگ سیکٹر کسی قوم کے لئے کتنا اہم ہے اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اگر کوئی بندہ ملازمت کرتا ہے تو اس کے لئے اپنی تنخواہ سے کچھ بچا لینا بہت ہی مشکل ہوتا ہے‘ اس لئے کہ آپ چاہے کتنی ہی زیادہ سیلری لے رہے ہوں آپ کے اخراجات ہمیشہ آپ کی آمدن سے بڑھ جاتے ہیں۔ انگریز کو اس کا بخوبی علم تھا اسی لئے اس نے تنخواہ دار طبقے کیلئے ایک لازمی بچت سکیم رکھ دی ‘یعنی اس کی تنخواہ سے کچھ رقم لازمی کٹوتی کی ضمن میں آ جاتی ہے جسے پراویڈنٹ کا نام دیا گیا ہے‘ جوں جوں آپ کی سیلری میں اضافہ ہوتا ہے توں توں آپ کے پراویڈنٹ کی کٹوتی بھی بڑھتی جاتی ہے‘ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہے کہ جب بھی آپ کو کوئی ایمرجنسی میں رقم درکار ہوتی ہے توآپ اپنے پراویڈنٹ سے پیسے نکال سکتے ہیں جسے پھر آپ قسطوں میں واپس اپنے اکاؤنٹ میں جمع کر دیتے ہیں‘آپ اگر اپنے بیٹے یا بیٹی کی شادی کروا رہے ہیں تو آپ کیلئے آپکی پراویڈنٹ کی رقم حاضر ہے‘اس طرح اگر آپ کو اپنے مکان کی مرمت کیلئے رقم درکار ہے تو بھی آپ کا یہ اکاؤنٹ حاضر ہے‘چنانچہ یہ آپکی لازمی بچت آپکی ایسی پونجی ہے جو آپ کی ہر مشکل میں کا م آتی ہے۔

بچتوں کا یہ نظریہ بینکنگ سیکٹر نے اس وقت اپنے کلائنٹ کیلئے متعارف کروایاتھا کہ جب بینک پرائیویٹ سیکٹر میں تھے پھر کوئی بزرجمہر ایسے اس ملک کی قسمت میں لکھے گئے جنہوں نے اس سیکٹر کی بربادی کی ٹھانی۔اس کو پرائیویٹ سیکٹر سے نکال کر حکومتی سیکٹر میں ڈال دیا گیا اب یہ معلوم نہیں کہ اس کے پیچھے کیا حکمت تھی مگر اس عمل نے اس سیکٹر کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔حکومتی سیکٹر کے بینکوں سے حکومتی نمائندوں نے اور ان کے رشتہ داروں نے اربوں روپے قرض لئے اور پھر کچھ مد ت بعد معاف کروالئے‘ اس سے بینکوں کو جو نقصان ہوا وہ ڈائریکٹ حکومت کا نقصان تھامگر اس کی کسے پرواہ تھی کیونکہ یہ سارا مسئلہ کیا ہی اس لئے گیا تھا کہ بڑے لوگوں کو نوازا جائے۔ اس ’ بھائی چارے ‘نے ملکی معیشت کو از حد نقصان پہنچایا۔ جب تک بینک نجی تحویل میں تھے بینک اپنے کلائنٹ کو طرح طرح کی سہولتیں دیتے تھے اور بہت ہی چھوٹی چھوٹی بچتوں کی حوصلہ افزائی کرتے تھے۔

ہمیں یاد ہے کہ بینک منیجر ہمارے سکول میں آیا کرتے تھے اور ہمیں اپنے جیب خرچ سے کچھ بچا کر بینک میں رکھنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ بینکو ں نے ایک بے بی اکاؤنٹ متعارف کروایا تھا جس میں آپ بہت کم رقم بھی جمع کر سکتے تھے۔یہ اسلئے تھا کہ بینکوں کی ایک دوسرے کیساتھ مسابقت تھی اور ہر بینک اپنے کسٹمر میں اضافہ کرنا چاہتا تھا اسی لئے وہ اپنے کسٹمرز کو مختلف ترغیبات دیتا تھا۔ مثلاً حبیب بینک نے ایک سکیم متعارف کروائی تھی کہ آپ کے اکاؤنٹ کو انعامی اکاؤنٹ بنایا گیا تھا‘ جس میں ہر ماہ قرعہ اندازی سے جیتنے والے کے اکاؤنٹ میں جیت کی رقم ڈال دی جاتی تھی‘اسی طرح کی اور بہت سی سکیمیں بینک متعارف کرواتے اور لوگ بینکوں کی طرف مائل ہوتے۔

جب بینکوں کو قومیا لیا گیا اور ایسی قوم میں قومیا لیا گیا کہ جو حکومت کی ملکیت کو اپنی ملکیت سمجھتی ہی نہیں تو پھر بینکوں کے افسروں نے بینکوں کو اپنی جائیداد سمجھ لیا اور اس میں بچت کرنے والوں کو ہر طرح سے بد ظن کیا گیاکسٹمرز پر طرح طرح کے ٹیکس لگائے گئے تاکہ آپ اگر اپنی ہی رقم اپنی ضرورت کے لئے نکالتے ہیں تو بھی آپ کو ٹیکس دینا پڑتا ہے آپ کی رقم سے ود ہولڈنگ کے نام پر خواہ مخواہ رقم کاٹ لی جاتی ہے۔زکوٰۃ کے نام پر اور خدا جانے اور کیا کیا ٹیکس ایک کسٹمر پر لگا دیئے گئے ہیں اب لوگ اپنی رقوم بینک کی بجائے اپنی تجوریوں میں رکھنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں قومی بچت میں کچھ سکیمیں ایسی متعارف کروائیں کہ لوگوں نے ان سکیموں میں بہت رقوم جمع کروائیں مگر جب سے یہ وزارت اسحاق ڈار صاحب کے ہاتھ لگی انہوں نے کسٹمرز کو ہر طرح سے ڈسکرج کرنیکی کوشش کی مختلف قسم کے ٹیکسز لگائے۔ اب اپنے پیسے اکاؤنٹ سے نکالنے کیلئے بھی آپ کو ٹیکس دینا پڑتا ہے ۔ بجائے اس کے کہ آپ کو اپنے پیسوں پر منافع دیا جائے آپکی جیب پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے اس عمل کو ختم کیا جائے تا کہ لوگ اپنی رقوم بینکوں میں جمع کروائیں اور معیشت کا پہیہ آگے چلے۔