بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / قبائلی علاقوں میں اصلاحات؟

قبائلی علاقوں میں اصلاحات؟


کورکمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل نذیر احمد بٹ نے کہا ہے کہ وزیرستان میں امن اور تبدیلی آچکی ہے‘ فاٹا کے مستقبل کے حوالے سے قبائلیوں کی اکثریت کا احترام ہونا چاہئے ‘ نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے کورکمانڈر پشاور کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں مل بیٹھ کرفیصلہ کریں‘ ہم سے جو بھی ہوسکا وہ کریں گے‘ دریں اثنا وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں پولیس اور بنیادی عدالتی نظام کے نفاذ سے متعلق رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں جبکہ خبر رساں ایجنسی نے ایوان صدر کے ریفرنس سے یہ بتایا ہے کہ صدر مملکت نے قبائلی علاقوں میں لیویز فورس کی جگہ پولیس کا نظام متعارف نہیں کرایا اور نہ ہی پولیس ایکٹ کو قبائلی علاقوں تک توسیع دی گئی ہے‘ ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں بتایاگیا ہے کہ وفاقی حکومت نے 1861ء کے پولیس ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے پولیس کا دائرہ اختیار وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے تک بڑھادیا ہے اس کے ساتھ یہ بھی بتایا گیا کہ لیویز نظام کو پولیس سے تبدیل کردیاگیا ہے اور کمانڈنٹ لیویزکی جگہ آئی جی سربراہ ہونگے اور نائب تحصیلدار سے کم عہدے کا شخص پولیس افسر تعینات نہیں ہوگا۔

‘ خبر رساں ایجنسی کا ایک سرکاری اعلامیے کے حوالے سے بتانا ہے کہ ایف آئی اے قانون کے دائرہ کار کو بھی طورخم تک توسیع دیدی گئی ہے‘ دستور کے آرٹیکل 247 کے تحت 1974ء کے ایکٹ کو طورخم بارڈر کے علاوہ وہاں باچامینا طورخم گیٹ‘ شمشاد کی چوٹی اور ایوب ایف سی چیک پوسٹ کا بلومینا تک بڑھادیاگیا ہے اور اب وہاں لیویز فورس کو تعینات کیا جائیگا‘ اس بحث میں پڑے بغیر کہ قبائلی علاقے میں پولیس اور بنیادی عدالتی نظام نافذ ہوا یا نہیں‘ فاٹا اصلاحات پر تحفظات اور خدشات دور کرنے کیساتھ عملی پیش رفت کی ضرورت اپنی جگہ ہے‘ قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی اور وہاں کے شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی سے کسی کو انکار نہیں‘اصلاحات سے قبل کمیٹی قائم کرنے اور سفارشات اکٹھی کرنے میں قابل اطمینان رفتار سے کام ضرور ہوا ‘بعد میں اس مقصد کیلئے دیاجانیوالا ٹائم فریم انتہائی طویل بنایاگیا اور اس پر عملدرآمد کی رفتار بھی سست روی کا شکار رہی‘ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس کیس میں عملی پیش رفت کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں‘۔

فاٹا کو قومی دھارے میں لانے اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کیلئے اصلاحاتی پروگرام پر عملدرآمد کیلئے متعلقہ اداروں کو اقدامات کا حکم دینا اور ٹائم فریم کا پابند بنانا ضروری ہے‘ اس کیساتھ اصلاحات کے پروگرام پر کسی کے تحفظات ہیں تو انہیں بات چیت کے ذریعے دور کرنا بھی ضروری ہے۔

ڈینگی کیخلاف فوری اقدامات کی ضرورت

خیبرپختونخوا حکومت نے نومبرسے مارچ تک ڈینگی کے خلاف بھرپور مہم چلانے کا اعلان کیا ہے‘ صوبائی حکومت کا اعلان قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس وقت ضرورت موجودہ اقدامات کا دائرہ وسیع کرنے اور انہیں موثر بنانے کی ہے‘ ڈینگی کا پھیلاؤ اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع قابل تشویش ہے‘ صرف پشاور میں گیارہ ہزار سے زائد افرادمیں بیماری کی تصدیق ہو چکی ہے‘ اس وقت ضرورت متاثرہ علاقوں میں صفائی اور سپرے کیساتھ مزید آبادی کو بچانے کیلئے ایک بڑی اور موثر صفائی مہم کی ہے جس میں پانی کی ٹینکیوں کو ہر صورت شامل کیا جانا چاہئے‘ اس کیساتھ سیوریج سسٹم میں پانی رواں رکھنا بھی ضروری ہے‘ جو پلاسٹک شاپنگ بیگز سے بلاک ہے اور اس میں مچھروں کی افزائش زیادہ تیزی کیساتھ ہوسکتی ہے۔