بریکنگ نیوز
Home / کالم / عالمگیر آفریدی / وزیر اعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب

وزیر اعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے72ویں سربراہ اجلا س سے خطاب کے دوران بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت اور انسانیت سوز مظالم روکنے کیلئے بھارت پر دباؤ ڈالنا چاہئے بھارت کے زیر تسلط کشمیرمیں بھارتی افواج کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر جاری انسانی حقوق کی پامالی کی جانچ پڑتال کیلئے انکوائری کمیشن بجھوایاجائے‘ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری ریاستی تشدد سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے کنٹرول لائن کی اس سال چھ سو مرتبہ خلاف ورزی کر چکاہے بھارت کی جانب سے کسی بھی محدود جنگ کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے اقوام عالم کو کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادیں یاد دلاتے ہوئے اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے نمائندہ مقرر کرنے نیز بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب امور پر مذاکرات کی بحالی پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے اس ضمن میں ہر ممکن تعاون کا اعادہ کیا۔وزیر اعظم نے افغانستان کی صورتحال واضح کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی کو بھی یہ جنگ اپنی سرزمین پرنہیں لڑنے دے گاجو قوتیں افغانستان میں اپنی ناکارہ پالیسی کے ذریعے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتی ہیں انہیں اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا

۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں بھارت کا کوئی کردار نہیں ہے اور وہاں چالیس سال سے جاری بیرونی جارحیت اور بد امنی کا کوئی فوجی حل نکالنے کی بجائے اسکاسیاسی مفاہمت اور مذاکرات کے ذریعے ہی کوئی دیرپا حل نکالا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیار کنٹرول میں ہیں اور پاکستان کو یہ ہتھیار اپنے پڑوسی کی پہل اور اسکی جارحانہ دھمکیوں کے باعث بنانے پڑے ہیں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کووزارت عظمیٰ کاقلمدان سنبھالے ابھی چند دن بھی نہیں ہوئے ہیں لیکن انھوں نے اقوام متحدہ کے سب سے بڑے عالمی فورم پر پاکستان اور عالم اسلام کو درپیش سنگین مسائل کا بیس منٹ کی مختصر تقریر میں جس احسن اور متوازن انداز میں احاطہ کیا ہے وہ یقیناً لائق تحسین ہے شاہد خاقان عباسی نے پچھلے چند ہفتوں کے دوران پارلیمنٹ کو وقت دینے اور قومی سلامتی سے متعلق امور میں سول اور فوجی قیادت کی مشاورت سے جو بعض اقدامات اٹھائے ہیں اس نے بطور وزیر اعظم انکا قد کاٹھ کافی بڑھا دیا ہے۔ اس تناظر میں انھوں نے اب جنرل اسمبلی سے خطاب میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے ہاتھوں جاری خون ریزی کی جانب عالمی برادری کی توجہ جس پر اعتمادانداز میں مبذول کرائی ہے اور بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن کی مسلسل خلاف ورزیوں اور اسکے جنگی جنون اور ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کرنے کو جس واضح انداز میں اقوام عالم کے سامنے پیش کیا ہے یہ اسی کا اثر ہے کہ بھارت کی اقوام متحدہ متحدہ میں مستقل مندوب نے اپنی ہندو ذہنیت آشکارکرتے ہوئے پاکستان کے خلاف ٹیررستان کی اصطلاح استعمال کرنے سے بھی دریغ نہیں کیا ہے۔

بھارت کی اس بوکھلاہٹ کے پیچھے اصل وجہ اس کے مکروہ چہرے کا وزیراعظم پاکستان کی تقریر میں بے نقاب ہونا ہے۔ وزیر اعظم نے اپنے حالیہ خطاب میں افغانستان کے مسئلے پر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ بے تکی پالیسی کا جس متوازن اور ڈپلومیٹک انداز میں پوسٹ مارٹم کیا ہے اس کے ذریعے بھی انھوں نے یقیناًپوری قوم کے احساسات اور جذبات کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔ اس ضمن میں ان کا عالمی قوتوں کو یہ باور کرانا کہ افغانستان کا مسئلہ آج کا پیدا شدہ نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ پچھلے چالیس سال سے عالمی طاقتوں کی مسلسل مداخلت کے نتیجے میں سلگ رہاہے اسی طرح امریکہ نہ جانے اس حقیقت کو سمجھنے سے کیونکر قاصر ہے کہ اس کی جانب سے افغانستان میں بھارت کوکوئی کردار دینے سے یہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے نہ صرف مزید پیچیدگی کا شکار ہوجائے گا بلکہ خطے کا کوئی بھی ملک بھارت کا یہ کردار تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگالہٰذا اس پس منظر میں وزیر اعظم پاکستان نے جوتوجہات دلائی ہیں توقع ہے کہ عالمی برادری ان کو ملحوظ خاطر رکھے گی ۔