بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سیاسی ہلچل‘ معیشت اور مہنگائی

سیاسی ہلچل‘ معیشت اور مہنگائی

وطن عزیز میں سیاسی ہلچل کا گراف بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے ‘ سیاسی منظر نامے میں اچانک تیزی گزشتہ روز سابق وزیراعظم نواز شریف کی وطن واپسی کے اعلان پر آئی سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار بھی انکے ہمراہ وطن آئے اور احتساب عدالت میں پیش بھی ہوئے نواز شریف نے آج پیش ہونا ہے ‘ سابق وزیراعظم نے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر غور کیلئے پارٹی اجلاس بھی طلب کیا ‘ سابق وزیراعظم کا کہنا ہے کہ وہ لندن صرف اہلیہ کی تیماری داری کیلئے آئے تھے اور یہ کہ انہوں نے برطانیہ میں مستقل قیا م کا کبھی کوئی ارادہ نہیں کیا تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ملک میں نئے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم الیکشن کراکے عوام کا مینڈیٹ دوبارہ لیں ‘ اس ساری سیاسی گرما گرمی کیساتھ منتخب قیادت کیلئے قابل توجہ بات وطن عزیز کی معیشت ہے ملک پر بیرونی قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے ‘ بجلی بحران اور دیگر عوامل نے صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو متاثرکر رکھا ہے تجارتی خسارہ فنانشل منیجرز کیلئے قابل غور ہے ‘ درآمدات پر انحصار کی شرح کم سے کم کرنا ہمارے اہداف میں شامل ہے اس کی سختی کیساتھ مانیٹرنگ ناگزیر ہے۔

‘ اس سب کیساتھ مہنگائی کے طوفان میں شدت نے غریب اور متوسط طبقے کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے یہ مہنگائی یوٹیلٹی بلز‘علاج ‘ مکانات کے کرایوں اور تعلیمی اداروں کے اخراجات سے بڑھتی بڑھتی اب اوپن مارکیٹ کو بری طرح متاثر کر چکی ہے عام شہری آٹے ‘دال کے بھاؤ سے واقعی میں کچلا جا رہا ہے ‘ پھلوں اور دیگر سبزیوں کے نرخوں میں ہوشربا اضافے کیساتھ ٹماٹروں کے مہنگا ہونے سے مارکیٹ میں پریشان کن صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس سب کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء میں مضر صحت اجزاء کی ملاوٹ انسانی صحت اور زندگی کیلئے خطرہ بنی ہوئی ہے اضلاع کی سطح پر ایڈمنسٹریشن کی کاروائیاں وقفے وقفے سے دکھائی دیتی ہیں جن میں چند افراد کو جرمانہ کیا جاتا ہے اور اس کے بعد طویل خاموشی چھا جاتی ہے اس سب کی وجہ انتظامیہ کے پاس مارکیٹ کنٹرول کیلئے علیحدہ اور با اختیار سیٹ اپ کا نہ ہونا ہے ۔ یہ سیٹ اپ مجسٹریسی نظام کی صورت میں طویل عرصہ سے کام کررہا تھا جسے مشرف دورمیں ضلعی حکومتوں کا سسٹم نافذ کرتے ہوئے ختم کر دیا گیا تھا۔

بعد کی یکے بعد دیگرے برسر اقتدار آنیوالی حکومتوں نے اس کی بحالی کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھائے نہ ہی اس کے متبادل کوئی نظام دیا گیا اس وقت ضرورت ایک جانب وطن عزیز کی معیشت کو بیرونی قرضوں سے آزاد کرنے اور صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ہے تو دوسری جانب درآمدات پر انحصار کم کرنے کیساتھ ساتھ گرانی کی روک تھام کیلئے اقدامات کی ہے مہنگائی پر قابو پانے کیلئے مجسٹریسی نظام بحال کرنا ثمر آور نتائج دیگا جبکہ معاشی استحکام کیلئے دیگر ضروری کاموں کیساتھ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے ثمرات سمیٹنے کیلئے ہوم ورک ناگزیرہے معاشی استحکام کیلئے اقدامات کیساتھ وفاق اور صوبوں کو قومی مالیاتی ایوارڈ کا اعلان یقینی بنانا ہوگا اس مقصد کیلئے صوبوں کے مطالبات پر کھلے دل سے بات چیت ہونی چاہئے مشترکہ مفادات کونسل میں زیر التواء معاملات کو فوری طے کرنا ضروری ہے آبی ذخائر میں اضافے کیلئے منصوبے شروع کرنا ہوں گے بجلی بحران کے خاتمے اور موسم سرما میں گیس کی لوڈشیڈنگ روکنے کیلئے عملی اور دور رس نتائج کے حامل اقدمات اٹھانا ہونگے سیاسی گرما گرمی میں اگر معیشت اور اس سے جڑے امور کو برقت نہ نمٹایا گیا تو عام آدمی کوئی ریلیف نہ حاصل کرپائے گا مرکز اور صوبوں میں برسر اقتدار حکومتوں کو سیاسی معاملات کے ساتھ ان امور کو سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔