بریکنگ نیوز
Home / کالم / سجاد حیدر / انتخابی اصلاحات خطرے میں

انتخابی اصلاحات خطرے میں

جمعہ 22ستمبر کو سینٹ آف پاکستان سے انتخابی اصلاحات بل کی منظوری کے بعد اس بل کو قانون کی حیثیت مل گئی ہے یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں انتخابی اصلا حات کا وہ عمل جو 2014ء کے وسط میں شروع ہوا اور جسے اکتوبر 2014ء تک مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن رکھی گئی تھی خدا خدا کر کے بالآخر مکمل ہو گیا ہے‘ لیکن دوسری جانب یہ عمل مکمل ہونے کے بعد تحریک انصاف کے اس بل کو عدالت میں چیلنج کرنے کے اعلان نے انتخابی اصلاحات پر عمل درآمد کے معاملے پر سوالیہ نشان ثبت کر دیئے ہیں‘ویسے توپی ٹی آئی کو انتخابی اصلاحات بل کے حوالے سے اور کئی تحفظات ہیں جن میں سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے‘ 2108کے عام انتخابات بائیومیٹرک سسٹم کے تحت کرانے ‘الیکشن کمیشن کی تشکیل نو اورعبوری حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے تشکیل دینے سے متعلق پی ٹی آئی کے مطالبات کو بل کا حصہ نہ بنایا جانا شامل ہے لیکن بل کو چیلنج کرنے کا اعلان بنیادی طور پر اس شق( 203) کے تناظر میں کیا گیا ہے جس کے بل کا حصہ بن جانے کے بعد میاں نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) کا صدر بننے کی راہ ہموار ہو گئی ہے ‘یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ 2002کے پولیٹیکل پارٹیز آرڈر میں یہ قدغن موجود تھی کہ آئین کے آرٹیکل 62اور63کے تحت عدالت سے نااہل قرار دیا جانے والا رکن پارلیمنٹ کسی سیاسی جماعت کا سربراہ منتخب نہیں ہوسکتا لیکن انتخابی اصلاحات بل کی منظوری کے بعد مذکورہ پولیٹیکل پارٹیز آرڈر سمیت آٹھ سابقہ انتخابی قوانین ختم ہو گئے جبکہ انتخابی اصلاحات بل کی شق (203) جو اس مو ضوع سے متعلق ہے ۔

میں ایسی کوئی گنجائش نہیں رکھی گئی جو نا اہل قرار دیئے جانے والے پارلیمنٹیرین کے سیاسی جماعت کا سربراہ منتخب ہونے کا راستہ روک سکے‘ یوں اس بل کی منظوری کے بعد میاں نواز شریف مسلم لیگ (ن) کا صدر منتخب ہونے کی پوزیشن میں آگئے ہیں‘تو بات یہ ہورہی تھی کہ پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی اصلاحات بل کو چیلنج کرنے کے اعلان کے بعد پیدا ہونیوالے خدشات کی‘ان انتخابی اصلاحات کی تشکیل و تعین کیلئے پہلے پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں کی نمائندہ کمیٹی اور اسکی ذیلی کمیٹی تقریباًدوسال تک کام کرتی رہیں پھر 20 دسمبر2016ء کو یہ انتخابی اصلاحات ایک مجوزہ ڈرافٹ کی شکل میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے رکھیں گئیں‘ اس موقع پر کمیٹی کے چیئرمین اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ کمیٹی کی اس غیر حتمی رپورٹ کو پارلیمنٹ میں لانے کا مقصد یہ ہے کہ اسے تما م سٹیک ہولڈرز کیلئے عام کر دیا جائے تاکہ اراکین پارلیمنٹ ‘سیاسی جماعتیں‘ سول سوسائٹی‘مختلف ادارے اور عوام انتخابی اصلاحات کمیٹی کی سفارشات سے متعلق اپنی تجاویز دیں اور پھر ان تجاویز کی روشنی میں کمیٹی اپنی سفارشات کو حتمی مسودے کی شکل دیتے ہوئے ایوان میں لائے جہاں ان سفارشات کے حوالے سے قانون سازی کا مرحلہ مکمل ہو سکے‘۔

انتخابی اصلاحات کے مجوزہ ڈرافٹ پرمختلف سٹیک ہولڈرز کی آراء لینے کا عمل بھی کئی ماہ تک جاری رہا اور پھر اگست 2107ء کے آخری عشرے میں قومی اسمبلی نے انتخابی اصلاحات بل کی 155شقوں کی اتفاق رائے سے منظوری دی‘ اس عمل کے دوران مختلف شقوں میں اراکین قومی اسمبلی کی 44ترامیم کو بھی بل کا حصہ بنایا گیا جبکہ ایوان نے 100کے لگ بھگ ترامیم کو مسترد بھی کیا‘ قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد یہ بل سینٹ میں آیا جہاں پی پی پی نے بل کی شق (203)میں وہ ترمیم لانے کی کوشش جو نااہل قرار دیئے جانے والے شخص کو پارٹی سربراہ منتخب ہونے سے روک سکے لیکن یہ ترمیم کثرت رائے سے مسترد ہوگئی اور سینٹ نے بھی انتخابی اصلاحات بل منظور کر لیا ‘اس بل کے تحت جہاں ایک طرف الیکشن کمیشن کو وہ انتظامی‘ مالی اور عدالتی اختیارات ملنے ہیں جو اسے صاف و شفاف انتخابات یقینی بنانے کیلئے درکار ہیں وہاں دوسری طرف سیاسی جماعتوں کے معاملات کو جمہوری تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے اور ووٹرز خصوصاً خواتین ووٹرز کے حقوق کے تحفظ کی صورتحال میں بہتری بھی آنی ہے اب اگر پی ٹی آئی اپنے اعلان کے مطابق اس بل کو چیلنج کر دیتی ہے اوراس پر عمل درآمد رک جاتا ہے تو الیکشن کمیشن کو آنے والے عام انتخابات سے قبل اتناو قت نہیں مل پائے گا جو ان انتخابات کو انتخابی اصلاحات قانون کے تحت منعقد کرنے کیلئے درکار ہے یوں نہ صرف 2014ء سے اب تک انتخابی اصلاحات کیلئے ہونیوالی کوششیں ثمر آور ثابت نہیں ہو سکیں گی بلکہ 2018ء کے عام انتخابات کا دھاندلی سے پاک صاف و شفاف انعقاد بھی ممکن نہیں رہے گا۔