بریکنگ نیوز
Home / کالم / ابتلاء کا دور!

ابتلاء کا دور!

سیاست ممکنات کا نام ہوتی ہے۔ سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کی وطن واپسی کا فیصلہ لندن میں مسلسل دو روز تک جاری رہنے والی ملاقاتوں میں کیا گیا‘ جس میں زیرسماعت نیب ریفرنسوں میں ان کی عدم پیشی کے ممکنہ نقصانات کا مفصل جائزہ لینے کے بعد ان کی واپسی ممکن ہوئی۔ میاں نوازشریف اس وقت یقیناًابتلا کے دور سے گزر رہے ہیں جو پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کی بنیاد پر وزارت عظمیٰ سے معزول اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے محروم ہوئے اور اب انہیں اور ان کے اہل خانہ کو نیب کے ریفرنسوں کا سامنا ہے اس صورتحال میں جبکہ دوہزاراٹھارہ کے عام انتخابات کا چیلنج درپیش ہے‘ وہ ملک میں رہ کر اپنے خلاف ریفرنسوں کا سامنا کرتے ہوئے اپنے فعال سیاسی کردار کے ذریعے ہی اپنی اور اپنی پارٹی کی مستقبل کی سیاست محفوظ کر سکتے ہیں۔ اقتدار یقیناًپھولوں کی سیج نہیں ہوتی اور اس میں بہرصورت آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑتا ہے جبکہ اقتدار میں رہ کر اپنا دامن پاک صاف رکھنا اپنی جگہ ایک آزمائش ہے۔ میاں نوازشریف اس حوالے سے خوش نصیب ہیں کہ انہیں اقتدار کے بہت زیادہ مواقع ملے جس میں ان کی وزارت اعلیٰ کے دو اور وزارت عظمیٰ کے تین ادوار شامل ہیں۔

جبکہ انہیں اپنے اقتدار کے دورانیہ کی نسبت احتساب کے عمل کا بہت کم سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کی سیاست کے حوالے سے سیاسی مخالفین ہمیشہ اس امر کے شاکی رہے ہیں کہ انصاف کا ترازو ہمیشہ ان کے حق میں جھکتا رہا ہے۔ انہوں نے جرنیلی آمریت کی چھتری کے نیچے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کرکے جرنیلی آمریت کو چیلنج کرنے کا راستہ اختیار کیا تو وہ ایک مسلمہ قومی قائد کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آگئے اور پھر وہ انٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کی پہچان بن گئے۔ انہوں نے جن سہولتوں کے ساتھ اپنی سیاست کا آغاز کیا تھا اس کے پیش نظر ان کے بارے میں یہ تصور قائم ہوگیا تھا کہ جان جوکھوں میں ڈال کر میدان عمل میں اترنا اور مزاحمت کی سیاست کرنا اِن کے بس کی بات نہیں‘ جو پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ مخالف بعض جماعتوں کا خاصہ رہا ہے تاہم انہوں نے مشرف کے ہاتھوں بارہ اکتوبر 1999ء کو معزول ہونے کے بعد جرنیلی آمریت کی مزاحمت کا فیصلہ کیا تو وہ ایک قومی رہنما کے طور پر اُبھر کر سامنے آگئے۔ انہیں مشرف کے دور اقتدار میں اپنے خاندان سمیت جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا تو ان کی لیڈرشپ اور بھی مسلمہ ہوگئی‘ چنانچہ وہ مشرف ہی کے دور میں ان کے بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہونے والے ’این آر او‘ کے باعث وطن واپس آئے جس سے قومی سیاست میں ان کا کردار تسلیم کیا جانے لگا اور وہ ایک فائٹر کے طور پر مشہور ہوگئے۔ اپنے اس سیاسی ویژن کی بنیاد پر ہی وہ دوہزارتیرہ کے عام انتخابات میں بھرپور قومی مینڈیٹ کے ساتھ تیسری بار ملک کے وزیراعظم بنے نواز لیگ کی سیاست کا دارومدار بلاشبہ میاں نوازشریف کی ذات پر ہے تاہم فیصلہ سازی کے عمل میں فردواحد کے عمل دخل کے تصور سے پارٹی کی کمزوری کی بنیاد پڑتی ہے اور میاں نوازشریف کے طرزعمل سے نوازلیگ کی مستقبل کی سیاست سے یہی محسوس ہورہا تھا کہ آئندہ عام انتخابات تک اس پارٹی کی صفوں میں مضبوطی قائم رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

میاں نوازشریف نے لاہور کے ضمنی انتخاب میں میاں شہبازشریف کے بجائے اپنی اہلیہ بیگم کلثوم کو میدان میں اتارا تو بدقسمتی سے ان کے گلے میں سرطان کی نشاندہی ہو گئی جس کے علاج کے لئے انہیں فوری طور پر لندن روانہ ہونا پڑا۔اس منظرنامے میں میاں شہبازشریف وسعت قلبی و نظری کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور پارٹی کا ممکنہ طور پر تاریک ہوتا ہوا سیاسی مستقبل بچانے کی خاطر انہوں نے میاں نوازشریف کو ملک واپس آکر اپنے خلاف مقدمات کا آبرومندی کے ساتھ سامنا کرنے اور سیاسی مخالفین کا سیاسی میدان میں ہی سامنا کرنے پر قائل کیا۔ اس سلسلہ میں لندن جانے سے قبل انہوں نے چودھری نثارعلی خاں سے طویل مشاورت کی اور نواز لیگ کی آئندہ کی سیاست کا لائحہ عمل طے کیا چنانچہ فہم و بصیرت سے طے پانے والے اس لائحہ عمل پر میاں نوازشریف نے بھی میاں شہبازشریف اور دیگر اکابرین کے ساتھ مشاورتی میٹنگوں میں اتفاق کیا اور ملک واپس آکر مقدمات کا سامنا کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ ان کی جانب سے بلاشبہ صائب اقدام ہے جس کے تحت اسحاق ڈار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوگئے ہیں۔ چودھری نثار علی خاں پارٹی کے اندر کوئی دھڑا بنانے کی بجائے میاں نوازشریف ہی کی زیرقیادت پارٹی کو آئندہ کی انتخابی سیاست کے لئے فعال کرنا اور دیکھنا چاہتے ہیں جس کے میاں شہبازشریف بھی خلوص دل کے ساتھ خواہش مند ہیں۔ آنے والے حالات میں نواز لیگ اور اس کی قیادت کو لامحالہ مزید کٹھن صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا‘ جن سے عہدہ برآء ہونے کے لئے پارٹی کی صفوں میں مکمل اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے ۔ اگر اس موقع پر ’’دمادم مست قلندر‘‘ والی پالیسی اختیار کی جائے گی تو اس سے جمہوریت کا تسلسل اور آئندہ انتخابات کا انعقاد بھی مخدوش ہو سکتا ہے۔ (بشکریہ: دی نیوز۔ تحریر: رضا خان۔ ترجمہ: اَبواَلحسن اِمام)