بریکنگ نیوز
Home / کالم / قائد حزب اختلاف کی تبدیلی

قائد حزب اختلاف کی تبدیلی

سیاست میں اگر ہلچل نہ ہو تو مزا ہی نہیں آتا سیاست میں اس ہلہ گلہ کے لئے اللہ نے ہمیں ایک نہایت ہی چست انسان فراہم کر دیا ہے‘جسکی سوچ اپنی پارٹی کو ایک آئین دینے کی بجائے پہلے سے موجود منتخب حضرات کے پیچھے لٹھ لے کر لگنا ہے 2013 کے انتخابات ہوئے اور ایک جماعت سب سے زیادہ سیٹیں جیت کر اسمبلی میں آئی تو اس کا حق تھا کہ حکومت بنائے۔اس لئے کہ جمہوریت میں ایسا ہی ہوتا ہے مگر ہوا یہ کہ تیسرے نمبر پر آنیوالی جماعت نے رولا ڈال دیا کہ اس کا مینڈیٹ چوری ہو گیا ہے‘ حالانکہ 33 اور 198کا کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا مگر رولا تو ڈال دیا گیا۔ اعلان ہوا کہ بڑی جماعت نے جو شخص وزیر اعظم چنا ہے اس وزیر اعظم کو استعفیٰ دینا چاہئے اسلئے کہ وہ دھاندلی سے وزیر اعظم بنا ہے۔ یوں تو ایک سمجھ سے بالا بات تھی کہ اگر دھاندلی ہوئی بھی ہو تو بھی اتنی بڑی کامیابی ہو ہی نہیں سکتی مگر بڑی جماعت کی جیت کے بعد تیسرے نمبر کی جماعت نے دھرنا دے دیا کہ اس کا مینڈیٹ چوری ہو گیا ہے۔خیر بات آئی گئی ہو گئی اس کے بعد جو ہوا یا آج تک ہو رہا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ان ہی الیکشنزکے بعد جب اسمبلی نے کام شروع کیا تو ضرورت قائد حزب اختلاف کی بھی تھی جس کو حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت سے چن لیاگیا۔ خورشید شاہ صاحب نے ان چار سالوں میں قائد حزب اختلاف کا کردار پوری ایمان داری سے نبھایا۔

اس دوران کسی کو بھی ان کے اس کردار پر انگلی اٹھانے کی جرات نہ ہوئی۔ اب جو اس حکومت کی مدت پوری ہونے والی ہے تو اس کو ایک اور آئینی کام درپیش ہے۔وہ یہ کہ اب نئے چیئرمین نیب کی تقرری کرنی ہے اور نئے الیکشن کمیشن کے اراکین کی تقرری ہونی ہے اور کچھ اور عہدے بھی پر کرنے ہیں جن کا تقرر آئینی طور پر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف کا حق ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ تیسرے نمبر کی جماعت کو اس پر تحفظات ہیں ‘انکا خیال ہے کہ ان دو بڑی جماعتوں کا مک مکا ہو جائے گا اور یہ آئینی پوسٹیں ایسے لوگوں سے پر کی جائیں گی جو اس پارٹی کو قبول نہیں ہو گی۔ اسی لئے اُن کا خیال ہے کہ قائد حزب اختلاف کو تبدیل کیا جائے تا کہ اُن کی خواہش کے مطابق ان اداروں کے سربراہوں کی تعیناتی کی جا سکے۔ اب کسی نام پر قائد حزب اختلاف کا قائد حزب اقتدار کا متفق ہونا اگر انگریزی میں کہا جائے تو اسے کنسنسز کہتے ہیں ۔ اور اس کنسنسز کا مطلب پوری حزبِ اختلاف اور حزبِ اقتدار کا ایک ہونا ہے مگر اسی کا اگر اردو ترجمہ کریں تو یہ مک مکا کہلاتا ہے۔اور مک مکا کالفظ ہماری ’اصل ‘حزب اختلاف نے اتنا عام کیا ہے کہ یہ ایک گالی بن گیا ہے ۔

اب وہ لوگ مک مکا کروانا نہیں چاہتے اس لئے اُن کو نئے قائد حزب اختلاف کی ضرورت ہے جو اُن کی پارٹی کا ہو۔ اب دیکھیں کیاہوتا ہے۔مگر ایک رولا تو پڑ ہی گیا ہے اب اگر وزیر اعظم اور قائد حز بِ اختلاف اداروں کے سربراہ چنتے ہیں تو پی ٹی آئی نے رولا ڈالنا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ ایک اور دھرنا دے دے۔ اب ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں کہ یہ مراحل بخوبی طے ہو جائیں تاکہ لوگوں کا جمہوریت پر ایمان پختہ ہو جائے۔دیکھیں کہ نمبر گیم ہے کون اس میں جیتتا ہے اس لئے کہ حزب اختلاف کی بہت سی جماعتیں اپوزیشن لیڈر کی تبدیلی کی حامی نہیں ہیں ۔گو پی ٹی آئی نے ایک دفعہ پھر اسی ایم کیو ایم کو جسے وہ سارے عرصے میں برا بھلا کہتی رہی گلے لگانے کے لئے سر جھکا لیا ہے اور وہ بھی ان کو معاف کرنے کے موڈ میں ہے۔دیکھئے اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ویسے تو ہمیں یقین ہے کہ قائد حزب اختلاف کی تبدیلی کا کوئی امکان نہیں اس لئے کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کا خورشید شاہ صاحب کے خلاف اکٹھا ہونا ممکن نہیں ہے۔ ایم کیو ایم توپی پی پی کی دشمنی میں کچھ بھی کر سکتی ہے مگر دیگر جماعتیں شاید اس کا ساتھ نہ دے سکیں۔ اگر ایساہوا تو تو تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے ۔ مگر اس کے بعد جو سربراہان ان کے مشوروں سے نامزد ہوں گے کیا ان کو پی ٹی آئی قبول کرے گی ۔ یہ سوال تو ہے مگر کیا یہ ضروری ہے کہ ملک میں ہر کام پی ٹی آئی ہی کی مرضی سے ہو۔جبکہ اس کی مقبولیت کا یہ حال ہے کہ آج تک جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے ہیں ان میں سے صرف ایک وہ بھی پیسے کے زور پر اس جماعت نے جیتا ہے ورنہ کوئی بھی انتخاب یہ نہیں جیت سکی۔ یہاں تک کہ جو سیٹیں اس جماعت ہی کے ممبران کی وجہ سے خالی ہوئیں وہ بھی یہ دوبارہ حاصل نہیں کر سکی‘ اسکا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ جماعت عوامی مقبولیت نہیں رکھتی۔ صرف رولا ڈالنے سے تو کام نہیں بنتانا۔