بریکنگ نیوز
Home / کالم / جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

پاکستا ن کو بنے ہوئے 70 برس بیت چلے کیا آپ کو پتہ ہے کہ آج ہم کتنے مقروض ہیں ؟ گزشتہ دس برس میں یعنی پی پی پی اور (ن) لیگ کے ادوار حکومت میں ہم نے جو بیرونی قرضے لئے ان کی مالیت ان قرضوں کی رقم سے زیادہ بنتی ہے کہ جو پچھلی حکومتوں نے 60 برس کے دوران حاصل کئے تھے پچھلی حکومت کے دور میں اس ملک پر مجموعی قرض نوہزار ارب روپے تھا موجودہ حکومت نے اس میں مزیدنوہزار ارب روپے کا اضافہ کر دیا ہے دس سال قبل پاکستان پر 6691 ارب روپے کے واجبات تھے جو اب بڑھ کر 25621 ارب روپے تک جا پہنچے ہیں یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں کہ ایک عام پاکستانی یہ نہ سمجھ سکے کہ ایسا کیوں ہوا ہے ان دس برس میں جو لوگ اس ملک پر حکمران رہے ہیں ان کا تعلق اشرافیہ سے رہا ہے انہوں نے اس کے بجائے کہ حصہ بقدر جثہ کے حساب سے موٹی توندوں اور گردنوں والوں سے انکم ٹیکس اور ویلتھ ٹیکس وصول کرتے انہیں الٹا یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اپنا کالا دھن ایمنسٹی سکیموں جیسی رعایتوں سے سفید کر لیں قرضہ لے کر کام چلانا دنیا کا آسان ترین کام ہے قرضوں کے بوجھ سے ملک ڈوب جایا کرتے ہیں بڑھتے قرضوں کا جا ل ملکی سکیورٹی کے لئے خطرہ بن جاتا ہے دکھ اس بات کا ہے کہ اس مسئلے میں نہ حکومت سنجیدہ نظر آ رہی ہے نہ پارلیمنٹ اور نہ کوئی سیاسی جماعت؟ کیا ان اداروں نے کوئی حکمت عملی بنائی ہے ؟

ہماری معلومات میں تو بالکل نہیں بنائی ‘ عربی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ رعایا حکمرانوں کا چلن اپناتی ہے کیا اس ضمن میں ہمار ے ارباب اقتدار نے کوئی صحت مندانہ روایت قائم کی ہے ؟کیا ہمارے سیاست دان اور اراکین پارلیمنٹ ایمانداری سے اپنے اپنے ٹیکس ادا کر رہے ہیں یا پھر وہ انکم ٹیکس ایڈوائزر و کلاء کی قانونی موشگافیوں سے مستفید ہو کر ان میں ڈنڈی مار رہے ہیں۔بزرگ کہہ گئے ہیں انسان کو چادر کا سائز دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہئیں یہ محاورہ قوموں اور ملکوں پر بھی لاگو ہوتا ہے قرضوں کے بغیر بھی ملک چلائے جا سکتے ہیں لیکن اس کیلئے کچھ اقدامات کرنے ضروری ہوتے ہیں کفایت شعاری قناعت پسندی اور غیر ترقیاتی اخراجات سے اجتناب‘ کیا ہر سال اربوں روپے ہمارے حکمران اپنے اللوں تللوں پر خرچ نہیں کر دیتے؟ وہ مثال کے طور پر ایران کے حکمرانوں کا طرز زندگی کیوں نہیں اپنا سکتے ؟ ایران کا سابق صدر محمود احمدی نژاد تو اب بھی کئی برس ایران کا صدررہنے کے بعد یونیورسٹی میں پڑھانے جاتاہے تو پبلک ٹرانسپورٹ کی بس میں یا اپنی پرانی ماڈل کی گاڑی میں جاتا ہے۔

ہمارے حکمران ایسا کیوں نہیں کر سکتے ؟ ہمارے کسی ارباب اقتدار کو اگرکسی ناگزیروجہ سے اچھی گاڑی نہ ملے تو وہ فوراً چلا اٹھتا ہے کہ اس کا استحقاق مجروح ہو گیا ہے یہ مال مفت دل بے رحم والے رویئے اب حکمرانوں کو چھوڑنے ہوں گے بیرونی قرضوں کی بڑی رقم ہمارے حکمران اور ان کے بیورو کریٹ دوست کمیشن اور کک بیکس میں کھا پی گئے ہیں اور اب ان کی وصولی و ہ غریب عوام سے کر رہے ہیں بجلی کے بلوں میں اضافی خاموش ٹیکس لگا کر۔ ہماری حکومت کو چاہئے کہ ٹیکس نیٹ کا دائرہ بڑھائے امیروں سے ٹیکس لے اور قومی خزانے میں جمع کرائے یہ جو سوئس بینکوں میں بڑی بڑی رقومات پڑی ہوئی ہیں وہ واپس لائے اور معیشت کو مضبوط کرے تو غریب لوگوں کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے اب بھی اگر قوم نہ جاگی اور ان لٹیروں سے نہ پوچھا کہ بھئی مال تو تم نے کھایا مزے تو تم نے اڑائے اور اب بل ہم سے وصول کر رہے ہو تو پھراس قوم اور ملک کا اللہ ہی حافظ ہے قتیل شفائی نے کیا خوب کہا ہے ۔
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتاہے بغاوت نہیں کرتا