بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / عوامی مینڈیٹ کی توہین کے بجائے عزت کرنی چاہئے ٗ نواز شریف

عوامی مینڈیٹ کی توہین کے بجائے عزت کرنی چاہئے ٗ نواز شریف

اسلام آباد ۔سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم سقوط ڈھاکہ کے واقعات سے بھی سبق حاصل نہیں کر سکے اور ستر سال سے ملک میں یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے ۔ ہمیں اپنے ملک و قوم کی ترقی کے لئے گھروں اور پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہو گا جو قومیں بدلتے تقاضوں کو نظر انداز کرتی ہیں اور اپنی پرانی روش برقرار رکھتی ہیں وقت ان سے آگے نکل جاتا ہے ۔20 کروڑ عوام کا ووٹ مقدس امانت ہے۔

اس امانت میں خیانت کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور عوامی مینڈیٹ کی توہین کی بجائے عزت کرنی چاہئے اگر آج بھی ہم نے اسی بے ڈھنگی چال کو نہ بدلا تو پاکستان ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا ۔ قانون کی سربلندی اور قومی سلامتی کے لئے ہم سب کو ایک ہونا ہو گا ۔ ان خیالات کا اظہار سابق وزیر اعظم اور پارٹی صدر نواز شریف نے کنونشن سینٹر میں کیا ۔انہوں نے کہا کہ مجھے ہٹانے اور بے دخل کرنے کے لئے بار بار کوشش کی گئی لیکن میں بھی کیا آدمی اور چیز ہوں کہ جسے بار بار داخل کیا گیا ۔

انہوں نے کہا کہ ایوب خان اور پرویز مشرف نے میرا راستہ روکنے کے لئے کالا قانون بنایا تھا آج ہم نے ان کو ان کا کالا قانون واپس کر دیا ہے ۔ سینٹ اور قومی اسمبلی ممبران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے اس کالے قانون کو واپس آمروں کے منہ پر مار دیا ہے اور آج بھرپور قوت کے ساتھ مجھے واپس لے کر آئے ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ مجھے کوئی لالچ اور ذاتی مفاد نہیں اور نہ ہی میں نے کوئی غلط کام کیا لیکن مجھے نااہل کرنے کے بارے میں پوری قوم جانتی ہے ۔

ستر برس نشیب و فراز کے باوجود آج بھی مسلم لیگ(ن) سب سے بڑی جماعت ہے ۔ لاکھوں لوگوں ‘ بچوں اور بوڑھوں کا کن الفاظ میں شکریہ ادا کروں جو کہ چار دن تک میرے ساتھ سڑکوں پر رہے ۔نواز شریف نے کہا کہ اللہ پاک ایسی بھرپور قوت کو ملک کے لئے اچھا کام کرنے کی طاقت دے تاکہ وہ اپنے ملک کی خدمت میں حصہ ڈال سکیں ۔ نواز شریف نے کہا کہ آج وفاق کی تمام علامتیں اس مجلس عاملہ اجلاس میں موجود ہیں اور آج پورے ملک کی یہاں پر بھرپور نمائندگی ہے ۔

سب میرے لئے دعا فرمائیں کہ میں بھاری ذمہ داری کو احسن طریقے سے نبھا سکوں اور جوانمردی سے تمام مشکلات کا سامنا کر سکوں ۔ نواز شریف نے کہا کہ جس طرح مسلم لیگ (ن) نے آزادی کی جنگ لڑی اور مشن کی تکمیل کے لئے کسی قوت کے سامنے نہیں جھکی لیکن ستر سال گزرنے کے بعد بھی آج بھی ہم وہی پرانی غلطیاں کر رہے ہیں ۔ پاکستان کو دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بنا کر مضبوط اور توانا بنایا لیکن ملک کو ایٹمی قوت بنانے والوں کو تختہ دار پر چڑھایا گیا اور ہتھکڑیاں لگا کر ملک بدر کیا گیا اور پانامہ نہیں تو اقامہ کے ذریعے نکالا گیا ۔

آخر قوم کو سچ کیوں نہیں بتایا گیا کہ پانامہ میں کچھ نہیں ملا تو اقامہ سے نکال دیا گیا کیونکہ ان کے پاس نکالنے کا دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا ۔ نواز شریف نے کہا کہ آخر یہ ملک کیسے چلے گا جہاں پر ستر سال سے ملک کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو ۔لیکن ہمیں اس حقیقت کو نہیں بھولنا چاہئے کہ آزادی بھی ایک قیمت مانگتی ہے کہ دنیا میں سربلند کر کے چلنا چاہئے تاکہ آزادی تدبر اور حکمت برقرار رکھ سکے ۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی ماضی اور لرزشوں کا جائزہ بھی لینا ہوگا کیونکہ سقوط ڈھاکہ کی شکل میں ہم آدھا ملک گنوا بیٹھے تھے اور آخر وہ کیا اسباب تھے جن کی وجہ سے ملک دو لخت ہوا اور آج بھی ہم سے بعد میں آزاد ہونے والے ممالک ہم سے آگے نکل گئے ۔ہمیں اپنی طرز عمل سے اصلاح کرنی ہو گی کیونکہ دنیا کی تمام قومیں بدلتے حالات کے ساتھ اپنے گھروں اور پالیسیوں کو تبدیل کرتی ہیں تو ہمیں بھی اپنے گھر اور پالیسیوں کو تبدیل کرنا ہو گا اور جو قومیں بدلتے تقاضوں کو نظر انداز کرتی ہیں اور اپنی پرانی روش پر اڑی رہتی ہیں تو پھر وقت ان سے آگے نکل جاتا ہے اور وہ قومیں ہمیشہ پیچھے رہ جاتی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی پرانے حالات کی بجائے نئے حالات کو مدنظر رکھنا ہو گا ۔ سقوط ڈھاکہ سانحہ کے بعد بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا اور وہی کچھ کرتے رہے جو کہ سقوط ڈھاکہ سے پہلے کرتے رہے ۔ تین مرتبہ وزارت عظمی کی نمائندگی کے بعد پھر سے وزارت عظمی سے ہٹا دیا گیا ۔یہ کسی کرپشن یا بدعنوانی کے جرم میں نہیں بلکہ اپنے بیٹے سے تنخواہ کے جرم میں ہٹایا گیا ۔ ان کو چاہئے کہ میں وزارت عظمی کی بھی تنخواہ لے رہا ہوں یا نہیں شاید اسے بھی کوئی جرم بنا کر پیش کر دیا جائے ۔ نواز شریف نے کہا کہ وکلاء کنونشن میں 12 سوالات میں سے ایک بھی جواب نہیں دیا گیا جو کہ میری سچائی کی عکاسی کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ میرا ایک سوال یہ بھی ہے کہ تمیزالدین کیس سے لے کر بے نظیر بھٹو کیس تک کیسے عدالتی فیصلے آئے ان میں ایک میرا بھی عظیم عدالتی فیصلہ شامل ہے اور ایسے دل دکھا دینے والے عدالتی فیصلے کی ایک لمبی قطار موجود ہے جس میں آمروں کی غیر مشروط فیصلوں کو منظور کیا گیا اور ان کے 35 سالہ اقتدار پر کوئی نوٹس نہیں لیا گیا یہ وہ ستر سالہ تاریخ ہے جو کہ بتا رہی ہے کہ ہمارا مسئلہ کیا ہے ؟

نواز شریف نے کہا کہ اگر آج بھی ہم نے اسی بے ڈھنگی چال نہ بدلا تو پاکستان ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا کیونکہ اللہ بھی انہی قوموں کی مدد کرتا ہے جو اپنی مدد آپ کرتے ہیں نواز شریف نے کہا کہ ووٹ عوام کی ایک مقدس امانت ہے اور اب اس مقدس امانت میں خیانت کا سلسلہ بند ہونا چاہئے اور اس کی کنجی صرف عوام کے پاس ہونی چاہئے ۔ عوامی مینڈیٹ کی توہین بند کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقتدار کے نہیں اقدار کی سیاست کرتے ہیں اور ہمیں قانون کی سربلندی سمیت قومی سلامتی کے لئے ایک ہونا ہو گا ۔ اسی جذبے کے تحت میں اور بے نظیر بھٹو ایک ہوئے تھے ۔ عدلیہ کے لئے بھی ہم نے اقتدار چھوڑا ۔

پیپلزپارٹی کے خلاف تحریک عدم اعتماد روکی ۔ خیبرپختونخوا میں طاقت رکھتے ہوئے پی ٹی آئی کو حکومت بنانے دی کسی کے اقتدار میں کوئی رخنہ نہیں ڈالا ۔اب ہمیں بھی 20 کروڑ عوام کی خاطر تصادم کا کلچر ختم کرنا ہو گا کیونکہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ آج کا پاکستان 2013 سے مضبوط اور توانا پاکستان ہے ۔ جس میں لوڈشیڈنگ آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور دوسرے ملک بھی ہماری ترقی کو تسلیم کر رہے ہیں ۔

سی پیک جیسے عالمی منصوبے پاکستان میں آ رہے ہیں لیکن حالیہ فیصلوں نے پیشرفت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں اور حقیقت میں ایسے فیصلوں سے ملک و قوم کو قیمت ادا کرنا پڑتی ہے ۔ نواز شریف نے کہا کہ جس طرح آج مجھ پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے اگلے انتخابات میں بھی 2013 سے بھی بھاری کامیابی مسلم لیگ(ن) حاصل کرے گی ۔