بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / سیاسی کا رکردگی : مظہر و مُظہر!

سیاسی کا رکردگی : مظہر و مُظہر!

 

تحریک انصاف کے ذمے واجب الادا ذمہ داریوں میں ترقیاتی کام ہیں جن کی چار سالہ دور میں سست رفتار الگ سے تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ دو سال ہونے کو ہیں لیکن ایبٹ آباد کے ’مری روڈ‘ کی توسیع پر مبنی تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوسکا۔ یہ شاہراہ قراقرم کی طرح اہم و مصروف شاہراہ ایبٹ آباد کو بالائی علاقوں سے ملاتی ہے اور اِسی کے ذریعے لاکھوں کی تعداد میں سیاح بالائی گلیات (نتھیاگلی‘ ٹھنڈیانی و ملحقہ سیاحتی مقامات) کی سیر کے لئے سارا سال آتے ہیں۔ علاوہ ازیں بالائی ایبٹ آباد کی جنت نظیر وادیوں میں رہنے والوں کے لئے اشیائے خوردونوش (مال برداری) کے لئے بھی یہی شاہراہ استعمال ہوتی ہے اور مقامی افراد جن میں بڑی تعداد سکولوں کے طلباء و طالبات کی ہے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ تصور کیجئے کہ جس شاہراہ سے صرف تین ماہ میں استفادہ کرنے والی ’ہیوی اور لائٹ‘ گاڑیوں کی تعداد پندرہ لاکھ سے زیادہ ہو‘ اُس کی توسیع کس قدر ضروری اور کس قدر تیزرفتاری سے مکمل ہونا چاہئے تھی۔ عجب ہے کہ ایبٹ آباد سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی (پی کے پینتالیس) کی رہائشگاہ اور اُن کا نجی سکول بھی اِسی ’مری روڈ‘ کے کنارے پر واقع ہے اور اپنے آبائی حلقے سے ہفتہ وار دوروں کے موقع پر وہ خود بھی اِسی مری روڈ سے گزرتے ہیں جو کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے ۔

اگر کوئی صوبائی حکومت چند کلومیٹر شاہراہ ہی چار سال میں مکمل نہ کر پائی تو اُس سے کس طرح اُمید کی جا سکتی ہے کہ اپنی آئینی مدت کے باقی ماندہ آٹھ ماہ سے کم عرصہ میں سارے ترقیاتی کام مکمل کر سکے گی؟ ’مری روڈ‘ کی طرح ’نواں شہر روڈ‘ جو کہ کڑی پنہ چوک سے ’پی ایم اے‘ کاکول (بائی پاس) زیرتعمیر ہے اور بیک وقت جابجا جاری تعمیراتی کاموں کی وجہ سے اِن علاقوں پر بھی گردوغبار کے بادل مستقل چھائے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے ایبٹ آباد سے بارشیں روٹھ گئیں ہوں۔ خشک سالی کی رواں اور گرم موسمی لہر کی وجہ سے اِس ’صحت افزا مقام‘ کی سرسبزی و ہریالی متاثر ہو رہی ہے۔ تحفظ ماحول کے لئے کوششوں میں ’شجرکاری مہم‘ تحریک انصاف کا طرۂ امتیاز ہے لیکن اِس کے خاطرخواہ نتائج برآمد ہونے میں کئی برس لگیں گے تو کیا اُس وقت تک ایسی کوئی صورت نہیں کہ جس سے ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تپش کو کم کیا جا سکے؟ تجویز ہے کہ زیرتعمیرشاہراہوں پر پانی کے چھڑکاؤ کو مستقل بنیادوں پر دن میں متعدد مرتبہ دہرایا جائے تاکہ کم سے کم ’گردوغبار‘ کے بادل چھٹ جائیں۔ المیہ ہے کہ مری روڈ اور ملحقہ نواں شہر کی رابطہ شاہراہ گنجان آباد علاقوں سے گزرتی ہے اور اِسی کے کنارے تجارتی مراکز بھی ہیں جہاں کے دکاندار چہروں کو ڈھانپنے کے باوجود بھی مٹی کی تہہ سے اٹے رہتے ہیں۔

ایبٹ آباد کا شہری و دیہی علاقہ قومی اسمبلی کی نشست ’این اے سترہ‘ اور صوبائی اسمبلی کی نشست ’پی کے پینتالیس‘ پر مشتمل ہے‘ جس پر کامیاب ہونے والے دونوں عوامی نمائندوں کا تعلق ’تحریک انصاف‘ سے ہے اسی طرح حالیہ بلدیاتی انتخابات کے نتیجے میں ضلع ایبٹ کی اکثریتی نشستوں پر ’تحریک انصاف‘ کے نامزد بلدیاتی نمائندے منتخب ہوئے لیکن داخلی انتشار اور پارٹی کی مضبوط گرفت نہ ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف ضلعی حکومت تشکیل دینے میں تاحال کامیاب نہیں ہوسکی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط (بیجا) نہیں ہوگا کہ آئندہ عام انتخابات میں تحریک انصاف کو کسی مخالف سیاسی جماعت سے نہیں بلکہ پارٹی کے داخلی نظم وضبط کے فقدان اور کمزور جماعتی ڈھانچے سے خطرات لاحق ہوں گے۔ ضلع ایبٹ آباد میں تحریک انصاف کے نظریاتی‘ نوجوان‘ خواتین اور رضاکار کارکنوں میں پائی جانے والی مایوسی کو سمجھنا قطعی دشوار نہیں ‘عمران خان اپنی مصروفیات سے بہت سا وقت نکال کر نتھیاگلی تشریف لاتے ہیں لیکن محض تیس کلومیٹر (آدھ گھنٹے کے فاصلے پر) ملحقہ ایبٹ آباد قدم رنجہ نہیں فرماتے‘ جہاں سے تعلق رکھنے والے اُن سے بہ نفس نفیس ملاقات و دیدار کے متمنی ہیں۔ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں تو اِن کی طاقت اور حمایت کا جواب محبت ہی سے دینا ہی ایک ایسی منطق ہے‘ جس کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا!