بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / معاملہ فہمی کی ضرورت

معاملہ فہمی کی ضرورت

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال کو احتساب عدالت میں داخل ہونے سے روکے جانے اور اس سے جڑے دیگر امور سے متعلق فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ تا دم تحریر جاری نہیں ہوئی تاہم اس واقعے کے ساتھ وطن عزیز میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھ گیا ہے۔ خود وزیر داخلہ احسن اقبال کاکہنا ہے کہ پاکستان بنانا ری پبلک نہیں ریاست کے اندر دو ریاستیں نہیں چل سکتیں ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کٹھی پتلی وزیر نہیں رہیں گے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیر داخلہ نے استعفے کی دھمکی بھی دی ہے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ جب وزیر داخلہ کو علم تھا کہ رینجرز تعینات ہے تو وہ احتساب عدالت کیوں گئے۔ دریں اثناء پیپلز پارٹی کے سعید غنی کا کہنا ہے کہ سویلین اتھارٹی کو چیلنج کرنے کا معاملہ قابل برداشت نہیں۔ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کہتے ہیں کہ سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی بھی بے بس تھے تاہم اس طرح کی صورتحال اگر انہیں درپیش آتی تو وہ موقع پر ہی استعفیٰ دے کر آتے۔ سابق وزیر داخلہ کے ترجمان پنجاب کے وزیر کی جانب سے دعوے کے جواب میں کہتے ہیں کہ چوہدری نثار بااختیار وزیر داخلہ تھے اور ان کے ماتحت ادارے انہیں جوابدہ تھے عین اسی روز جب وزیر داخلہ کو عدالت میں داخلے پر روکا گیا اور سیاسی ماحول میں تیزی آئی قومی اسمبلی نے الیکشن بل منظور کرلیا۔

اس موقع پر اپوزیشن نے بھرپور احتجاج کیا۔ مسلم لیگ (ن) کی مجلس عاملہ نے اسی روز جماعتی آئین میں ترمیم کی منظوری بھی دی۔ پارلیمانی جمہوریت میں اختلاف رائے اور سیاسی گرما گرمی کو معمول کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے اور یہی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن کہلاتا ہے تاہم سیاسی قیادت کو اہم معاملات انتہائی سنجیدہ لینے اور اداروں کو مستحکم بنانے پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی اس سب کے ساتھ عوام کو درپیش بنیادی مسائل کے حل کے لئے ٹھوس اور قابل عمل اقدامات بھی ناگزیر ہیں سیاسی اختلافات اور گرما گرمی اپنی جگہ اہم امور اور عوامی مسائل اس بات کے متقاضی ہیں کہ ان پر مرکز اورصوبوں کی سطح پر بھرپور دھیان دیا جائے اور ایک دوسرے کے موقف کو کھلے دل سے سنا جائے۔

صرف اجازت کافی نہیں

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے 36 فارماسیوٹیکل کمپنیوں کو سٹنٹ درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ان کمپنیوں کو کینولا سمیت مختلف اقسام کی 295 میڈیکل ڈیوائسز امپورٹ کرنے کی اجازت بھی ہوگی۔ امراض قلب کے شکار مریضوں کو زیادہ قیمتوں پر غیر معیاری سٹنٹ لگائے جانے کے انکشافات کے بعد ان کی امپورٹ کو قاعدے قانون میں لانا قابل اطمینان ضرور ہے تاہم اس سارے کام کا ثمرآور ہونا ذمہ دار اداروں کی جانب سے کڑی نگرانی کے انتظام سے مشروط ہے۔ کسی بھی ملک یا صوبے میں انسانی صحت اور زندگی سے جڑی ضروریات میں معیار کی نگرانی حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ مارکیٹ میں جعلی اور دو نمبر کی دوائیوں کی فروخت ہونا‘ عطائیت کا کھلے عام آپریشنل ہونا‘ پیتھالوجی لیبارٹریوں کا تکنیکی سہولیات اور کوالیفائیڈ عملے سے محروم ہونا ذمہ دار اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ثبت کرتا ہے صحت کے شعبے میں کسی بھی حکومت کے اقدامات اس وقت ریلیف کا ذریعہ بن سکتے ہیں جب کام کو بیانات اور اعلانات سے نکالتے ہوئے گراس روٹ لیول پر لے جایا جائے۔ اس کے لئے ایک موثر آپریشنل مکینزم ترتیب دینا شرط اولین ہے۔