بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مشعال خان قتل کیس: مزید چار گواہان کے بیانات قلمبند

مشعال خان قتل کیس: مزید چار گواہان کے بیانات قلمبند

ہری پور: ایبٹ آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں مبینہ طور پر توہین رسالت کے الزام میں ساتھی طلبہ کے تشدد سے جاں بحق ہونے والے مشعال خان کے قتل کیس کی سماعت کے دوران ملزمان کے خلاف مزید چار گواہان کے بیانات قلمبند کرلیے گئے۔

ان گواہان میں ڈاکٹر شاہد اقبال، صدام نثار، سید شاہ ناصر اور بہادر شامل تھے جبکہ عدالت نے عثمان اور زبیر کی جانب سے فراہم کیے گئے ثبوتوں کو مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ 19 ستمبر سے انسداد دہشت گردی کے جج فضل سبحان خان کی عدالت میں مشعال خان قتل کیس کی سماعت جاری ہے، جس میں اب تک 25 گواہ اپنے بیانات ریکارڈ کروا چکے ہیں، ان میں زیادہ تر پولیس اہلکار اور یونیورسٹی کے ملازمین شامل ہیں جنہوں نے استغاثہ کے حق میں گواہی دی۔

استغاثہ کے وکیل عبدالرؤف خان کے مطابق ملزمان میں سے ایک نے یہاں موجود ایک گواہ کو گزشتہ سماعت میں اشاروں میں دھمکی دینے کی کوشش کی تھی جس کے بعد وکیل کی درخواست پر تمام ملزمان عدالت میں ہتکڑی لگا کر پیش کیے گئے۔

عدالت نے کیس کی سماعت 7 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی، جس میں مزید گواہان اپنے بیانات قلمبند کروائیں گے۔

استغاثہ کے ایک اور وکیل حافظ کالا خان نے کہا کہ ان گواہوں میں مردان کے دو مجسٹریٹ شامل ہیں جو استغاثہ کے حق میں اپنا بیان قلمبند کروائیں گے۔

خیال رہے کہ رواں سال 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کو ساتھی طلبا نے بہیمانہ تشدد کے بعد قتل کردیا تھا۔

مشعال، ان کے دو دوستوں عبداللہ اور زبیر پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا تھا، بعد ازاں انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبر پختونخوا صلاح الدین محسود نے پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ پولیس کو اس حوالے سے ٹھوس شواہد نہیں ملے۔