بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / ناقابل درگزر

ناقابل درگزر

اسلام آباد میں نواز لیگ کنونشن براہ راست نشر ہو رہا تھا جس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے پارٹی کے نومنتخب صدر نوازشریف کوعلی الاعلان مشورہ دیا کہ ’وہ عہدے اختیارات‘ مراعات و سہولیات کے دلدادہ مشیروں سے چھٹکارہ حاصل کریں۔‘ اگرشہباز شریف حقیقت ہی میں مخلص ہوتے تو وہ اشارے کنائیوں کی بجائے کھل کر بات کرتے کیونکہ جو عناصر حکمران جماعت کی سیاست کو نقصان پہنچا رہے ہیں درحقیقت وہ پاکستان کو سیاسی و آئینی بحرانوں سے دوچار کئے ہوئے ہیں اور ان میں حالیہ اضافہ انتخابی اصلاحات میں ختم نبوت سے متعلق حلف نامے کو اقرار نامے سے تبدیل کرنے کی کوشش ہے‘ جس پر سابق وزیراعظم میرظفراللہ خان جمالی کا قومی اسمبلی میں بیان قوم کے جذبات کا عکاس و ترجمان ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس قسم کی قانون سازی کرنے والوں کو بے نقاب کیا جائے اور اگر ڈان لیکس کرنے والوں کو سزا ہو سکتی ہے تو ختم نبوت کے حلف نامے کو تبدیل کرنے کی کوشش پر بھی سزا واجب ہے! میرظفر اللہ جمالی نے اپنے بیان کا اختتام اس دعا پر کیا کہ ’’میرے مرنے سے پہلے خدا (ایسی) اسمبلیوں کو موت دے۔

‘‘ شہباز شریف نے جن مشیروں کی جانب اشارہ کیا ان سے متعلق جواب طلب سوال یہ ہے کہ قانونی معاملات میں نواز شریف کی مشاورت کرنے والے یہ لوگ کون ہیں؟ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اور نہ ہی نابغہ ہونے یا انتہاء درجے کا ذہین ہونا شرط ہے یہ جاننے کے لئے کہ زاہد حامد‘ بیرسٹر ظفر اللہ‘ خواجہ ظہیر‘ کرامات نیازی اور اشتر اوصاف پر مشتمل ’پانچ افراد کی کور کمیٹی‘ ہی جملہ اصلاحاتی عمل اور قانون سازی سے متعلق وفاقی حکومت کے فیصلے کرتی ہے۔ عجیب حسن اتفاق یہ ہے کہ ان پانچوں مشیروں کا تعلق ایک ہی علاقے اور ایک ہی صوبے سے ہے۔ کیا نوازلیگ کی اس کور کمیٹی میں خیبرپختونخوا‘ بلوچستان اور سندھ کی نمائندگی نہیں ہونی چاہئے تھی؟ اگر خلاصۂ کلام کیا جائے تو ’حقیقت یہ ہے کہ نواز شریف کے کسی بھی عمل میں وفاقیت نہیں ملتی بلکہ وہ ایک خاص شاہانہ انداز میں اپنے مشیروں کو انتخاب کرتے ہیں‘ جن کے انتخاب میں چاروں صوبوں کی رائے اور اپنی جماعت کے رہنماؤں کی شرکت ضروری نہیں سمجھی جاتی۔ فیڈریشن کا کمزور ہوتا تصور پاکستان کو درپیش بہت سے دیگر بحرانوں کی طرح ہر گزرتے دن شدت اختیار کر رہا ہے‘چھوٹے صوبوں بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں پایا جانیوالا احساس محرومی اپنی جگہ حل طلب ہے۔ کیا ہم کسی ایسی وفاقی کابینہ کا تصور کر سکتے ہیں جیسا کہ نوازشریف کے چارسالہ دور میں کابینہ میں رہا کہ کوئی بھی ایسا وزیرشامل نہیں کیا گیا جو کہ پشتو زبان بولتا ہو۔

موجودہ وفاقی کابینہ میں بطور مشیر ’امیرمقام‘ شامل ہیں لیکن فیصلہ سازی میں ان سے کتنے معاملات پر مشاورت ہوتی ہے اور کیا وہ مشاورتی عمل کا حصہ ہوتے بھی ہیں‘ یہ بیان کرنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں۔بڑے بھائی‘ سیاسی قائد اور تین مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم رہے نوازشریف کو جب بھری محفل میں علی الاعلان کہا جارہا تھا کہ ’’کچھ لوگ آپکی سیاست کو ڈبورہے ہیں تو ان پانچ پیاروں کے بارے میں پوری قوم جاننا چاہتی ہے کہ آخر یہ کون ہیں اور درپردہ کر کیا رہے ہیں؟ ختم نبوت یا ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے متعلق قانون سازی درحقیقت کوئی ایسی معمولی شرارت نہیں کہ جسے درگزر کر دیا جائے ۔ پاکستانی ریاست کو درپیش اندرونی و بیرونی آئینی معاملات کا دفاع کرنے والے اٹارنی جنرل شریف خاندان کو بچانے کے لئے ’پانامہ کیس‘ میں تاحال اُلجھے ہوئے ہیں جس کے باعث عالمی عدالت انصاف میں بھارتی جاسوس کلھبوشن یادیو سمیت کئی مقدمات میں پاکستان کو پسپائی ہے۔ وقت ہے کہ پاکستان اور پاکستان کے قیام کی بنیاددو قومی نظریہ کے تحفظ کو اہمیت دی جائے۔ ختم نبوت کے حلف نامے میں غلطی غیردانستہ طور پر نہیں ہوئی جس میں قادیانیوں کے مفادات کا تحفظ کیا گیا ہے تو کہیں ایسا نہ ہو کہ لیگی صفوں میں کوئی قادیانی گھس کر واردات کا ذمہ دار ہو۔ تحقیقات سے پہلے مذکورہ مشیروں کو معطل اور ہرقسم کی فیصلہ سازی سے الگ کرنا چاہئے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ختم نبوت سے متعلق حلف نامے میں ردوبدل پر مبنی گستاخی کو غلطی تسلیم کرنا کافی نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل میں ایسی ’اندھی قانون سازی‘ نہ ہو سکے۔