بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان جمہوریت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا‘ وزیر اعظم

پاکستان جمہوریت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا‘ وزیر اعظم

نوشہر وفیروز۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ گزشتہ چار سال میں بجلی کی پیداوار میں 10ہزار میگاواٹ کا اضافہ کیا ہے، جو وسائل 2013میں سندھ کو دیئے گئے آج اس سے 50فیصد سے زیادہ دیئے گئے ،جمہوریت کی پاکستان کی ترقی کی علامت ہے،2006میں بے نظیر اور نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے ہمیں اس کے مطابق سیاست کو آگے لے کر جاناہے، امید کرتا ہوں کہ پیپلز پارٹی ان باتوں پر غور کرے گی اور ملک میں جس سیاست پر بے نظیر اور نواز شریف میں اتفاق ہوا تھا وہی سیاسی معیار آگے چلے گا،پاکستان جمہوریت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

سیاسی مفاد اور ملکی مفاد رکھنے والی جماعت میں فرق ہوتا ہے، پورے ملک میں امن مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کا تحفہ ہے،کھوکھلے نعروں سے مسائل حل نہیں ہوتے، جب حکومت سنبھالی تو ملک میں ترقیق کی شرح 3فیصد تھی جو آج6فیصد ہے، موجودہ حکومت نے صوبوں کا برابر خیال رکھا اور صوبوں کے دیرینہ مسائل حل کئے ،ہم نے دہشت گردی کو شکست دی اور دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چار سال پہلے اور آج کے کراچی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

سیاسی فیصلے سڑکوں اور عدالتوں میں نہیں ہونے چاہئیں،آج ملک ترقی کی شاہراہ پر کھڑا ہے اور معیشت مضبوط ہو رہی ہے،دہشت گردی وہ ناسور تھا جس نے لوگوں کو غیر محفوظ اور معیشت کو تباہ کیا،جھل مگسی میں درگاہ میں دہشت گردی کا واقعہ افسوسناک ہے، ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔وہ ہفتہ کو نسواں جتوئی میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر وزیراعظم نے کندھ کوٹ گیس فیلڈ میں پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا افتتاح کر دیا۔

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نوشہرو فیروز میں بجلی اور گیس کے منصوبوں کیلئے ڈیڑھ ارب روپے کا اعلان کیا جبکہ سڑکوں کیلئے ایک ارب روپے کااعلان کیا، وزیراعظم نے نوشہرو فیروز کیلئے صحت کارڈ اسکیم کے اجراء اور محراب پور میں ترقیاتی کاموں کیلئے 20کروڑ روپے دینے کا بھی اعلان کیا۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کندھ کوٹ گیس فیلڈ میں پیداوار بڑھانے کے منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ کندھ کوٹ سے اضافی گیس بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے بجلی گھروں کو فراہم کی جائے گی، کندھ کوٹ گیس فیلڈ 1959میں دریافت ہوا جبکہ گیس نکالنے کے عمل کا آغاز 1983میں ہوا، کندھ کوٹ گیس فیلڈ میں 519بلین مکعب فٹ گیس کے ذخائر ہیں۔

گیس فیلڈ سے اضافی پیداوار کے حصول کیلئے جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے، کندھ کوٹ گیس فیلڈ میں 36کنویں ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھے آج یہاں آ کر بڑی خوشی ہے کیونکہ یہ میرے بزرگ مصطفی غلام جتوئی کا گھر ہے، مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ جب وہ اپوزیشن لیڈر تھے تو میں اس اپوزیشن کا حصہ تھا، جس شرافت سے انہوں نے کہ اپوزیشن چلائی اور جس کے دوران ایک عدم اعتماد کی تحریک بھی آئی تھی جو کامیاب نہ ہوئی۔

اس کاتدبر اور سیاسی قد مثالی ہے، مجھے خوشی ہے کہ غلام مرتضی جتوئی بھی ان کے قدم پر چلتے ہیں، ان کے طریقے کو ہر کوئی پسند کرتا ہے، وہ اپنی حکومت کو جانتے ہیں اور مسائل کو حل کرنا بھی جانتے ہیں، ارباب غلام رحیم میرے دیرینہ دوست ہیں، ان کا سندھ کی سیاست میں مقام ہے، یہ لوگ آج بھی حق کے ساتھ چلتے ہیں اور ڈرتے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2006میں بے نظیر بھٹو اور میاں نواز شریف نے میثاق جمہوریت پر دستخط کئے تھے۔

اس کی بنیاد یہی تھی کہ انتقام کی سیاست کو ختم کیا جائے گا، عوام کے نمائندے کا حق اسے دیا جائے گا اور عوام کا مینڈیٹ قبول کیا جائے گا، بدقسمتی سے آج یہ نہیں ہے، ہمیں اس میثاق جمہوریت کے مطابق سیاست کو آگے لے کر جاناہے، امید کرتا ہوں کہ پیپلز پارٹی ان باتوں پر غور کرے گی اور ملک میں جس سیاست پر بے نظیر اور نواز شریف میں اتفاق ہوا تھا وہی سیاسی معیار آگے چلے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جمہوریت کے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اس پر سارے پاکستان کا اتفاق ہے،28جولائی کو ایک عدالت کا فیصلہ آبا جس کو حکومت نے قبول کیا، حکومت ختم ہو گئی، بہت سے لوگ انتشار کی توقع کر رہے تھے لیکن وزارت عظمیٰ کا کوئی امیدوار نہیں تھا، جس کا نام پارٹی نے دیا وہ وزیراعظم بنا، یہ جمہوریت کی مضبوطی ہے، ملک اس وقت ترقی کرے گا جب جمہوریت ہو گی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہمیں فخر ہے آج (ن) لیگ اور نواز شریف واحد لیڈر ہیں جو ملک کی ترقی کی بات کرتا ہے۔

اپنے عمل سے ثابت کیا کہ پاکستان کی ترقی چاہتے ہیں، (ن) لیگ نے کام کر کے دکھائے، جو وسائل 2013میں سندھ کو دیئے گئے آج اس سے 50فیصد سے زیادہ دیئے گئے ہیں، اگر وہ وسائل عوام کے مسائل حل نہ کریں یہ حکومت کی ناکامی ہے، نوجوانوں کو نوکریاں پورے پاکستان کا مسئلہ ہے، نوکری ملتی ہے جب معیشت مضبوط ہو،سی پیک اگلے 50سال تک پاکستان کو ترقی دے گا اور معیشت کو مضبوط کرے گا، کھوکھلے نعروں سے مسائل حل نہیں ہوتے، جب حکومت سنبھالی تو ملک میں ترقیق کی شرح 3فیصد تھی جو آج6فیصد ہے، ملک ترقی کرے گا تو ملازمتیں پیدا ہوں گی اور لوگوں کو روزگار ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی مسلم لیگ(ن) کی حکومت آئی ملک میں ترقیاتی منصوبے شروع ہوئے،موجودہ حکومت نے ملک میں موٹرویز کا جال بچھایا، موٹرویز کے اثرات ملک کی معیشت پر پڑتے ہیں، شاہراہوں کے جال سے ملک کی اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوتا ہے، وفاقی حکومت نے سندھ میں 15سال سے زیر التواء منصوبے مکمل کئے، کچھی کینال کا منصوبہ گزشتہ تیس سال سے التواء کا شکار تھا۔

حکومت نے 28ارب روپے کی لاگت سے کچھی کینال منصوبہ مکمل کیا، سیاسی مفاد اور ملکی مفاد رکھنے والی جماعت میں فرق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی ترسیل میں کوئی کمی نہیں ہوئی، بجلی کا مسئلہ حل کر دیاہے، گزشتہ چار سال میں بجلی کی پیداوار میں 10ہزار میگاواٹ کا اضافہ کیا ہے، سندھ ملک میں سب سے زیادہ گیس فراہم کرنے والا صوبہ ہے، تیل کی قیمت زیادہ تھی تو موجودہ حکومت نے 30ارب روپے سندھ کو دیئے ، موجودہ حکومت نے صوبوں کا برابر خیال رکھا اور صوبوں کے دیرینہ مسائل حل کئے ہیں۔

پاک فوج اب بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑ رہی ہے، ہم سب نے مل کر دہشت گردی کو شکست دینی ہے، آج کراچی میں امن ہے اور دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، پورے ملک میں امن مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کا تحفہ ہے،ہم نے دہشت گردی کو شکست دی اور دیتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چار سال پہلے اور آج کے کراچی میں زمین آسمان کا فرق ہے،سیاسی فیصلے سڑکوں اور عدالتوں میں نہیں ہونے چاہئیں،جمہوریت کی پاکستان کی ترقی کی علامت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ 2013میں دنیا کہہ رہی تھی کہ پاکستان دیوالیہ ہونے والا ہے، آج ملک ترقی کی شاہراہ پر کھڑا ہے اور معیشت مضبوط ہو رہی ہے۔

دہشت گردی وہ ناسور تھا جس نے لوگوں کو غیر محفوظ اور معیشت کو تباہ کیا،جھل مگسی میں درگاہ میں دہشت گردی کا واقعہ افسوسناک ہے، ہم دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ کر دم لیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے مستقبل کا فیصلہ ووٹ سے کیا جاتا ہے، اقتدار کا فیصلہ انتخابی عمل اور ووٹ کی طاقت کے ذریعے ہونا چاہیے۔،سیاسی فیصلے پولنگ اسٹیشن پر ہوتے ہیں سڑکوں پر نہیں، امید ہے کہ ملکی ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کیلئے عوام مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دے گی۔