بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / جیل خانہ جات: اصلاح احوال!

جیل خانہ جات: اصلاح احوال!

خیبرپختونخوا کے محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نے قیدیوں کی تعلیم و تربیت کیلئے اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام شروع کیا ہے جس کے تحت پشاور سنٹرل جیل کی طرح مردان جیل میں لائبریری کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور مرحلہ وار انداز میں اس حکمت عملی کو صوبے کے دیگر مرکزی جیل خانہ جات تک وسعت دی جائے گی لیکن گنجائش سے زائد قیدیوں کی وجہ سے قیدخانوں کے دیگر کئی ایسے معاملات ہیں کہ جن کی جانب خاطرخواہ توجہ مبذول نہیں کی جا رہی جیسا کہ دہشت گردی اور منظم جرائم کے عادی پیشہ ور قیدیوں کیساتھ عمومی جرائم کے قیدیوں کا آپسی میل جول‘ قیدیوں کے بذریعہ موبائل فون فعال رابطے‘ قیدخانوں میں منشیات کی مبینہ فروخت‘ استعمال کا دھندا اور معاوضے کے عوض قیدیوں کو ملنے والی سہولیات ایک ہی باب میں ایسے الگ الگ موضوعات ہیں جن کے بارے میں فیصلہ ساز ایک عرصے سے بات کرنا پسند نہیں کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ قید خانوں کی اصلاح کئے بغیر جرم و سزا کے عوامل ختم نہیں کئے جا سکتے اور نہ ہی اس بات سے بیزاری پیدا کی جا سکتی ہے کہ جرم سرزد کرنے سے پہلے کوئی سو بار سوچے۔قیدخانوں میں تعلیم و تربیت کے مواقع فراہم کرنے سے قیدیوں میں مثبت سوچ پیدا کی جا سکتی ہے اور انہیں ایک ذمہ دار زندگی کی طرف واپس لوٹنے یا دیکھنے کی طرف مائل کیا جاسکتا ہے۔

یہ ایک نہایت ہی عمدہ شعوری کوشش ہے جس کا آغاز بہت پہلے اور زیادہ بڑے پیمانے پر ہونا چاہئے تھا کیونکہ سزا پانے کے بعد قیدیوں کے لئے عموماً معاشرے کی رفتار سے رفتار ملا کر چلنا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ ہنرمند نہیں ہوتے۔ نفسیاتی طور پر دباؤ کا شکار ہوتے ہیں اور خود کومعاشرے پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں ایسی صورت میں اگر انہیں ہنرمندی سے لیس کر دیا جائے تو وہ نہ صرف ذاتی طور پر چھوٹے موٹے کاروبار کو شروع کرسکتے ہیں بلکہ انہیں باعزت روزگار کے مواقع بھی ملنا مشکل نہیں ہوگا۔ مردان جیل میں قیدیوں کی بحالی کے پروگرام کے پہلے مرحلے میں 68 قیدیوں (بشمول 22 خواتین) کو اُردو‘ انگریزی اور حساب کے علوم سکھائے جائیں گے اور قیدیوں ہی میں موجود پڑھے لکھے افراد کی خدمات سے بطور معلم استفادہ کیا جائے گا جنہیں اس خدمت کے عوض پندرہ ہزار روپے مہینہ تنخواہ دی جائے گی۔ حکمت عملی کے تحت بعدازاں مزید معلم بھرتی کئے جائیں گے جو قیدیوں کے علاوہ ہوں گے اور وہ مختلف علمی و فنی علوم کے بارے میں قیدیوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کریں گے قیدخانوں کو درسگاہوں میں تبدیل کرنے سے معاشرے پر مرتب ہونے والے مثبت اثرات کا شمار ممکن نہیں لیکن اگر تسلسل رہے اور قیدیوں کا کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ رکھنے کیساتھ انہیں بعدازاں عملی زندگی کی بہتر شروعات کرنے کے لئے آسان اقساط پر قرضے بھی فراہم کئے جائیں۔ ہماری نوجوان نسل کی اکثریت جرائم کی جانب راغب بھی اسی وجہ سے ہوتی ہے کہ اُنہیں ملازمتیں نہیں ملتی اور نجی روزگار کے لئے اُن کے پاس مالی وسائل نہیں ہوتے۔ بینکوں کی جانب سے قرض لینا بھی سزایافتہ افراد کے لئے حاصل کرنا ممکن نہیں ہوتا اور مجبوراً معمولی وارداتوں سے آغاز کرنیوالے جرائم کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔

مردان جیل کی طرح پشاور کی سنٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعلیم وتربیت کے لئے اہتمام پہلے ہی سے موجود ہے اور ایک نجی ادارے ’کتابی‘ کی مدد سے دوہزار مختلف موضوعات پر شائع ہونے والی کتب پر مشتمل ’جیل لائبریری‘ بھی قائم ہے۔ اِسی قسم کی لائبریری مردان جیل میں بھی فراہم کی جائے گی اور جیل کی حدود ہی میں علاج معالجے کی معیاری و جدید سہولیات کا بندوبست بھی صوبائی حکومت کی جامع حکمت عملی کا حصہ ہے۔ مردان جیل کے قیدیوں کو روزانہ تین گھنٹے تعلیم دی جائے گی اور ایک تربیت کا دورانیہ چھ ماہ رکھا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ قیدیوں کو استفادہ کرنے کا موقع فراہم کیا جا سکے۔ تین مضامین میں تین درجات کی یہ تعلیم اگرچہ ناکافی ہے لیکن کچھ نہ ہونے سے کئی درجے بہتر ہے اس سلسلے میں تجویز ہے کہ اگر ویڈیو ریکارڈ شدہ اسباق اور بالخصوص ورچوئل یونیورسٹی کے تعاون سے خصوصی پروگرام بنائے جائیں تو سیٹلائٹ ٹیلی ویژن کے ذریعے ان کی نشریات سے قیدیوں کی تعلیم و تربیت کے عمل کوزیادہ تیزرفتار اور زیادہ افراد کیلئے قابل استفادہ بنانے کے ساتھ کم خرچ بھی بنایا جاسکتا ہے صوبائی حکومت فاصلاتی نظام تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے میں غیرضروری ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے اگر خیبرپختونخوا حکومت اپنے ٹیلی ویژن چینل کے قیام پر گذشتہ دس برس سے جاری غوروخوض کو کسی ایک نکتے پر مرکوز کرے‘ تو اِس سے نہ صرف تعلیم بلکہ ووٹرز کی رہنمائی اور سیاسی معاملات پر صوبائی حکومت کے مؤقف کی زیادہ مؤثر انداز میں تشہیر ممکن بنائی جا سکتی ہے۔