بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / سرکاری رہائشگاہوں کی آؤٹ آف ٹرن الاٹمنٹ کالعدم قرار

سرکاری رہائشگاہوں کی آؤٹ آف ٹرن الاٹمنٹ کالعدم قرار

پشاور۔ پشاور ہائیکورٹ نے 2011ء کے بعد غیر قانونی طور پر آؤٹ آف ٹرن سرکاری رہائش گاہوں کی الاٹمنٹ کو کالعدم قرار دیدیاتاہم اس فیصلے کا اطلاق ریٹائر‘ دوران ملازمت وفات پانے والے ملازمین اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کیلئے مختص گھروں پر نہیں ہوگا‘ اس کے ساتھ ساتھ ایسے افراد جنہوں نے عدالتی حکم کے ذریعے تحفظ حاصل کیا ہے وہ بھی اس فیصلے کی زد میں نہیں آئیں گے۔

عدالت عالیہ کے جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے یہ حکم مختلف سرکاری ملازمین کی جانب سے ان کی سنیارٹی نظر انداز کرکے منظور نظر افراد کو سرکاری رہائش گاہیں آلاٹ کرنے کیخلاف دائر رٹ پٹیشنز کی سماعت مکمل ہونے پر جاری کیا‘ فرمان وغیرہ کی جانب سے رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیاگیا تھا کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے پشاور میں ملازمت کر رہے ہیں اور ابھی تک انہیں گھر آلاٹ نہیں کئے ۔

گئے حالانکہ منظور نظر افراد کو بغیر سنیارٹی کے گھر آلاٹ کئے جا رہے ہیں جو ان کے ساتھ زیادتی ہے جبکہ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو اپنے دلائل میں بتایا کہ آؤٹ آف ٹرن کے الفاظ 1980ء کے الاٹمنٹ رولز میں موجود ہیں مگر یہ ان افراد کیلئے ہے جو سروس سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی رہائش گاہ کو اپنے سرکاری ملازم بیٹے یا بیٹی کو منتقل کرتے ہیں یا اعلیٰ عدلیہ کے وہ ججز جن کیلئے بالحاظ عہدہ گھر مختص ہوں تاہم یہ بھی اہم ہے کہ بعض اوقات متعلقہ بیوروکریسی اور سیاستدان من پسند افراد کو یہ گھر بغیر نمبر کے الاٹ کرتے ہیں۔

پشاور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے کہ 2011ء کے بعد آؤٹ آف ٹرن الاٹمنٹ غیر قانونی ہے کیونکہ اس وقت پشاور میں سرکاری رہائش گاہ کا اصول ایک بڑا مسئلہ ہے اور لوگ کئی دہائیوں سے اسی انتظار میں ہیں کہ انہیں سرکاری رہائش گاہ میسر آسکے مگر ہر دفعہ مضبوط پولیٹیکل اور بیوکریٹک سسٹم ان کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے لہٰذا صوبائی حکومت اس قسم کی تمام الاٹمنٹ کو منسوخ کرے اور گریڈ 20اور 19کے چار افسران پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو تمام معاملات کو میرٹ پر اور الاٹمنٹ رولز کی کی روشنی میں دیکھے اور فیصلہ دے کہ کونسی آؤٹ آف ٹرن آلاٹمنٹ غیر قانونی ہے۔

صوبائی حکومت کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے کمیٹی کی سفارشات پر من و عن عمل کرے اور جو لوگ غیر قانونی طور پر مقیم ہیں انہیں گھروں سے بے دخل کرکے حقداروں کو ان کا حق دیا جائے تاہم کمیٹی کے حتمی فیصلے تک کسی کو بھی بے دخل نہیں کیا جائے گا ۔