بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / سی پیک روٹ، ہائیکورٹ میں درخواست

سی پیک روٹ، ہائیکورٹ میں درخواست


خیبرپختونخوا اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر نے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ میں صوبے کو اس کا حق دلانے کیلئے پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کر دی ہے۔ سپیکر کا مؤقف ہے کہ سی پیک ایک قومی منصوبہ ہے جس میں خیبرپختونخوا کو اس کا حق نہیں مل رہا ان کا کہنا ہے کہ صوبے کی اسمبلی میں منظور ہونے والی قراردادوں کے باوجود ہمارے تحفظات دور نہیں کئے گئے۔ ادھر منصوبہ بندی کے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ راہداری منصوبے کے مغربی روٹ پر کام زور وشور سے جاری ہے اور گوادر تا کوئٹہ شاہراہ وقت سے پہلے مکمل کر لی گئی ہے ۔ ان کا اب بھی یہی کہنا ہے کہ کسی صوبے کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی۔ خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر احسن اقبال نے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے ساتھ مل کر معاملہ حل کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

خیبرپختونخوا کے تحفظات پر بات پہلے بھی ہو چکی ہے اور وزیر اعظم نواز شریف خود سیاسی قیادت کو بات چیت کی میز پر مکمل اطمینان دلا چکے ہیں خیبرپختونخوا حکومت اب بھی صرف وزیر اعظم کی یقین دہانیوں پر عملدرآمد کا مطالبہ کر رہی تھی جس پر بالآخر بات عدالت جا پہنچی ۔ وطن عزیز میں پانامہ پیپرز کی رپورٹ پر انکوائری کے حوالے سے کیس بھی اب عدالت عظمیٰ میں ہے جس کے ٹی او آرز پر اختلافات نے بات احتجاج تک پہنچا دی تھی۔ وقت کا تقاضا عدالتی احکامات کے انتظار کا ہے اس سب کے ساتھ ضرورت سیاسی استحکام کی ہے اس استحکام سے ملک کی ترقی اور معیشت جڑی ہوئی ہے۔ سیاسی اختلافات جمہوریت کا حسن ہیں لیکن ان اختلافات کو حل کرنے کیلئے مذاکرات بھی جمہوری روایت کا حصہ ہیں اب ضرورت تنازعہ کا باعث بننے والے دیگر معاملات پر لچک دار رویوں کے ساتھ بات چیت کی ہے تاکہ ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے راہیں ہموار ہوں۔

ماحولیاتی آلودگی کیلئے ٹریبونل میں تاخیر

انگریزی روزنامہ میں شائع خصوصی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کیسز کی سماعت کیلئے ٹریبونل کا قیام 2014ء سے التواء کا شکار ہے ٹریبونل کا وجود نہ ہونے پر سینکڑوں کیس سماعت کے منتظر ہیں اس سے پہلے ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کیس وفاق کے زیر انتظام ٹریبونل دیکھتا تھا۔ دستور میں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہونے والے اختیارات کے تحت صوبہ کو اپنا ٹریبونل بنانے اور قواعد فریم کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔

خیبرپختونخوا حکومت ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کیلئے شجرکاری کی تاریخ ساز مہم دینے کا اعزاز رکھتی ہے تاہم دوسری جانب ٹریبونل کے قیام میں اتنی تاخیر حکومتی اقدامات پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتوں کے اکثراچھے فیصلے اور مثبت اقدامات فائلوں کی سست روی کے باعث عوام کیلئے بے ثمر ہو کر رہ جاتے ہیں مسئلے کا بہتر حل ہر اہم فیصلے پر عملدرآمد کیلئے ٹائم فریم دینے میں ہے اس کے ساتھ مقررہ ڈیڈ لائن تک اہداف کے حصول میں ناکام رہنے والے حکام کے خلاف کاروائی کیلئے ضابطہ کار وضع کرنا ہوگا ۔