بریکنگ نیوز
Home / کالم / کچھ قد م آگے

کچھ قد م آگے


حکومتوں کی طرف سے اشیاء اور منصوبوں کی افادیت کے لئے سروے کروائے جاتے ہیں۔یہ سروے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ کہ جو حکومتیں کرواتی ہیں اس کے لئے حکومت کے اپنے محکمے ہوتے ہیں جو مختلف اشیاء کی ضرورت اور ناپیدگی کی وجوہات تلاشتے ہیں ۔ ان میں جس طرح سے کام ہوتا ہے وہ ہم بہت عرصے سے دیکھ رہے ہیں اور نظر یو ں آ تا ہے کہ یہ سروے صرف حکومت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہوتے ہیں۔مثال کے طور پراشیائے صرف کی قیمتوں کے رجحان کا بتاتے ہوئے حکومتی سروے کہتا ہے کہ مختلف اشیاء کی قیمتوں میں بہت معمولی سا اضافہ دیکھنے میں آ یا ہے۔ اب حکومتی وزرا جنہوں نے اس سروے پر منصوبہ بندی کرنی ہے وہ تو نہ مارکیٹ میں جاتے ہیں اور نہ انہیں کوئی چیزخریدنے کی ضرورت ہوتی ہے اس لئے کہ اشیائے صرف اُن کے گھروں پر بغیر کچھ خرچ کئے پہنچ جاتی ہیں اور ہمارے وزیر صاحب اسمبلی میں کہہ دیتے ہیں کہ ملک میں کسی قسم کی مہنگائی نہیں ہے جب کہ حقیقت اس کے بالکل مختلف ہوتی ہے۔یعنی ٹماٹر جو کل تک بیس روپے کلو بک رہے تھے آج سو روپے کلو ہیں مگر حکومتی سروے کچھ او رہی کہہ رہا ہے۔ اس کے مقابلے میں کچھ نجی کمپنیاں اس کام پرمامور ہوتی ہیں جن کے سروے قابل اعتماد ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہوتے جب کہ حکومتی سروے کرنے والوں کی مثال جناب انور مسعود کی ایک نظم ’’ اج کیا پکایئے ‘‘ میں بڑے واضح طور پر بتائی گئی ہے اس لئے کہ خان کا نوکر خان کا نوکر ہوتا ہے اور اس کا بڑا کام خان کی خوشنودی ہوتا ہے۔چنانچہ کوئی بھی حکومتی سروے صرف حکومت کو خوش کرنے کے لئے ہوتا ہے۔

تاکہ حکومت کو معلوم ہو کہ سب اچھا ہے۔ایوب خان کے آخری دنوں میں جب ہر طرف ہڑتالیں ہو رہی تھیں ایوب خان کو ’’ سب اچھا ‘‘ کی رپورٹیں مل رہی تھیں اور ایک دن اس کے اپنے گھر میں گھر سے باہر کے نعرے گونجے تو معلوم ہوا کہ باہر تو بات بہت آگے نکل چکی ہے۔چنانچہ انہوں نے خود ہی حکومت چھوڑ دی اور جس طرح آئے تھے اسی طرح رخصت بھی ہو گئے۔مگر ہمارے دوسرے وزرائے اعظموں اور صدور کو ’’ سب اچھا ‘‘کی رپورٹیں ملتی رہیں اور وہ ڈٹے رہے یہاں تک کہ بے عزت ہو کر نکالے گئے۔ اسی طرح کی کچھ رپورٹیں ہماری صوبائی حکومت کو بھی مل رہی ہیں جن میں حکومت نے جو کچھ تعلیمی اصلاحات کی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ اُن کے اصلاحات کی وجہ سے لوگ اپنے بچوں کو پرئیوایٹ سکولوں سے نکال کر گورنمنٹ کے سکولوں میں داخل کروا رہے ہیں اس طرح کے اشتہار آج کل ٹی وی پر بھی چل رہے ہیں اور اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صوبے میں ڈیڑھ لاکھ بچے پرائیویٹ سکولوں سے نکل کر سرکاری سکولوں میں داخل ہوئے ہیں۔ ہمیں اس پر یقین اس لئے کرنا چاہئے کہ یہ بات صوبائی حکومت کی جانب سے آئی ہے مگر کیا ہمارے صوبائی حکومت کے وزرا اور اسمبلی کے ممبران کے بچے بھی پرائیویٹ سکولوں سے نکل کر سرکاری سکولوں میں داخل ہو گئے ہیں ؟ اور اگر ہیں تو کتنے اور اگر نہیں تو مان لینا چاہئے کہ یہ ڈیڑھ لاکھ والی بات کچھ دل کو لگتی نظر نہیں آتی۔ سرکاری سکولوں میں جس طرح کی اصلاحات کی گئی ہیں ان کے توڑ بھی سکول کے اساتذہ نے نکال لئے ہیں۔

اس لئے کہ پشتو کا ایک محاورہ ہے کہ پہاڑ جتنا بھی اونچا ہو اس کی چوٹی تک ایک راستہ ضرور ہوتا ہے۔آپ جب تک اصلاحات ایسی نہیں کرتے کہ اسمبلی ممبران کے بچے، ضلع کے ڈی سی ، اے سی ، وغیرہ کے بچے اور حکومتی عہدے داروں کے بچے اور اساتذہ کے اپنے بچے جب تک سرکاری سکولوں میں نہیں پڑھیں گے نہ تو سرکاری سکولوں کا نظام درست ہو سکتا ہے اور نہ لوگ خوشی خوشی اپنے بچوں کو سکول بھیج سکتے ہیں اور جو اصلاحات آنکھیں بند کر کے حکومت نے کی ہیں ان کی وجہ سے اساتذہ میں بجائے کام میں دلچسپی لینے کے کام سے جی چرانے کا رحجان بڑھ رہا ہے۔جس طرح سے ان کی اتفاقیہ چھٹیوں پر پابندی اور ان کے ہر کام کو منفی انداز سے دیکھنے کی روایت ڈالی جا رہی ہے وہ اساتذہ میں اضطراب کو جنم دے رہے ہیں جس سے اساتذہ میں بے چینی پائی جاتی ہے ۔اور اگر اساتذہ مطمئن نہیں ہوں گے تو ان کا پڑھانے کا جذبہ کم ہوتا رہے گا۔ بات سروے رپورٹوں سے نہیں بنتی اس سے کچھ قدم آگے بڑھنا ہو گا۔