بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / مہنگائی کا طوفان ٗ 731درآمدی اشیا پر ڈیوٹی عائد

مہنگائی کا طوفان ٗ 731درآمدی اشیا پر ڈیوٹی عائد


اسلام آباد+کراچی:ایف بی آر نے چاکلیٹ،ڈیری مصنوعات ،پھل،ٹماٹوپیسٹ،ڈائپرز،میک اپ،شیمپو،پرفیوم سمیت 731 درآمدی اشیا پر 10 سے55 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی ہے۔ریگولیٹری ڈیوٹی عائد ہوتے ہی یہ 731 درآمدی اشیامہنگی ہوجائیں گی ،جن میں پالتو جانوروں کا کھانا اور ڈائپر بھی شامل ہیں، نئی ریگولیٹری کا اطلاق ہو گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق حکومت نے موبائل فون، چاکلیٹ اور میک اپ کے سامان سمیت 731 درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کردی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق تازہ اور منجمد مچھلی، خشک دودھ کی درآمد پر 25 فیصد، دہی، مکھن اور چیز پر 20 فیصد جب کہ ڈیری آئٹمز پر 15 فیصد تک ریگولیٹری عائد کی گئی ہے۔خواتین کے زیر استعمال سامان جیسے ہیئرپن اور ہیئر کرلرز پر 20 فیصد تک ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جب کہ پرفیومز، ٹوائلٹ اسپرے اور کاسمیٹکس کے دیگر سامان پر 20 سے 30 فیصد ریگولیٹری عائد کردی گئی ہے۔

اس کے علاوہ گھروں میں زیر استعمال لکڑی اور پلاسٹک کے فرنیچر پر 20 فیصد جب کہ دفتروں میں زیر استعمال لکڑی اور میٹل کے فرنیچر پر 40 فیصد ریگولیٹری عائد کی گئی ہے۔کچن کے سامان میں مائیکرو ویو اوون، فروٹ گرینڈر، مکسر اور جوسر مشین پر 20 فیصد تک ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔نئی، پرانی اور اسپورٹس گاڑیوں پر 15 فیصد سے 80 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جب کہ گھڑیوں اور مختلف قسم کے اسلحے پر 20 فیصد تک ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ چمکنے والی نمبر پلیٹس اور نشانات پر بھی 50 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔کھیلوں کے سامان میں کرکٹ بال، بیٹ، ہاکی، فٹبال، نیٹ بال، باسکٹ بال، ٹیبل ٹینس بال اور دیگر سامان پر 30 سے 50 فیصد تک ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔اس کے علاوہ چاکلیٹ، پھل، شیمپو، ڈائپرز اور پالتو جانوروں کی درآمد پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے جب کہ ریگولیٹری کا اطلاق آج سے ہی ہوگا۔

دوسری جانب ٹیکس ماہر امین ملک کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ڈیوٹی کے نفاذ کا مقصد پرتعیش اشیاء4 کی درآمدات کو کم کرنا ہے، اس طرح سے روپے کی قدر پر بڑھتا دباؤ اور بجٹ خسارہ بھی کم ہو گا۔ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بازار میں بلا وجہ پھلوں سیمت اضافی سامان درآمد کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے درآمدات میں مسلسل اضافہ اور روپے کی قدر میں دباؤ دیکھا جا رہا تھا اس لیے حکومت کی جانب سے بلا وجہ درآمدات کو کم کرنے کے لئے ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔