بریکنگ نیوز
Home / کالم / قانون پرعمل

قانون پرعمل


اگلے روز اخبارات میں ایک چھوٹی سی خبر چھپی کی لندن میں سابق پاکستانی وزیراعظم کی گاڑی کی غلط پارکنگ پر لندن کی ٹریفک پولیس نے65 پاؤنڈ جرمانہ کر دیا خبر میں البتہ یہ نہیں بتایا گیا کہ کیا گاڑی کو انہوں نے خود کسی غلط جگہ پر کھڑا کیا یا یہ غلطی ان کے کسی صاحبزادے سے ہوئی یا پھر ان کی کسی ڈرائیور سے‘ ویسے وی آئی پیز کے ڈرائیور بھی وی آئی پیز سے کم تھوڑی ہوتے ہیں پاکستان میں تو کسی سرکاری محکمے کے سیکرٹری یا وزیر یا کسی کمشنر یا ڈی سی یا کسی پولیس افسر کی گاڑی چلانیوالے ڈرائیور اپنے باس سے کسی طور بھی کم نہیں ہوتا ٹریفک کے قوانین کی جس بے دردی سے یہ لوگ دھجیاں اڑاتے ہیں اللہ کی پناہ ! حال ہی میں بلوچستان کے ایک وی آئی پی نے از خود کوئٹہ کے بھرے بازار میں سڑک پر ڈیوٹی پر موجود ایک ٹریفک سارجنٹ کو اپنی جیب کے ٹائروں کے نیچے جس طرح روند ڈالا اس کا نظارہ تو ٹیلی ویژن پر دنیا بھر نے دیکھا‘ سرکاری گاڑیوں کے ڈرائیورایک علیحدہ قسم کی مخلوق ہیں سرکاری افسروں کو تو چلو اقتدار کا نشہ ہر وقت چڑھا ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انکے ڈرائیور بھی سڑکوں پر گاڑی چلاتے کچھ اسی قسم کے نشے سے مخمور ہوتے ہیں جس جرأت کامظاہرہ لندن کی ٹریفک پولیس کے سارجنٹ نے پاکستانی وی آئی پی کی گاڑی کو غلط پارکنگ پر چالان کرکے دکھلایا اس قسم کا جرات مندانہ اقدام کا اپنے ہاں تصور میں بھی نہیں لایا جا سکتا موٹروے پولیس والے کبھی کبھار اس قسم کی جرات کا مظاہرہ کر لیتے ہیں لیکن جہاں تک صوبوں میں ٹریفک پولیس والوں کا حال ہے۔

اس پر تبصرہ نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے ان کی آنکھوں کے سامنے وی آئی پیز کے کمسن بال بچے ڈرائیونگ کرتے ہیں وہ انکو ہاتھ لگانے کی جرات کا سوچ بھی نہیں سکتے انہیں پتہ ہے کہ اگر وہ ایسی غلطی کرینگے تو چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر ان کی پیٹی اتروا کر انہیں لائن حاضر کیا جا سکتا ہے جب تک ارباب اقتدار پہلے ملکی قوانین کا اطلاق اپنے اوپر نہ ہونے دیں گے قانون کی عملداری اس ملک میں پنپ ہی نہیں سکتی جنرل گل حسن اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں کہ میں آرمی چیف تھا اور بھٹو ملک کے سربراہ‘ ہم دونوں اسلام آباد ائیرپورٹ سے ایک ہی گاڑی میں بیٹھے کہیں جا رہے تھے کہ یکدم ڈرائیور نے گاڑی کی بریک لگا دی بھٹو جو اسوقت گاڑی میں بیٹھے ایک مثل دیکھ رہے تھے فوراً بول اٹھے بھئی کیا بات ہے ڈرائیور نے کہا سر ٹریفک سگنل پر سرخ بتی جل اٹھی تھی۔

اسلئے میں نے بریک لگا کر گاڑی روکی ہے بھٹو نے کہا چلو بھئی مت رکو ہم سے کون پوچھ سکتا ہے ؟ آگے چل کر جنرل گل حسن لکھتے ہیں کہ 1947ء میں میں قائداعظم کا اے ڈی سی تھا اس وقت میں فوج میں کپتان تھا میں قائد کیساتھ گاڑی میں بیٹھا ملیر کی طرف جا رہا تھا راستے میں ایک جگہ ریلوے لیول کراسنگ کا پھاٹک پڑتا تھا جب ہماری گاڑی اسکے نزدیک پہنچی تو پھاٹک پر مامور ریلوے کا اہلکار اسے بند کر رہا تھا میں ابھی باہر نکلنے والا تھا کہ پھاٹک کے چوکیدار کو یہ کہوں کہ بھئی ہمیں گزر جانے دو کہ قائداعظم نے مجھے ایسا کرنے سے منع کردیا اور کہا کہ اگر ہم رولز کی پابندی نہیں کریں گے تو پھر ملک کے عام آدمی کو کیسے ہم کہہ سکیں گے کہ وہ قانون کی پیروی کرے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اہل مغرب قانون پر شد ومد سے اسلئے عملدرآمد کرتے ہیں کہ وہ روزانہ دیکھتے ہیں کہ انکے ارباب اقتدار ان سے پہلے قانون پر عمل پیرا ہوتے ہیں عربی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ رعایا بادشاہ کا انداز زندگی اپنانا چاہتی ہے کاش کہ ہماری زندگیوں میں وہ دن آ جائیں جب ہمارے قانون نافذ کرنیوالے ادارے اتنے متحرک اور فعال ہو جائیں کہ جتنے مغرب کے ہیں۔