بریکنگ نیوز
Home / کالم / بے جاتنقید

بے جاتنقید


جب بھی کوئی مقدمہ کسی عدالت میں پیش ہوتا ہے تو مقدمے کے فریق اپنی پوری کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے مقدمے میں ایسے وکیل پیش کریں جو اُن کے حق میں فیصلہ لانے کے اہل ہوں اور ایسے گواہان پیش کرتے ہیں جو اُن کے حق میں بیان دیں۔ عام عدالتوں میں دیکھا گیا ہے کہ گواہان کی جو لسٹ دونوں فریق دیتے ہیں عموماً ان کو پیش نہیں کیاجاتابلکہ عدالتوں میں کچھ لوگ گھوم پھر رہے ہوتے ہیں جن کو گواہی دینے کا تجربہ ہوتا ہے وہ آپ سے چند باتیں پوچھ کر آپ کے حق میں ایسی گواہی دیتے ہیں کہ فریق ثانی انگشت بدنداں رہ جاتا ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان گواہان سے ججز بھی واقف ہوتے ہیں مگر وہ ان پر کوئی جرح نہیں کرتے۔بس ان کی گواہی کو قبول کر لیتے ہیں اور ان کی گواہی پر فیصلہ دے دیتے ہیں۔ یہ عموماً ٹرائل کورٹس میں ہوتا ہے۔ یہ جج کی قابلیت پر منحصر ہے اور وکلاء کی ریپوٹیشن کی بات ہے کہ وہ فیصلہ کس کے حق میں دیتے ہیں جب فیصلہ آ جاتا ہے تو وکلاء اپنے کلائنٹس کو اگلی عدالت میں ان کے حق میں فیصلہ کروانے کی تسلی دیکر اپنے قابو میں رکھتے ہیں۔ اگلی عدالتیں عموماً ٹرائل کورٹ کے لکھے گئے فیصلے کو دیکھتی ہیں اور وکلاء اس فیصلے میں نکتے پیدا کر کے فیصلہ اپنے کلائنٹ کے حق میں کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے‘یہ وکیل کی قابلیت ہے کہ وہ کس طرح گواہوں کے بیانات اور فریق ثانی کے بیان کو اپنے حق میں کرتا ہے۔

‘بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا جج قابل وکیل کے دباؤ میں آ جاتا ہے اور مقدمے کا فیصلہ اسکے حق میں کر دیتا ہے۔ اچھے مقدمہ باز عموماً بحث میں اپنا وکیل بدل دیتے ہیں اور ایک ’تگڑے‘وکیل کی خدمات حاصل کر کے جج کو دباؤ میں لا کر مقدمہ اپنے حق میں کروا لیتے ہیں۔ مقدمہ جیسا بھی ہو اور فیصلہ جیسا بھی ہو کوئی بھی شخص فیصلے کو ٹھیک یا غلط تو کہہ سکتا ہے مگر وہ عدالت کو کبھی غلط نہیں کہتا۔ عدالت کا فیصلہ آپ کے مہیا کردہ بیانات ‘گواہان اور وکیل کی قابلیت پر منحصر ہوتا ہے۔ کوئی بھی جج جب عدالت کی کرسی پر بیٹھتا ہے اسکی آنکھیں بندوں کو نہیں دیکھتیں مقدمے کی نوعیت کو دیکھتی ہیں‘ جج کسی کا بھی دشمن یا دوست نہیں ہوتا ‘وہ قانون کا دوست ہوتا ہے اور فیصلہ قانون کے مطابق جیسا وہ سمجھتا ہے کرتا ہے۔ عدالت میںآیا ہوا کوئی بھی شخص اس کا رشتہ دارنہیں ہوتا۔ کوئی دوست نہیں ہوتا اور کوئی دشمن نہیں ہوتا۔ اس لئے کہتے ہیں کہ آپ کئے گئے فیصلے پر تو اعتراض کر سکتے ہیں عدالت اور جج پر نہیں۔ اگر فیصلہ آپ کے حق میں نہیں ہوا تو اس میں آپ کی کوتاہی یا آپ کے ایڈوکیٹ کی کوتاہی ہو سکتی ہے جج کی نہیں۔ کچھ عرصے سے رواج ہو چلا ہے کہ لوگ فیصلے کی بجائے فیصلہ کرنے والے کو برا بھلا کہنے لگے ہیں جو کسی بھی طرح مناسب نہیں کہا جا سکتا۔فیصلہ چاہے کسی بھی فریق کے حق میں ہو دونوں فریق عدالت پر نکتہ چینی کرنے لگتے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ جج انسان ہوتے ہیں وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں مگر کہیں اگر کوئی کوتاہی ہوتی ہے تو اس کا علاج بھی تو ہے کہ آپ اگلی عدالت میں جا سکتے ہیں یا اسی عدالت کو اپنا فیصلہ ریوائز کرنے کیا استدعا کر سکتے ہیں اور عدالت کو بتا سکتے ہیں کہ اُن سے کہاں سے چوک ہوئی۔

اگر آپ واقعی عدالت کو قائل کر سکیں کہ عدالت سے کچھ کمی رہ گئی ہے تو آپ کے دلائل اگر اس قابل ہیں کہ وہ عدالت کو قائل کر سکتے ہیں تو عدالتیں کبھی بھی اپنی ضد پر اڑا نہیں کرتیں۔ مگر افسوس یہ ہے کہ آج کل لوگوں نے وطیرہ بنا لیا ہے کہ وہ اپنے خلاف آئے ہوئے فیصلے پر تنقید کرنے کی بجائے عدالتوں اور ججز پر تنقید شروع کر دیتے ہیں اور اس میں وہ ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ جو کسی بھی صورت عدالت کے وقار کے مطابق نہیں ہوتی۔ یہ بات اور بھی قابل افسوس ہے کہ وکلاء حضرات اپنے کلائنٹس کو خوش کرنے کیلئے عدالتوں کے باہر عدالتیں لگا لیتے ہیں اور اس میں ایسے دلائل دیتے ہیں کہ جو وہ عدالت کے اندر دے ہی نہیں پاتے۔ جب فیصلے آتے ہیں تو فیصلہ سننے والے حیران ہو جاتے ہیں کہ ہمارے وکیل تو بڑھ چڑھ کر دلائل دے رہے تھے توفیصلہ کیسے ہمارے خلاف ہو گیا وہ نہیں جانتے کہ جج صاحب کے سامنے آپ کے وکیل صاحب کے منہ میں گھنگنیاں ڈلی ہوئی تھیں اور پھر وکیل صاحب اور ہارا ہوا کلائنٹ دونوں ہی عدالت کو کوس رہے ہوتے ہیں‘ہم حیران ہیں کہ عدالتیں آخر اس بات کا نوٹس کیوں نہیں لیتیں۔