بریکنگ نیوز
Home / کالم / کرکٹ کا بخار

کرکٹ کا بخار


کرکٹ پاکستان میں اتنا مقبول نہیں تھا جتنا کہ ہاکی‘ ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے۔ ہاکی میں پاکستان نے دنیا کے تقریباً سارے ہی ٹائٹل جیتے اور ہر میدان میں پاکستان کا نام روشن کیا جب تک ہاکی کی باگ ڈور مرحوم ائر مارشل نورخان کے ہاتھ میں رہی پاکستا ن ہاکی نے دنیا میں اپنا نام پیدا کیا‘ یہاں تک کہ کچھ ٹورنامنٹ تو پاکستان ہاکی کے ہی ایجاد کردہ ہیں‘ ائر مارشل نور خان کے بعد ہاکی ایسے ہاتھوں میں چلی گئی کہ جہاں سیاست پورے طور پر ہاکی فیڈریشن پر ہاوی ہو گئی۔ ٹیم میں ایسے لڑکے لئے جانے لگے کہ جن کو ہاکی پکڑنا بھی نہیں آتی تھی‘پرانے اولمپین اس پر کڑھتے رہے مگر ان کی سننے والا کوئی نہیں تھا‘ ہمارے وہ اولمپین ہاکی فیڈریشن کے کرتا دھرتا بن گئے جو سیاسی پارٹیوں سے وابستگی رکھتے تھے۔ انکی موجودگی میں پارٹی کے چہیتوں کو ہاکی ٹیم کا حصہ بنایا گیا جس سے ایک تو ٹیم ڈسپلن کا بیڑہ غرق ہوا اور جب ٹیم میں ڈسپلن نہیں ہو گا تو لا محالہ اس کا اثر کھل کے میدان میں بھی پڑے گا۔ ہماری ہاکی کی وہ ٹیم جس سے سارے ملکوں کی ٹیمیں گھبراتی تھیں ایسی ہوئی کہ وہ ہاکی کی دنیا میں سب سے نچلے درجے پر جا پہنچی‘مگر اس کا خیال نہ تب کسی کو تھا اور نہ ا ب کسی کو ہے‘ موجودہ ایشیائی چیمپئن شپ میں ٹیم ملائشیا جیسی ٹیم سے بھی ہار گئی اور ہندوستان جس سے ہم نے ہمیشہ ہی جیت کو مقدر کیا ایک عرصے سے ہاکی کے شائقین ترس گئے ہیں کہ ہم اپنے اس حریف سے جیت پائیں مگر صد افسوس ایسا نہیں ہو پا رہا‘ گو اب ہاکی اتنا پیسے والا کھیل نہیں رہا مگر پھر بھی اس میں پاکستانیوں کی دلچسپی ابھی تک برقرار ہے۔ایک بات یہ بھی ہاکی کے خلاف جا رہی ہے کہ آسٹروٹرف نے کھیل کو اتنا مہنگا کر دیا ہے کہ ہم اس کو سکولوں اور کالجوں کے لیول پر افورڈ ہی نہیں کر سکتے‘ یعنی ہماری نرسریاں جو ہمیں ہاکی کے اچھے کھلاڑی مہیا کرتی تھیں وہ بے کار ہو گئی ہیں جیسی اب اس کھیل کی حالت ہو گئی ہے شاید ہمیں اس کو قومی درجے سے نکالنا ہی نہ پڑ جائے۔

ادھر کرکٹ میں آمدنی کے بہت چانسز ہیں۔ اسی لئے لوگوں کا زیادہ رجحان اس کھیل کی طرف ہو گیا ہے۔کچھ عرصے تک تو اس میں بھی سیاست کو بہت زیادہ عمل دخل رہا ہے یہی وجہ ہے کہ ایک عرصے تک اس میں بھی کوئی خاص کارکردگی نہیں دکھائی جا سکی‘ بانوے کے ورلڈ کپ میں ٹیم کی جیت نے اس کھیل کو ملک میں بہت زیادہ مقبول بنایا ‘دوسرے یہ ایسا کھیل ہے جو گلی محلے میں بھی کھیلا جا سکتا ہے اس لئے اس میں کافی ٹیلنٹڈ لڑکے بھی مل جاتے ہیں مگر کیا کیا جائے کہ یہاں بھی سیاست نے اپنے قدم جما رکھے ہیں‘ چونکہ اس میں پیسہ بہت زیادہ ہے اسلئے سیاست دانوں کے چاچے مامے کے لڑکے اس کھیل میں داخل ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے اس کھیل میں بھی جرم کا عمل دخل ہو گیا ہے‘ بہت زیادہ ٹورنامنٹوں کی وجہ سے لوگوں نے اس کھیل میں جوئے کو رواج دیا ہے اور ہر بڑے ٹورنامنٹ میں بازیاں لگتی ہیں۔ خصوصاً انڈیا پاکستان کے میچ میں تو بڑی بڑی رقمیں لگائی جاتی ہیں۔

‘ جو لوگ کسی ٹیم کی جیت پر بازی لگاتے ہیں وہ دوسری ٹیم کے کھلاڑیوں کو ہارنے کیلئے بڑی بڑی رقمیں دیتے ہیں جس سے میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ نے جنم لیا ہے اور کھلاڑی دولت کی ہوس کا شکار ہو جاتے ہیں اور اپنی ٹیموں کو جان بوجھ کر ہرواتے ہیں‘ ایسے بہت سے کیس پاکستانی ‘ ہندوستانی اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں کے سامنے آئے ہیں جس سے ملکوں کی بدنامی بھی ہوئی ہے اور اچھے کھلاڑیوں کو سزائیں بھی ہوئی ہیں‘ا ب بھی بکیز ٹیموں کو نشانے پر رکھے ہوئے ہیں اور مختلف ٹورنامنٹوں میں انکو خریدتے اور ٹیموں کو ہرواتے اور اپنے پیسے بناتے ہیں۔ جوئے نے کھیل کو کھیل ہی نہیں رہنے دیااور ہر وقت اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ کوئی کھلاڑی بھٹک کر بکیز کا شکار نہ ہو جائے‘اس کے لئے ٹیموں کی تربیت میں یہ شامل کر دیا گیا ہے کہ کس طرح بکیز کے حملوں سے بچا جائے‘مگر دولت کی ہوس اتنی ظالم ہے کہ لڑکے پھر بھی بھٹک جاتے ہیں ۔ کاش لوگ کھیل کو کھیل رہنے دیتے اور اسے گھڑ دوڑ نہ بناتے۔ٹیم کے لئے اچھی بات یہ ہوئی ہے کہ اس میں نیا خون شامل ہو گیا ہے جو بہت اچھی پرفارمنس دے رہا ہے۔ اللہ کرے کہ یہ بچے بکیز کے حملوں سے محفوظ رہیں۔