بریکنگ نیوز
Home / کالم / سپاٹ فکسنگ

سپاٹ فکسنگ


کچھ کھیل ایسے ہیں کہ ان میں لوگ شرطیں لگاتے ہیں اور اس کام میں ہزاروں جیتتے اور ہارتے ہیں۔ گھڑ دوڑ اس کی عمدہ مثال ہے۔یہ انگریزوں کی ایجاد ہے۔گھوڑا ہر دور میں انسان کیلئے ایک وفادار ساتھی رہا ہے۔جنگوں میں ‘سفر میں‘ عام سواری میں اور کسی بھی شخص کی امارت کے سمبل کے طور پر گھوڑا ہمیشہ انسان کیساتھ رہا ہے‘ جب تک کہ موجودہ سفری ایجادات سامنے نہیں آئی تھیں تو گھوڑا ہی انسانی خدمت میں پیش پیش تھا۔ تیز دوڑنے میں بھی گھوڑا اپنی مثال آپ ہے اور اسکی اسی خوبی نے اسے مقابلے کی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ تقریباً ہر ملک میں ہی اسکی دوڑ مشہور ہے اسی لئے اس کی دوڑ کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں اور اس دوڑ میں جیتنے والے گھوڑے کو انعامات سے نوازا جاتا ہے‘ یہ انعامات گھوڑے کے لئے نہیں ہوتے بلکہ گھوڑے کے مالک کے لئے کہوتے ہیں کہ جس نے اپنے گھوڑے کی ایسی تربیت کی اور اتنا اس پر خرچ کیا کہ آج اس نے دوڑ میں سارے گھوڑوں کو پیچھے چھوڑا ہے‘اسی دوڑ نے لوگوں میں شرطیں لگانے کو بھی رواج دیا ہے کہ اگر فلاں گھوڑا دوڑ میں آگے رہا تو ایک فریق دوسرے کو اتنی رقم دے گا اور اگر نہ رہا تو دوسرا فریق پہلے سے اتنی رقم لے گا‘ اس کو وقت کے ساتھ قانونی بنا دیا گیا اور ہر دوڑ میں لوگ منتخب گھوڑوں پر رقم لگاتے ہیں اور اور ان کے جیتنے یا ہارنے پر ان کو ان کی لگائی گئی رقم سے زیادہ رقم ادا کی جاتی ہے ورنہ اس کی رقم ڈوب جاتی ہے۔ دوسرے کھیلوں میں بھی لوگ مختلف کھلاڑیوں پر رقم لگاتے ہیں اور اس میں بھی جیت یا ہار ہوتی رہتی ہے کرکٹ ایک ایسا کھیل تھا کہ جس میں یہ جوئے کا رواج نہیں تھا اسلئے کہ ٹیسٹ کرکٹ میں لوگ پانچ پانچ دن تک جیت یا ہار کا انتظار نہیں کر سکتے اور عموماً یہ ہوتا ہے کہ ٹیسٹ جیت ہار کے فیصلے کے بغیر بھی ختم ہو سکتا ہے۔

اس لئے اس کھیل کو کھیل ہی رکھا گیا اور اسے جینٹل مین گیم کہاگیا ‘بعدمیں اس میں نئی اختراع ون ڈے گیم کی آ گئی جو ایک دن میں جیت یا ہار پر منتج ہوتا ہے بہت کم ایساہوتا ہے کہ میچ برابر ہو جائے۔ اس لئے اس کھیل میں بھی جوئے نے اپنی راہ نکال لی‘ اس کے بعد ٹی ٹوینٹی نے تو جوئے کے لئے اور بھی آسانیاں پیدا کر دیں۔ جوئے میں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ کھیل میں استعمال ہونے والی ’’گوٹی‘‘ میں بے ایمانی کی جاتی ہے اور اسے ایسا بنایا جاتا ہے کہ ایک فریق ہی جیتے۔اس پر بہت سی لڑائیاں بھی ہوتی ہیں اسی لئے جوئے کو اسلام نے حرام قرار دیا ہے کہ اس میں ایک تو وقت ضائع ہوتا ہے اور دوسرے ایک دوسرے میں دشمنیاں پیدا ہوتی ہیں‘جس طرح جوئے میں گوٹی یا تاش کے پتوں میں بے ایمانی کی جاتی ہے اسی طرح اس کھیل کرکٹ میں بھی بے ایمانی کو داخل کر دیا گیا‘ اس میں کھلاڑیوں کو غلط کھیل کے لئے پیسے دےئے جاتے ہیں اور ان سے بے ایمانی کروا کر اپنا مطلب نکالا جاتا ہے۔ ایک عرصے تک یہ عمل بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہا مگر اب یہ راز افشا ہو گیا ہے اس لئے ہر ٹیم کو محتاط ہونا پڑتا ہے کہ اس کے کھلاڑیوں کو غلط راہ پر نہ ڈال دیا جائے کھلاڑیوں کو پھنسانے والے بندے کو بُکی کہتے ہیں‘ بکیوں کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیم کے اچھے کھلاڑی یا کھلاڑیوں کو لالچ دیکر اپنا کام نکلواتے ہیں‘ اس کو میچ فکسنگ یا سپاٹ فکسنگ کہا جاتا ہے‘ جب سے میچ فکسنگ اور سپاٹ فکسنگ کا غلغلہ ہوا ہے پاکستانی ٹیم کو خصوصاً نشانے پر رکھا گیا ہوا ہے۔

اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس ٹیم نے دوسروں سے بہتر کھیل کا مظاہرہ کیا ہے اور دوسرے لوگ نہیں چاہتے کہ ٹیم پاکستان اس کھیل میں دوسروں سے آگے نکل جائے اسلئے اس کے بہترین کھلاڑیوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔دوسرے یہ بھی ہے کہ دیگرٹیموں کے بورڈز اپنے کھلاڑیوں کا دفاع کرتے ہیں جبکہ ہمارے بورڈ کے کرتا دھرتا خود کو ایمان دار ثابت کرنے کی کوشش میں اپنے ہی لڑکوں کو عدالت میں لے جاتے ہیں اور اُن پر پابندیاں لگواتے ہیں۔ٹیم انڈیا کے بہت سے کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث پائے گئے مگر ان کا بورڈ اپنے کھلاڑیوں کی ڈھال بن گیا مگر ہمارے بہت سے بہترین کھلاڑی اسکی زد میں آئے اور کسی بُکی کے ساتھ ان جانے میں چائے پینے پر بھی ٹیم سے نکال باہر کر دیئے گئے۔ اس میں ہمارے بہترین کھلاڑی نشانہ بنے۔ آج کل ہمارے ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نشانے پر ہیں اور اُن سے آئی سی سی اور پی سی بی روزانہ انٹرویو لے رہی ہے۔ خدا خیر کرے کہیں اس کو بھی ٹیم سے نہ نکال دیں۔