بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / مجسٹریسی نظام کی بحالی کا راستہ

مجسٹریسی نظام کی بحالی کا راستہ


بعد از خرابی بسیارسہی قومی اسمبلی کی قانون وانصاف سے متعلق قائمہ کمیٹی نے انتظامی مجسٹریسی نظام کی بحالی کیلئے دستور میں 29ویں ترمیم کی منظوری دیدی ہے‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق آئین کی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری اور ایوان صدر سے توثیق کے بعد مجسٹریٹس کی تقرری شروع ہوجائیگی‘ اس ضمن میں صوبے بھی اپنے طورپرقانون سازی کرسکیں گے‘ وطن عزیز میں 16سال قبل جس ایگزیکٹو مجسٹریسی نظام کی بساط لپیٹی گئی تھی یہ دوبارہ بحال اور فعال ہونے پر مجسٹریٹس نرخناموں کی تیاری اور ان پر عملدرآمد یقینی بنانے کے ساتھ ملاوٹ کی روک تھام کے ذمہ دار ہونگے‘ مجسٹریٹس کو امن وامان کے حوالے سے ذمہ داریاں بھی تفویض ہوں گی جبکہ یہ ٹریفک مینجمنٹ میں بھی معاون ہونگے‘ سابق صدر جنرل (ر)پرویز مشرف کے دور میں متعارف کرائے جانے والے بلدیاتی نظام کیساتھ برسوں کے آزمودہ اور موثر مجسٹریسی سیٹ اپ کو فائلوں میں بند کرکے مارکیٹ کنٹرول کیساتھ بہت سارے انتظامی معاملات کو متاثر کردیاگیا‘اس سے قبل اس نظام میں میونسپل کیساتھ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی زیر نگرانی مجسٹریٹس کی ایک پوری ٹیم کام کرتی تھی‘یہ ٹیم پرائس ریویو کمیٹی کی سفارشات پرمرتب نرخنامے کی جانچ پڑتال کرتی تھی‘ خصوصی انسڑومنٹ کی مدد سے دودھ میں ملاوٹ بھی چیک کی جاتی تھی، اس آپریشنل سسٹم کو ختم کرنے پر کوئی متبادل نظام بھی ایسا نہیں دیاگیا جو عوامی مشکلات کا ازالہ ممکن بناسکتا‘ ایک ایسے وقت میں جب وطن عزیز کی معیشت کو بیرونی قرضوں اور تجارتی خسارے کے باعث دباؤ کا سامنا ہے‘ حکومت اکانومی کی بحالی کیلئے اقدامات اٹھا بھی رہی ہے‘ اقتصادی اعشاریئے مثبت سمت میں جارہے ہیں تاہم غریب اور متوسط شہری اس ساری صورتحال میں مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشانی کا سامنا کررہا ہے‘ ۔

دوسری جانب ملاوٹ کا یہ عالم ہے کہ سیوریج لائنوں سے زنگ آلود پائپوں کے ذریعے گھروں کو آنیوالا آلودہ پانی پینے والے شہریوں کیلئے دودھ اور کھانے پینے کی دیگر اشیاء صحت اور زندگی کے حوالے سے خطرہ بنی ہوئی ہیں‘ڈسٹرکٹ لیول پر انتظامیہ جتنا بھی پریشر ڈالے وہ صرف چند روز کیلئے ہی ہوتا ہے‘ اس کے بعد حالات جوں کے توں ہی رہتے ہیں‘ اس کی وجہ انتظامی مشینری میں اس حوالے سے سیٹ اپ نہ ہونا ہے‘ اس کیساتھ مارکیٹ بھجوائے جانیوالے سرکاری اہلکاروں کے پاس مطلوبہ اختیارات بھی نہیں ہوتے اور ان کیلئے مارکیٹ کنٹرول کسی طور ممکن نہیں ہوتا‘ اس ساری صورتحال میں اقتصادی شعبے میں حکومت کی اصلاحات عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں دے پاتیں‘ ایسے میں مجسٹریسی نظام کی بحالی کا عندیہ ہر لحاظ سے قابل اطمینان ہے تاہم ضرورت اس پر تمام قانونی کاروائی بروقت مکمل کرنے کی ہے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے اور لوگ اقتصادی شعبے میں حکومتی اقدامات کے ثمرات محسوس کرسکیں‘ مجسٹریسی نظام کی بحالی ایک ایسا سوال ہے جس میں براہ راست عوامی مفاد جڑا ہوا ہے‘ اسلئے قانون سازی اور دوسرے مراحل کی تکمیل میں کوئی سیاسی اختلاف حائل نہ ہونے دیاجائے اور کسی کے کوئی تحفظات وخدشات ہوں تو انہیں مل بیٹھ کر طے کیاجائے‘ اب جبکہ قوم ایک بار پھر 2018ء میں قیادت کا انتخاب کرنے جارہی ہے‘ ضرورت انتخابی عمل شروع ہونے سے قبل ہی اس نظام کو آپریشنل کرنے کی ہے تاکہ لوگ تبدیلی کا خوشگوار احساس پائیں‘ اس مقصد کیلئے سینئر سیاسی قیادت کو اپنے ارکان پارلیمنٹ کو مجسٹریسی سسٹم کی بحالی کا کام خصوصی ٹاسک کے طورپر دینا ہوگا۔