بریکنگ نیوز
Home / کالم / آصف نثار / سرکاری دھرنا

سرکاری دھرنا


خیبر پختونخواحکومت نے آخر کار تنگ آمدبجنگ آمدکے مصداق صوبائی حقوق اور مرکز کے ذمے صوبہ کے واجبات کی عدم ادائیگی کے بعداسلام آبادمیں سرکاری دھرنے کااعلان کردیاہے جس کی قیادت وزیر اعلیٰ پرویز خٹک خود کریں گے اس سلسلے میں صوبائی اپوزیشن جماعتیں اسمبلی کے فلور پر پہلے ہی صوبائی حکومت کو اپنی بھرپور حمایت کی یقین دہانی کراچکی ہیں جس کے بعداب چند دنوں میں حکمت عملی وضع کی جائے گی۔ طویل اور صبر آزما سیاسی مشکلات اور سانحات سے گزر کر بالاخر وہ مرحلہ بھی آگیا جب ملک کو متفقہ آئین نصیب ہوا اور جس میں اس امر کو یقینی بنایا گیا کہ اب کسی صوبے کے ساتھ زیادتی ہوگی نہ ہی امتیازی سلوک روا رکھا جائیگا‘آئین میں مساوات، برابر اور انصاف کی ضمانت دی گئی شاید یہی وجہ تھی کہ تشکیل آئین کے وقت قوم پرست قوتوں نے آئین میں دی جانے والی ضمانتوں سے مطمئن ہو کر وسیع صوبائی خود مختاری کے مطالبے سے دستبرداری اختیار کر لی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر وفاق کی اکائیاں مطمئن ہوں تو وفاق مضبوط ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے اسلام آباد کے پالیسی سازوں نے ماضی کو یکسر فراموش کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر صوبوں کے ساتھ معاندانہ رویئے اختیار کر لئے اور اگر اس حوالے سے خیبرپختونخوا کی بات کی جائے تو اس کے ساتھ بظاہر نا انصافی ہورہی ہے۔

بجلی منافع کا معاملہ یا پھر گیس کی رائلٹی کا قضیہ، صوبے کے حصے کے پانی کا ایشو ہو یا پھر گوادر کاشغر اقتصادی راہداری کا مسئلہ، ہر بار خیبرپختونخوا کو نظر انداز کیا گیا اور اس کے حصے میں صرف اور صرف محرومیاں ہی آئیں ایسا محسو س ہوتاہے کہ کچھ نادیدہ ہاتھ ایک مرتبہ پھروطن عزیزمیں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے سرگر م ہوچکے ہیں اور ہمارے حکمرانوں کی عاقبت نااندیشی ان کی حوصلہ افزائی کاسبب بن رہی ہے کیونکہ ایک ایسے مرحلہ کہ جب ملک کو سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے وفاقی حکومت کے بعض بزرجمہر حالات کی سنگینی کو نظر انداز کرتے ہوئے صوبوں کی محرومیوں میں کمی کے بجائے ان میں اضافہ کاباعث بنتے جارہے ہیں جس کی وجہ آج ایک صوبائی حکومت دھرنے کی تیاریوں میں مصروف ہوچکی ہے پہلے سے اسلام آبادمیں ناموس رسالت کے نام پر ایک جماعت کادھرنا جاری ہے نو اکتوبر کو قبائلی عوام بھی اپنے حقوق کے لیے دھرنا دے چکے ہیں اور اب خیبر پختو نخوا حکومت بھی میدان میں اترنے والی ہے اس کیساتھ تمام اپوزیشن جماعتیں بھی ہونگی جبکہ قبائلی عوام بھی ایک مرتبہ پھرمیدان گرم کرسکتے ہیں ان حالات میں اب وفاق پربھاری ذمہ داریاں عائدہوتی ہیں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس وقت بیرونی قوتوں کی چالوں کوناکام بنانے کے لیے سرگر م ہیں اور خارجہ محاذپر مکمل یکسوئی اور وسیع ترسیاسی حمایت کی ضرورت سے انکار ممکن نہیں جس کے بعدیہ توقع رکھی جانی چاہیے کہ وہ خودہی اس حوالہ سے میدان میں آکر صوبہ کے واجبات اوردیگر مسائل کے معاملہ میں جاندار کردار ادا کرکے صوبائی حکومت اور صوبہ کی سیاسی قیادت کو مطمئن کرنے کی کوشش کریں گے۔

‘ شاہد خاقان عباسی ایک جہاں دیدہ سیاست ہونے کے ناطے ان تمام معاملات کو بخوبی سمجھتے ہیں جو مرکز اور صوبوں کے درمیان غلط فہمیوں اور نزاع کا باعث ہیں،کیونکہ وہ کئی حکومتوں میں رہے ہیں اس لئے ان معاملات کو سلجھانے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں اور جہاں تھوڑے دنوں میں انہوں نے اپنے کام کرنے کے انداز سے سب کو متاثر کیا ہے ادھر دیرینہ مسائل کو حل کرکے وہ یہ نیک نامی بھی سمیٹ سکتے ہیں کیونکہ اس وقت باہمی اتفاق و اتحاد کی اشد ضرورت ہے سی پیک کے خلاف امریکہ کی قیادت میں عالمی او ر علاقائی صف بندی مکمل ہوچکی ہے اور افغانستان میں امریکہ کی ناکامی کاملبہ پاکستان پر ڈال کراسکی مشکلات میں اضافہ کی تیاریاں ہورہی ہیں ان حالات میں ملک کسی سرکاری دھرنے کامتحمل نہیں ہوسکتا اور بہتر یہی ہوگا کہ ایسے اقدامات کیے جائیں کہ اس دھرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک اس وقت نازک موڑ پر ہے اور مسائل کو ہڑتالوں اور دھرنوں کی بجائے مل بیٹھ کر میز پر حل کرنے کی پہلے بھی ضرورت تھی اور آج بھی ہے، اگر نیت صاف ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ گھمبیر اور پیچیدہ مسائل بھی خوش اسلوبی سے حل ہوں اور وفاق اور صوبوں کے درمیان غلط فہمیوں کا خاتمہ ہو۔