بریکنگ نیوز
Home / کالم / شبیرحسین امام / منطق‘ دلیل اور مہنگائی

منطق‘ دلیل اور مہنگائی


پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی ردوبدل کا روزمرہ اشیاء پر کئی سو گنا اثر ہوتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ عدالت عظمیٰ اور احتساب مقدمات کا سامنا کرنے والی وفاقی حکمران جماعت نے عوام کے صبر کا امتحان لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک ماہ قبل وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پٹرول اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں دو روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا اور چند ہفتوں بعد اکتیس اکتوبر کے دن یہ اعلان سامنے آیا کہ اوگرا کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پانچ روپے انیس پیسے تک اضافہ کرنیکی سفارش کو منظور کر لیا گیا‘ جس کے بعد ’مٹی کے تیل جیسی اس بنیادی ضرورت کی قیمت بھی چار روپے فی لیٹر بڑھ گئی ہے‘ جس سے غریبوں کے گھر کا چولہا جلتا ہے! اسی طرح اشیائے خوردونوش کی نقل وحمل میں استعمال ہونے والا ایندھن لائٹ ڈیزل دو روپے فی لیٹر مہنگا کرنے سے بنیادی ضروریات کی ہر شے مہنگی ہو جائے گی! تصور کیجئے ایک طرف ہمارے حکمران ہیں کہ جن کی بیماریوں کا علاج بیرون ملک ہوتا ہے۔ جس عمر میں پاکستانیوں کے بچے اپنا نام نہیں لکھ سکتے اس میں حکمران خاندانوں کی اولادیں بیرون ملک اربوں کھربوں روپے کے اثاثہ جات کی مالک بن جاتی ہیں۔ ایک طرف غربت ہے جو‘ ہر گھڑی بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف سرمایہ دار ہیں جن کے اثاثہ جات میں ہر دن اضافہ ہو رہا ہے اور انہیں پاکستان میں مہنگائی کی شرح تو کیا یہاں بنیادی سہولیات کے فقدان سے بھی کوئی غرض نہیں پیٹرولیم مصنوعات میں قیمتوں کا منفی اثر ملک کی مجموعی قومی خام پیداوار پر نمایاں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ توانائی کی کمی سے پیدا ہونیوالا بحران اپنی جگہ ایک ایسی حقیقت ہے ۔

جس سے مسلسل انکار سے قومی اقتصادی ترقی کی رفتار متاثر ہو رہی ہے رواں ہفتے پاکستان میں تعینات ایران کے سفیر مہدی ہنردوست نے ہنرمندی سے زیادہ دانشمندی سے کام لیتے ہوئے قومی اسمبلی کے سپیکر ایاز صادق اور اسلام آباد ایوانہائے صنعت و تجارت کے اراکین سے ملاقاتوں میں مؤقف دہرایا کہ اگرپاکستان چاہے اور معاہدہ کرے تو ایران پاکستان کو فوری طور پر ایک ہزار سے تین ہزار میگاواٹ سستی بجلی فراہم کرنے کیلئے تیار ہے۔ ایران کا گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے توانائی بحران پر قابو پانے کا فوری حل ہے‘لیکن ہمارے حکمران ’میڈ ان ایران‘ حسب ضرورت بجلی خریدنے کے لئے بھی تیار نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے امریکی صدر ٹرمپ کے ماتھے پر شکنیں نمودار ہو سکتی ہیں جو پہلے ہی دھمکیاں دے رہے ہیں! پاکستان توانائی کے بحران میں اس قدر شدت سے مبتلا ہوا کہ اس سے نکلنے کیلئے اب تک زبانی کلامی ہی کوشاں ہے۔ حکمران جانتے ہیں کہ توانائی کے بغیر صنعتی ترقی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا‘ لیکن وہ صنعتی ترقی کے بارے بلندبانگ دعوے کرنیکا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے‘پٹرول اور گیس کے پاکستان میں ذخائر ضرور موجودہیں جو ضروریات سے کم ہیں۔ ذخائر کو دریافت کرنیکی ہمارے پاس مہارت بین الاقوامی سطح کی نہیں۔ یوں ہم اپنے ہی وسائل سے پوری طرح مستفید نہیں ہو سکے جبکہ توانائی کا بحران سرمایہ کاری کے راستے میں دہشت گردی ہی کی طرح رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ بجلی کی پیداوار میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے مگر اب بھی ضرورت کے مطابق نہیں ہے۔ ایسے میں ایران کی بجلی کی فراہمی کی پیشکش پر غور کیا جا سکتا ہے‘ ایران اور پاکستان کے مابین گیس پائپ لائن کا معاہدہ موجود اپنی جگہ اور سردخانے میں پڑا ہوا ہے۔ ایران نے اپنی طرف سے کروڑوں ڈالر کی لاگت سے گیس پائپ لائن بچھا دی ہے تاہم امریکہ کے دباؤ پر اس معاہدے کی تکمیل سے بھی گریزاں ہیں‘ ۔

امریکہ نے ایران پر عائد پابندیاں اُٹھا لیں‘ اسکے اربوں ڈالر کے اثاثے واگزار کر دیئے مگر ہم ایران کیساتھ معاہدوں کی تکمیل سے قاصر رہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ پاکستان کے وسیع تر مفاد میں آج بھی ہے لیکن اگراس وسیع ترمفاد کو قومی ضرورت کے تناظر میں سمجھا جائے مگر ایران سے بجلی و گیس اور سستے داموں پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کو پس پشت ڈال کرتاپی منصوبے کی تکمیل جیسے سراب میں حقیقت تلاش کی جا رہی ہے۔ تاجکستان‘ افغانستان‘ پاکستان‘ بھارت تاپی منصوبے کا حصہ ہیں اور جہاں بھارت ہوگا‘ وہاں پاکستان کیلئے خیرخواہی کی توقع کرنا ہی گمراہی ہے۔ امن و امان اور بھارت دوستی میں آخری حد تک جانے والے افغانستان کے مخدوش داخلی حالات کی وجہ سے تاپی پائپ لائن منصوبہ کبھی بھی محفوظ نہیں ہوگا توکسی ایسے منصوبے میں کیونکر امیدوں اور توقعات کی بھی سرمایہ کاری کرکے خود کو دھوکہ دیا جارہا ہے جو عملاً ممکن ہی نہیں‘ ہم سب دل سے جانتے ہیں کہ افغانستان سے گزرنے والی تاپی پائپ لائن کبھی محفوظ نہیں رہ سکے گی اور پھر بھارت کا اس منصوبے میں شامل ہونا منصوبے کے ناقابل عمل ہونے کی بڑی دلیل ہے۔ پاکستان کی بہتری اور فوری طورپر توانائی ضروریات ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدے کو بلاتاخیر انجام تک پہنچانا ہے اور جہاں ایران کی جانب سے سستی بجلی کی فراہمی کی پیشکش کی جا رہی ہے تو ایسی کسی پیشکش سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا جا رہا؟۔