بریکنگ نیوز
Home / پاکستان / پاکستان کھاد برآمدکرنے والا ملک بن گیا

پاکستان کھاد برآمدکرنے والا ملک بن گیا


اسلام آباد۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک بھر میں صنعتی شعبے کو گیس اور بجلی فراہم کی جارہی ہے،ہمیں سخت محنت سے توانائی کے شعبے میں مزید ترقی کرنی ہے،توانائی کے شعبے میں ہم نے وہ کام کیے جو کسی اور نے نہیں کئے،پاکستان کھاد درآمدی ملک سے برآمدی ملک بن گیا ہے،گیس کو ہماری توانائی کی ضرورت پورا کرنے میں کلیدی حیثیت حاصل ہے، تاپی گیس منصوبہ عملدرآمد کے مراحل میں ہے۔

ایران ، اکستان گیس پائپ لائن منصوبہ عالمی پابندیوں کے باعث التواء کا شکا ر ہے، فرنس آئل سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹس کو گیس پر منتقل کیا جارہا ہے۔جمعرات کو پاکستان تیل وگیس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ توانائی کے شعبے میں کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مثبت تجاویز کی ضرورت ہے۔این ای ڈی یونیورسٹی اور پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کی اس حوالے سے کوشش قابل قابل ستائش ہیں۔

2013میں حکومت سنبھالی تو بجلی اور گیس کے بحران کاسامنا تھا، توانائی ماہرین کی طرف سے مسئلے کے حل کے کیلئے مناسب تجاویز نہیں دی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے توانائی کے شعبے میں کام شروع کیا۔آج ملک بھر میں صنعتی شعبے کو گیس اور بجلی فراہم کی جارہی ہے،پاکستان کھاد درآمدی ملک سے برآمدی ملک بن گیا ہے۔توانائی کے شعبے میں ہم نے وہ کام کیاہے جو کسی اور نے نہیں کیے۔

3600میگاواٹ کے آرایل این جی منصوبے لگائے گئے۔18ماہ کی قلیل مدت میں ٹرمینل پائپ لائن، ٹرانسمشن لائن، بچھار کر بجلی گھروں کو فعال کیا۔آج ملک میں تیل کی پیداوار اور یومیہ ایک لاکھ بیرل یومیہ سے تجاویز کرگئی ہے۔ ہمیں سخت محنت سے توانائی کے شعبے میں مزید ترقی کرنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبارنہیں نہیں ہم نے پالیسی سازی میں تعاون کرنا ہے۔تیل کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں تبدیل لائی گئی ہے۔

پیٹرول کو رون 87رون 92منتقل کیا۔ڈیزل کو بھی یوروح میں منتقل کیا۔رون92اور ڈیزل یورو 2منتقلی پر کوئی اضافی خرچ نہیں آیا ، سی این جی اور ڈیزل کو ری ریگولیٹ کردیا ہے۔ مقامی تیل کی ترسیل کے لیے پائب لائن بچھارہے ہیں۔گیس کو ہماری توانائی کی ضرورت پورا کرنے میں کلیدی حیثیت حاصل ہے،2لاکھ 50ہزار بیرل یومیہ پیداوار صلاحیت کی ریفائنری کراچی میں بن رہی ہے،ملک کے وسط میں بھی2لاکھ50ہزار بیرل یومیہ صلاحیت کی حامل ریفائنری پر بھی کام ہورہا ہے۔

ہم ایم اعشاریہ 2 بی سی ایف ڈی گیس درآمد کرینگے۔انھوں نے کہا کہ 3ایل این جی ٹرمینل تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ایس ایس جی مقامی گیس سے زیادہ درآمدی گیس فراہم کرے گی۔ تاپی گیس منصوبہ عملدرآمد کے مراحل میں ہے۔4سے 5 سال میں تاپی گیس منصوبے کی تکمیل متوقع ہے۔ایران، پاکستان گیس پائپ لائن منصوبہ عالمی پابندیوں کے باعث التواء کا شکار ہے۔

ڈیزل سے مہنگی بجلی پیداکرنے والے پلانٹس کو بندکیا ہے۔ فرانس آئل سے چلنے والے پلانٹ کم کارکردگی کے حامل اور آلودگی پیداکرتے ہیں۔ موثر فیول مکس کے لیے ماہرین تجاویز دیں ۔فرانس آئل سے بجلی پیدا کرنے کے پلانٹس کو گیس پر منتقل کیا جارہا ہیتھراور درآمدی کوئلے سے بجلی پیداکرنے کے منصوبوں پر توجہ دے رہے ہیں۔قابل تجدیدی توانائی اسی صورت قابل عمل ہے جب اس کی لاگت متبادل توانائی دے کم ہو۔