بریکنگ نیوز
Home / اداریہ / فاٹا اصلاحات کیلئے کمیٹی کا قیام

فاٹا اصلاحات کیلئے کمیٹی کا قیام


خیبر پختونخوا کی ایپکس کمیٹی کے48 ویں اجلاس میں فاٹا اصلاحات کے عمل کو فعال بنانے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ اجلاس کی کاروائی سے متعلق مہیا تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ بھی کیاگیا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے سے قبائلی علاقوں کو مستفید کرنے کیلئے بھی تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ فاٹا اصلاحات پر عملدرآمد کے حوالے سے اقدامات میں تیزی لانے سے متعلق باڈی کا قیام ایپکس کمیٹی کے احساس کا عکاس ہے۔ عین اسی روز جب ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہو رہا تھا تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے حکومت کو فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام پر پالیسی واضح کرنے کیلئے دس روز کی ڈیڈ لائن دی۔ انہوں نے این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کے شیئر پر بھی حکومتی موقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قبائلی علاقوں میں اصلاحات سے متعلق حکومت کی جانب سے کمیٹی کی سفارشات آنے کے بعد قبائلی علااقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور دیگر امور سے متعلق دیاجانے والا شیڈول کافی طویل تھا جس کے ساتھ سرکاری اداروں میں معاملات نمٹانے کی رفتار اپنی جگہ ایک سوال ہے۔

فاٹا اصلاحات پر سامنے آنے والے تحفظات سے متعلق سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسی وقت ان تحفظات و خدشات کو بات چیت کے ذریعے دور کرنے کی ہدایت جاری کی بعد میں اصلاحاتی عمل میں سست روی پر بات دھرنوں تک پہنچی اور حکومت کی جانب سے بعض یقین دہانیاں کرائی گئیں۔ ایک ایسے وقت پر جب قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے اعلان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے اس ایوارڈ سے متعلق بات چیت میں فاٹا کیلئے وسائل مختص کرنے کے حوالے سے وفاق اور صوبوں کے اپنے اپنے موقف موجود ہیں اور ان پر بھی بات ہونی ہے۔ وفاقی حکومت کو اصلاحات کے حوالے سے تحفظات بات چیت کے ذریعے دور کرنے اور اصلاحاتی عمل میں تیزی کیلئے اقدامات اٹھانے چاہئیں اس مقصد کیلئے خیبرپختونخوا کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں جس کمیٹی کے قیام کا فیصلہ کیاگیا ہے۔ اسے زیادہ سے زیادہ موثربناتے ہوئے اوور سائٹ کی ذمہ داریاں بھی دی جا سکتی ہیں تاکہ قبائلی علاقوں میں تعمیر وترقی کیساتھ سی پیک کے ثمرات بھی سمیٹے جا سکیں اور یہاں کے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات مل سکیں۔

پینے کا صاف پانی؟

پاکستان سوسائٹی آف ہیپاٹالوجی کے زیر اہتمام 17 ویں سالانہ کانفرنس آج پشاور میں شروع ہو رہی ہے۔ کانفرنس کا موضوع امراض جگر کے روزمرہ چیلنجز ہے۔ جگر کی بیماریوں سے متعلق تکنیکی مواد تو کانفرنس ہی میں پیش ہوگا اس وقت پشاور سمیت ملک بھر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی ایک بڑے سوال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ بڑے شہروں میں پانی کی زنگ آلود پائپ لائنیں جو جگہ جگہ سے رس رہی ہوتی ہیں اکثر نالیوں اور گٹروں میں سے گزرتی ہیں اس کے ساتھ کھانے پینے کی اشیاء خصوصاً دودھ میں کیمیکلز کی ملاوٹ سے متعلق شکایت عام ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ کانفرنس عام شہری کو صحت کے حوالے سے درپیش ان اہم امور پر آگہی کیساتھ ذمہ دار اداروں کیلئے گائیڈ لائن بھی دے تاکہ جگر کیساتھ دیگر بیماریوں سے بچنے میں مدد ملے۔ کانفرنس میں ماہرین کی جانب سے ہونے والی نشاندہی اور اصلاح احوال کی سفارشات پر عملدرآمد کیلئے بھی اقدامات ناگزیر ہیں۔