بریکنگ نیوز
Home / کالم / سنجیدگی کی ضرورت

سنجیدگی کی ضرورت


کبھی کہا جاتا تھا کہ سینما میں جو مار کٹائی کے سین دکھائے جاتے ہیں اس سے نوجوانوں میں درندگی کے جراثیم داخل ہو جاتے ہیں اور نوجوان ہر طرح کی برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ہمارے لڑکپن میں ہمارے بڑے سینما میں جا کر فلم دیکھنا معیوب سمجھتے تھے جس کی وجہ سے ہم دیہاتی سینما سے دور ہی رہتے تھے۔ٹیلی ویژن کے گھر میں آنے کے بعد حالات بدل گئے ہیں ۔ اب تو گھر گھر میں سینما موجود ہے جو چوبیس گھنٹے آپ کو ہر طرح کے پرتشدد واقعات سے آگاہ کرتا رہتا ہے۔ کچھ عرصے تک تو یہ پر تشدد واقعات کی وارداتیں بھی دھڑلے سے دکھائی جایا کرتی تھیں مگر بعد میں کچھ پابندیاں لگائی گئیں کہ پر تشدد واقعات کی فلم نہ دکھائی جائے مگر جب پوری دنیا کے چینل آپ کے ریموٹ کنٹرول کا ایک بٹن دبانے سے آپ کے ٹی وی پر آ جائیں تو پھر حکومتیں بے بس ہو جایا کرتی ہیں۔ یوں ہمارے نوجوان جب چاہیں اور جس طرح کا پروگرام دیکھنا چاہیں ان کو ہر وقت میسر ہو تا ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ برائی والی سمت میں بہت آسانی سے نکل پڑتا ہے اور نیکی کی جانب اس کاکم ہی جانے کو جی چاہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے نوجوان ان فلموں کے زیر اثر کہ جو ٹی وی پر دکھائی جاتی ہیں ایک قسم کے ہیجان میں مبتلا ہو چکے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی انڈسٹریل ایریا میں ہر روز ایک نہ ایک کارخانہ نذر آتش کر دیا جاتا ہے ۔

اور کارخانوں کا جل جانا بے روزگاری ہی کو جنم دیتا ہے اور جب لوگ بے روزگا ہو جاتے ہیں تو انکو اپنااور اپنے بچوں کا پیٹ پالنے کیلئے کوئی دوسرے راستے تلاشنے پڑتے ہیں اور یہ بھی ہمارے ٹی وی کی مہربانی ہے کہ وہ دن بھر خبروں میں وہ واقعات بتاتا رہتا ہے کہ جس میں بے روزگار لوگ اپنے لئے روزگار تلاش کر لیتے ہیں ‘کسی بھی شاہراہ پر پہلے تو اُس کے کم رش والے علاقے میں چھینا جھپٹی ہوتی تھی مگر اب یہ مصروف ترین راہوں پر بھی عام ہوتی جاتی ہے۔نوجوان جو ایک عرصہ اپنی تعلیم حاصل کرنے میں صرف کرتے ہیں جب پریکٹیکل لائف میں آتے ہیں تو ان کو روزگا رکے حصول میں انتہائی دقت پیش آتی ہے۔ ایک تو مواقع نہ ہونے کی وجہ سے اور دوسرے اگر کہیں کوئی موقع پیدا ہوتا بھی ہے تو وہاں کسی کے چاچے مامے کا بیٹا پہلے سے جگہ لے چکا ہوتا ہے۔ایک ویکنسی کے لئے ہزاروں امید وار پہنچے ہوتے ہیں اور جب رزلٹ نکلتا ہے تو ایک ایسے آدمی کو وہ سیٹ مل جاتی ہے جس نے انٹر ویو تک بھی نہیں دیا ہوتا۔ اس سے جو فرسٹریشن نوجوانوں میں پیدا ہوتی ہے یہ ان کو جرائم کی دنیا میں لے جاتی ہے۔ اس طرح سے جرائم کی دنیا میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب حکومت کا حال بھی پتلا ہے۔حکومتی پارٹی کے سربراہان عدا لتوں کی زد میں ہیں۔

روز کسی نہ کسی کے قابل ضمانت اور ناقابل ضمانت وارنٹ نکل رہے ہیں۔وزیر خزانہ بھی وارنٹوں کے گھیرے میں ہیں۔ ایسے میں امور مملکت خصوصاً امور خزانہ کا جو حال ہو رہا ہے اس کا معلوم ہی ہے۔یوں تو کہا جا رہا ہے کہ امور مملکت بڑے اچھے طریقے سے چلائے جا رہے ہیں مگر عام آدمی ان اچھے طریقوں میں پس رہا ہے۔حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے ٹیکسوں کا ہدف بھی پورا نہیں ہو رہا اور ٹیکس گوشواروں کے لئے مدت میں اضافہ کیا جا رہاہے مگر بد انتظامی کی وجہ سے امیدکی جا سکتی ہے کہ گوشوارے وقت پر داخل نہیں ہو سکیں گے۔ اس لئے کہ جب حکومت میں ابتری ہو تو عوام بھی لیت و لعل کی دنیا میں نکل جاتے ہیں کارخانوں کی بندش اور حکومت میں نوکریوں کی نا پید گی نے نوجوانوں میں جو بے اعتمادی پید اکی ہوئی ہے وہ خطرناک ہوتی جا رہی ہے جس کے تدارک کا سوچنا ہو گا ورنہ یہ کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتا ہے سیاسی پارٹیوں کو بھی سوچنا ہو گا کہ ان کے اقتدار میںآنے کی صورت یہی ہے کہ ملک میں استحکام ہو اور ہڑتالوں اور دھرنوں کی سیاست کو چھوڑ کر الیکشن کی تیاریاں کی جائیں اور نوجوانوں میں اعتماد پیدا کیا جائے اور نوکریاں پیدا کی جائیں تا کہ نوجوانوں کو غیر فطری راہوں سے واپس لایا جا سکے الیکشن میں ابھی کافی وقت پڑا ہے اسلئے اس وقت کو اس طرح گزارا جائے کہ ملک میں ہنگامے نہ ہوں۔